کویتی عورتوں کو خوبصورت مرد خریدنے کی اجازت ملنی چاہیے،سِلوا المطائری

karachi-liyari_400

چند دن پہلے کویت میں اس وقت ہل چل مچ گئی جب کویتی مردوں کو داشتہ ساتھ رکھنے کی اجازت ملی تھی۔ جس کے رد عمل میں سابق قومی اسمبلی کے امیدوار اور انسانی حقوق کے سر گرم کارکن سلوا المطائری نے مطالبہ کیا ہے کہ کویتی عورتوں کو بھی مسلمان ملکوں سے خوبصورت مرد خریدنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ تاہم اس طرح کے مردوں کو غلام کی حیثیت حاصل ہو۔ انکا کہنا تھا کہ جنگوں سے متاثرہ ممالک کے افراد بھی اس مقصد کیلئے  خریدے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے چچنیا سے جنگ سے متاثرہ روسی افراد کو خریدنے کا مشورہ بھی دیا۔
اس حوالے سے سِلوا  المطائری نے مسلم معاشرے سے خلیفہ ہارون الرشید کی مثال دی جس کے حرم میں دو ہزار خواتین موجود تھیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ تاریخی اور  اسلامی روایات کا حصہ ہے۔ غلام مرد کے خصوصیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے المطائری کا کہنا تھا کہ وہ خوبصورت نرم دل اورتہذیب یافتہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے مردکو مسلمان ہونا چاہیے اور اگر وہ مسلمان نہیں ہے تو اسلام قبول کرنا اس کے لیے لازمی قرار دی جائے۔
انہوں نے وضاحت پیش کی کی کہ کویتی عورتیں اپنے مردوں کا انتخاب ان کی تصویر دیکھ کر کریں گی، ایسا کرنے سے کویت کے معاشرتی حالات بہتر ہونگے۔ انہوں نے پیشکش کی اگر مجھے قانونی طور پر اجازت دی جائے تو میں یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوں ۔ میں یورپ اور ایشیا کے مسلم آبادیوں میں سے ایسے مردوں کا انتخاب کروں گی جن میں کویتی عورتوں کو مطمئن کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔ مردوں کے انتخاب کیلئے مسلم ممالک کے اخبارات میں ضرورت خاوند برائے خواتین کے اشتہار دینے پر گور کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ایسے مردوں کو مسلما ہونا چھیے یا اسلام قبول کرنا ہوگا۔
المطائری کا دعویٰ ہے کہ ایک سابق وزیر نے ان کو شادی کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ شخص عمر میں ان سے تیس سال بڑا تھا جبکہ المطائری چاہتی ہے کہ وہ کسی جوان اور خوبصورت یورپی مرد سے شادی کرے گی چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو۔
سِلوا  المطائری کے یو ٹیوب پر بیانات پر کویت اور مشرق وسطی کے ممالک میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔، اس حوالے سے انٹرنیٹ کی سائٹس اور  اخبارات میں ایک طوفان کا آغاز ہو چکا ہے۔ دریں اثنا اسلامی سکالر الانصاری کا کہنا ہے کہ عورتوں کا اس طرح غلام خریدنا پرانی روایت ہے اور یہ موجودہ وقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ شیریں مظاری نے ان کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دہیا ہے، جبکہ مختلف مفتی صاحبان میں غلامی کی تعریف پر ایک طویل مکالمے شروع ہو چکا ہے۔

سِلوا   کی تجویز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر متضاد ردعمل سامنے آیا ہے، بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے قانون سے انسان کی ملکیت کے حوالے سے بہت سے مسائل شروع ہو جائیں گے۔

کویتی عورتوں کو خوبصورت مرد خریدنے کی اجازت ملنی چاہیے،سِلوا المطائری” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 4, 2016 at 12:08 AM
    Permalink

    اس حرام زادي كو خدا غارت كرين جو اس طرح كا عقيده ركهتي هو جوانساني عقل سيي ماورا اور اسلام سيي كوئ تعلق نه درحقيقت يه ازادي نهين بلكه يه غلامي اور انگيز كتون كو خوش كرنا هيي .... جمهوريت وقت هيي زاني عورتين ... جوبچه ديگئ حرام هي ديگئ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *