الطاف حسین: پاکستان پر برطانیہ کو ترجیح دینے والے ایم کیوایم کے قائد

Altaf
الطاف حسین صاحب لندن میں قیام پذیر ہونے کے ساتھ پاکستان میں طاقتور، لیکن متنازعہ متحدہ قومی مومنٹ کے لاکھوں پرستاروں کے رہنما ہیں۔ ان پر پاکستان میں قتل اور فساد کے متعدد الزامات بھی ہیں۔
پاکستان کے مقامی مشہور و معروف چینل جیو ٹی وی کو عمومی حالات میں عملے کی بھرتی میں مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔ کراچی تو ویسے بھی پاکستان کا خوابوں کا شہر ہے، لیکن معروف چینل میں اب بھی ایک منفرد آسامی خالی ہے۔ چینل کو اپنے ایک سیاسی مزاحیہ پروگرام میں ایک معروف لیڈر سے مماثلت رکھنے والے اداکار کی ضرورت ہے۔ نوکری میں اچھے مشاہرے کے ساتھ شہرت اور سٹار ببنے کے مواقع بھی موجود ہیں، لیکن کراچی میں ایک بھی شخص اس کام کیلئے تیار نہیں۔ جیو کو کسی ایسے اداکار کی تلاش ہے جو مزاحیہ پروگرام میں متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کا کردار کر سکے۔ اس کردار کیلئے ابھی تک کسی نے پیشکش نہیں کی، بعض افراد کو خوف ہے کہ کردار کرنے والے کو قتل کیا جا سکتا ہے۔
ایم کیو ایم صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ پارٹی کے ایک ناقد جو برطانوی ہاوس آف لارڈز کے رکن بھی ہیں کہتے ہیں کراچی جانے کی صورت میں انکو قتل کیا جا سکتا ہے۔ ایک دوسرے صاحب کا کہنا ہے کہ وہ ایسے سوالات نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں اپنے بچوں کے حوالے سے خوف ہے۔
جس شخس سے سب اتنے خائف ہیں وہ تو کراچی کا باسی ہی نہیں، پاکستانی قانون کی دسترس سے دور الطاف حسین تو بیس برس سے شمالی لندن کے علاقے ایجورتھ میں مقیم ہے۔ الطاف حسین کے خلاف درج قتل کے کیسوں کا شمار تو مشکل ہے۔ لیکن 2009 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں قومی مفاہمتی آرڈینینس کے تحت سیاسی مقدمات پر سزایں معاف کی گئیں، تو الطاف سب سے زیادہ خوش قسمت نکلے،  ان پر سے 72 مقدمات (قتل کے 31) واپس لئے گئے، ایم کیو ایم ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
قیام پاکستان سے قبل مغربی پاکستانی کی آبادی سات کروڑ تھی، جس میں سندھی، بلوچ، پنجابی اور پشتون شامل تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہندو اکثریتی علاقوں سے مہاجرین بڑی تعداد میں آئے، جن کی بڑی تعداد کراچی میں رہائش پزیر ہوئی، اب انکو مہاجر کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں مہاجر مقامی آبادی سے بہتر رہے۔ ان میں سے اکثر نے تحریک آزادی میں متحرک رہے اور لیڈر شپ پوزیشنوں پر اۤئے۔ لیکن انیس سو ستر کے عشرے میں پنجاب اور سندھ میں مہاجر کے خلاف سیاسی لہر آئی، اور مہاجروں پر سکولوں، تعلیمی اداروں اور نوکریوں کے دروازے بند ہوئے۔ قیادت کی خواہش رکھنے والے مہاجروں کو اس سے نقصان ہوا۔ اور الطاف حسین پہلا لیڈر بنا جس نے مہاجر تشخص اور محرومیوں کو پروان چڑھایا اور اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
1988 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم اچانک تیسری بڑی پارٹی بن کر قومی اسمبلی میں ابھری اور تب سے کراچی میں متحرک ہے۔ 1984 میں الطاف حسین کا کہنا تھا کہ جب سب کے پاس صوبے ہیں تو مہاجر صوبے کا قیام بھی ناگزیر ہے۔
ایم کیو ایم کے بڑے مخالفین میں سب سے نمایاں نام کھلاڑی، پھر کرکٹر، پھر پلے بوائے، پھر اسلامی ساستدان عمران خان کا ہے۔ 2007 میں قوم کے پیچیدہ مسائل پر مظبوط موقف رکھنے والے عمران خان نے لندن میٹروپولیٹن پولیس کو الطاف حسین کے خلاف ثبوت مہیا کرنے کا اعلان کیا۔ لندن پولیس نے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کارووائی سے گریز کیا۔عمران نے کھلم کھلا الطاف حسین پر قتل کے الزامات لگائے۔ بعد میں انکے بارہ ہزار سوشل میڈیا کے ہمنوا بھی الطاف کے خلاف انکے ساتھ ہو گئے۔
لندن میٹروپولیٹن پولیس نے الطاف کی رہائش گاہ کو پاکستان کے خلاف ممکنہ استعمال پر بھی تفتیش کی۔ 2009 میں مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے خلاف کام کرنے والے افراد کے ناپ کی بوریاں سلوانے کی دھمکی دی گئی۔
لندن سے الطاف صاحب ٹیلیفونک خطاب کرتے ہیں، جن کو سننے کیلئے بڑے بڑے مجمعے لگ جاتے ہیں۔ ایک ایسی ہی تقریر میں موصوف ٹی وی اینکرز سے فرمانے لگے اگر تم نے میرے اور پارٹی کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے بند نہ کئے تو مجھے الزام نہ دینا، اگر تمھیں میرے لاکھوں پرستاروں کا سامنا ہوگا۔ انکی زیادہ تر دھمکیاں پاکستانیوں تک محدود ہیں، لیکن ستمبر 2011 میں برطانوی صحافی اظہر جاوید کو بوری تیار ہونے کی دھمکی دی۔ 2012 میں انہوں نے مخالفین کو پیٹ پھاڑنے کی دھمکی بھی دی۔
برطانوی پولیس ان الزامات پر قانونی کارووائی کے حوالے سے تحقیقات کرتی رہی، 2010 میں برطانوی ججوں کو معلعم ہوا کہ ایم کیو ایم ایک تشدد پسند جماعت ہے۔2010 میں برطانیہ میں کراچی پولیس کےایک افسر نے سیاسی پناہ کی درخؤاست میں الزام لگایا کہ ایم کیو ایم نے 200 پولیس والوں کو قتل کیا ہے۔ لیکن ان پولیس افسران کا تعلق پی پی پی کے کراچی میں کریک ڈاون سے تھا، لہذا ان الزامات کو اہمیت نہیں دی گئی۔
ان الزامات کے جواب میں ایم کیو ایم کا مقوف تھا کہ وہ تو خود دھشتگردی کا شکار ہیں، طالبان اور انتہا پسند پہلے ہی متحدہ کے کارکنوں کو قتل کر چکے ہیں۔ اس دوران ستمبر 2010 میں گرین لین لندن میں عمران فاروق کو چاقو گھونپ کر قتل کیا گیا۔ انگریز پولیس کے مطابق اس بار تنظیم نے ریڈ لائین عبور کر لی اور تحقیقات میں ایم کیو ایم کو شامل کیا گیا۔ اس کے بعد الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور بڑی تعداد میں لاکھوں پاونڈ مالیت کی کرنسی اور کاغذات تحویل میں لئے گئے۔اس دوران ایم کیو اہم نے قتل کیس میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کی۔ لندن میں الطاف کے بھانجے اشتیاق حسین کو بھی گرفتار کیا بعد میں ستمبر تک ضمانت کی گئی۔ اور تنظیم پر منی لانڈرنگ کے الزام بھی لگے۔
الطاف حسین اور انکی جماعت رقوم کے حوالے سے تمام الزامات کو مسترد کر رہی ہیں۔ اس دوران برطانیہ میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ 1992 سے الطاف حسین کی آمد کے بعد بینظیر بھٹو سے لے کر کئی حکومتیں برطانیہ سے ایم کیو ایم کے خلاف تعاون کی درخواست کر رہی ہیں۔ عمران خان بھی شاکی ہیں۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ اگر الطاف جہادی ہوتے تو کب کے گرفتار ہو گئے ہوتے۔ 2002 سےانکے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے۔ انکے خلاف انٹرنیٹ پر دستاویز بھی آئیں لیکن درست ثابت نہیں ہوئیں۔ ایم کیو ایم بذات خود جہادیوں کے خلاف ایک متحرک قوت ہے جو برطانوی معاشرے میں مثبت ہے۔

پاکستانی حکومتیں کئی بار ایم کیو ایم کو حکمران اتحاد میں شامل کر چکی ہیں۔ برطانیہ کئی بار ایم کیو ایم سے رابطے کر چکا ہے۔ لیکن اب پاکستانی سیاست میں تبدیلی سے مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے تعاون سے اس معاملے میں فوری پیش رفت کا امکان کم ہے۔ عمران فاروق کے قاتل پاکستان میں بھی ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کی پالیسی اس حوالے سے مبہم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *