سفارش کا کینسر

عشرت حسینISHRAT_HUSSAIN

شاید یہ واضح نہ ہو لیکن وہ مشترک سبب جواحتجاجی مارچ کرنے والوں کو اسلام آبادلایا وہ ریاست کے امور سے نکال دئیے جانے کا ایک احساس تھا۔حکومت مخالف جذبہ شدید ہو گیا ہے کیونکہ عام شہری خود کو ریاست کی جانب سے بنیادی خدمات اور ملازمت کے مواقع سے محروم محسوس کرتا ہے ۔
درحقیقت،ایسے حلات میں کوئی بھی مغموم اور اداس سیاسی جماعت لوگوں کو گلیوں میں لانے کے قابل ہو سکتی ہے۔اس لئے ہمیں اس گہرے اور وسیع احساس کی بنیادی وجوہات کو دیکھنا ہوگا۔ بدعنوانی، بیوروکریسی کا سیاسی کردار، اقرباء پروری، دوست نوازی اور سفارش معاشرے کیلئے زہرِ قاتل بن چکے ہیں اور حکمرانی کا خسارا پیدا کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ریاست کی رٹ زوال پذیر ہے۔ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا زوال وباء بن چکا ہے۔
بدعنوانی کو بڑی حد تک معاشرے کی بنیادی مرض کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اداروں کو کھوکھلا کر چکی ہے۔تاہم ہمارے معاشرے میں قانون اور ادارے موجود ہیں جیسے کہ قومی احتساب بیوروجس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ بدعنوان کوسزا دے۔ اپنی متعدد کمزوریوں کے باوجود ان قوانین کے تحت بدعنوان افسران اور سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی ہوتارہا ہے۔
اعلیٰ عدالتوں نے بھی اس بدعنوانی کو محسوس کیا اور اس پر ازخود نوٹس لینے شروع کئے۔ جب کہ بدعنوانی بہت زیادہ زیر بحث رہتی ہے اور اس کی مذمت بھی کی جاتی ہے۔ تاہم بدعنوانی سے بھی زیادہ شدید مرض سفارش پر نہ ہونے کے برابر بات چیت کی جاتی ہے۔ سفارش حکومتی ڈھانچے کے اخلاقی تانے بانے کو رفتہ رفتہ کھارہی ہے اور ریاست کی رٹ کو تحلیل کر رہی ہے۔
اس بات کو بمشکل ہی سمجھا جا تاہے کہ سفارش جو کہ تقریباًایک عالمگیر رویہ ہے، اس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا اور یہ اقوام عالم کی ایک تسلیم شدہ سماجی قدر بن چکی ہے۔یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ لوگوں کی وہ اکثریت جو خود کونہایت ایمان دار اور پیسے کے لالچ سے بالاتر سمجھتی ہے ، وہ تقرریوں، تبادلوں، داخلوں اور ٹھیکوں کیلئے سفارش پر انحصار کو برا نہیں سمجھتی۔
سیاستدانوں کو چھوڑیں کہ وہ تو ووٹ لینے کیلئے اپنے حلقے کے لوگوں کی حمایت پر مجبور ہوتے ہیں۔ زندگی کے دیگر شعبوں کے نہایت سمجھدار لوگ بھی دوسروں کو نوازنے سے نہیں ہچکچاتے۔سفارش کے نوکیلے دانت ہمارے نظام میں اس بھیانک انداز میں پنجے گاڑھ چکے ہیں کہ اب وہ کینسر کے خلئے سے مشابہ معلوم ہونے لگے ہیں۔ سفارش کے مہلک اثرات شاید اس شخص کی نظر میں معمولی ہوں جو اس کا ارتکاب کرتا ہے لیکن اس سے معاشرے کو پہنچنے والا مجموعی نقصان نہایت بھیانک ہے۔
وہ لوگ جو سفارش کے ذریعے میرٹ میں مداخلت کرتے ہیں معاشرہ ان کا مقاطعہ کرتاہے۔ معاشرے کی اس خاموش یا درپردہ منظوری نے ان کی تعداد کو دوگنا اور شخصیات کو طاقتور بنادیا ہے جو سفارش کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ یوں مجموعی فائدہ سفارشیوں کو حاصل ہوتا ہے کیونکہ سفارش کے نتیجے میں انہیں نہ صرف یہ کہ کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا بلکہ انہیں بہت سے فوائد بھی ملتے ہیں۔
سفارش کی بیماری ہماری معیشت اور معاشرے دونوں پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔
پہلی مثال
اگر اساتذہ کو میرٹ کی بجائے سفارش کی بنیاد پر بھرتی کیا جاتا ہے تو پھر ہمیں معیار تربیت کی بہتری ، اپنی نوجوانسل کو نکھارنے یا اپنی زندگیوں میں نظم و ضبط لانے کی کوئی توقع نہیں کرنی چاہئے۔اساتذہ اپنی ملازمتوں سے غیر حاض رہتے ہیں کیونکہ انہیں ان کے سفارشی سرپرستوں کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ان کے خلاف ضابطے کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی کیونکہ ان کے افسران ، ان کے سرپرستوں سے ڈرتے ہیں۔اگر افسران ان سفارشیوں کے خلاف کوئی انکوائری کریں تو بھی انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی سفارشات پر عملدرآمد نہیں ہوگا اور ان کے طاقتور سرپرست انہیں بچا لیں گے۔
دوسری مثال
اگلا شعبہ محکمہ پولیس ہے۔یہ نہایت عجیب وغریب بات ہے کہ پولیس کے سپاہی سے عام شہری ڈرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں استحصال اور برے سلوک کانشانہ بناتا ہے اور مافیا کے لوگوں کو کچھ نہیں کہتاچاہے وہ اپنی ناپاک سرگرمیوں ہی کو کیوں نہ جاری رکھیں۔
اگر کوئی شخص سفارش سے اجتناب کرتا ہے تو اسے اپنے خاندان ، حلقۂ احباب، برادری اور رشتہ داروں وغیرہ کے غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارش ہماری قوم کے ڈی این اے میں بے حد رچ بس چکی ہے اورہمارے اداروں کو غیر فعال اور ریاست کی رٹ کو کمزور کر چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *