ملتانی کھسہ 

razia syed

عید کے دن قریب تھے اور بازاروں میں خریداری اپنے عروج پر تھی ، ہم سب بچوں کی تیاریاں تقریبا مکمل تھیں صرف جوتے لینے تھے ، ہمارے موڈ سخت خراب تھے کیونکہ ابو کے پاس ہمیں بازار لیجانے کا وقت نہیں تھا ۔
ہم روز اپنے بسورتے منہ لے کر امی کے پاس جاتے اور وہ ہمیں دلاسہ دیتے ہوئے ابو سے شکایتا کہتیں ’’ آپ روز بچوں کو جوتے دلانے بھول جاتے ہیں اب ایسی بھی کیا مصروفیت ؟‘‘ابو مسکراتے ہوئے کہتے ’’ اس دفعہ ان کو ایڑھی والے جوتے نہیں بلکہ کھسے لے کے دینے ہیں ، میں تو نئے ڈیزائین آنے کا انتظار کر رہا تھا ، بس آج ان سب کو تیارہونے کو کہہ دینا ۔‘‘
شام ہونے سے پہلے ہی ہم سب سر جوڑے بیٹھے تھے خیر ہم سب ابو کے ساتھ چلتے ہوئے ایک بڑی دکان کے سامنے رک گئے جہاں ’’ کھسہ محل ‘‘ لکھا تھا ابو نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ راولپنڈٰی میں کھسوں کی سب سے پرانی اور واحد دکان ہے ،
دکان میں جا بجا خوب صورت گوٹے کناری اور تلے کے کام والے کھسہ موجود تھے اور مزے کی بات یہ تھی کہ شادی کی شیروانیوں کے ساتھ میچنگ کھسے بھی موجود تھے ۔

’’ کھسہ محل ‘‘ کے مالک کا نام ساجد انکل تھا وہ ابو سے کہنے لگے ’’شاہ جی آپ کی اپنی دکان ہے ، بچوں کو اگر کچھ پسند نہیں آتا تو گودام سے اپنی پسند کے کھسے لے لیں ۔‘‘

khussa

اس دکان کی ایک خاصیت یہ تھی کہ اس کے نیچے ایک بڑا سا گودام بھی تھا جہاں تازہ چمڑے کی بو پھیلی ہوئی تھی ، سنہری اور سلور تار جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھےجبکہ کئی موتی اور کئی طرح کے دھاگے بھی تھے ، اور آٹھ دس کاریگر کئی ہاتھوں سے اور کئی مشنیوں پر کھسے تیار کر رہے تھے ، ہم سب بہت خوش تھے کہ واہ بھئی اس بار تو عید پر مزے ہو گئے ۔
آج کل کے دور کے برعکس ہم ایسے بچے تھے جنہیں چیزوں کے بارے میں تجسس ہوتا ہے ۔
ساجد انکل ابو کو اوپر دکان پر بٹھا کر ہمارے ساتھ موجود تھے ہمیں کہنے لگے ’’ بچہ لوگ آزادی سے گھومو اور یہ صدیق انکل ہیں جو یہاں سب سے پرانے کاریگر ہیں آپ ان سے جو پوچھنا چاہو پوچھ لو ۔‘‘ انھوں نے وہاں کونے میں موجود ایک بزرگ شخص کی طرف اشارہ کیا ۔
صدیق انکل ہمیں بتانے لگے کہ ’’ بیٹا ایک کھسہ بارہ دن میں تیار ہوتا ہے جبکہ صرف دو کھسے ایک کلو چمڑے سے تیار ہوتے ہیں شادیوں پر کھسوں کے لئے آرڈر دئیے جاتے ہیں اور بچو سب سے اچھا کھسہ وچھی ( بچھڑی) کی نرم کھال کے چمڑے سے تیار ہوتا ہے ۔ ‘‘
ابھی ہم یہی باتیں کر رہے تھےکہ رباب ایک ایڑھی والا کھسہ لے آگئی اور انکل سے پوچھنے لگی ’’انکل اسکی ایڑھی کیوں ہے اور یہ تو شاید جینٹس ہے کیا لڑکے بھی ہیل پہنتے ہیں ؟‘
انکل صدیق ہنستے ہوئے گویا ہوئے کہ ’’ بیٹا اسکو سلیم شاہی جوتا کہتے ہیں اور یہ زیادہ تر مردوں کے لئے ہی تیار کیا جاتا ہے یہ ہیل والا سلیم شاہی کھسہ مغل بادشاہوں کے دور میں پہنا جاتا تھا جبکہ کھسے اور بہت سی اقسام کے ہوتے ہیں جن میں ملتانی ، مغل اعظم ، بہاولپوری ، جامہ وار ، ویلویٹ ، سلیپر ، کورے دبکے والا اور لیڈیز مرینہ شامل ہیں ۔ جب ہم یہاں پاکستان نہیں آئے تھے تو انڈین پنجاب ، کرناٹک ، دہلی ، راجستھان اور مہاراشٹر میں اچھے کھسے بنتے تھے اب پاکستان میں ملتان ، تلہ گنگ ، جہلم ، حافظ آباد ، اوچ شریف میں تیار ہوتے ہیں ، اور تمھیں یہ سن کر بہت حیرت ہو گی کہ یہ بہت مہنگے بھی ہوتے ہیں ، کھسوں کی قیمت ایک ہزار سے پچاس ہزار تک ہے اور تو او رپاکستان میں ایک آدمی نے اپنی شادی کے لئے تین لاکھ کا کھسہ بنوایا ۔بس بچو اپنے اپنے شوق کی بات ہے ۔‘‘
تھوڑی دیر بعد ابو بھی گودام میں ہی آگئے اور ہمیں کہنے لگے ’’ بس کرو بچہ پارٹی ، گھر نہیں چلنا کیا ؟‘‘
’’ ابو پلیز تھوڑی دیر اور ۔‘‘ ہم سب یک زبان چلائے ۔
’’ بس بس کوئی نہیں آخری بات میں بتاتا ہوں کہ جب میں انیس سو ساٹھ میں تم جتنا بچہ تھا تو بہترین کھسہ پانچ سے چھ روپے میں ملتا تھا اور کھسہ پہننے والوں کو بہت ماڈرن سمجھا جاتا تھا لیکن اب گائوں میں بھی لوگ کم کھسہ پہنتے ہیں لیکن بچو ہمیں عید او رشادیوں پر اس خوب صورت روایت کو زندہ رکھنا ہے ، اگر آپ بھی کھسہ لینے جانا چاہتے ہیں تو تھوڑا ٹائٹ لینا مت بھولیں کیونکہ مسلسل استعمال سے چمڑا ڈھیلا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *