ایک فرانسیسی، جرمن، برطانوی اور ہم پاکستانی

pakistan

"پاکستان؟ آپ لوگوں کا برقعہ کہا ں ہے؟ " "ہم نہیں پہنتے برقعہ۔" میں نے اپنے دوستوں کوبتایا۔

"جی، کم از کم چھٹیوں پر تو نہیں"۔ لیکن آپ جانتے ہیں، جو آپ کو پاکستان میں پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

غیر یقینی میں ہنستے ہوئے ہم نے سر جھٹکا دیے۔ "نہیں ہم نہیں پہنتے۔ زیادہ تر لوگوں کی اپنی چائس ہوتی ہے کہ پہنیں یا نہ پہنیں"۔ "لیکن۔۔" اس کی آواز رک گئی۔ کچھ دیر رک کر اس نے کچھ اور سوال پوچھے۔

 میں نے اوورسیز ممالک میں اس موسم گرما میں سات ہفتے انٹرنشپ پروگرام میں گزارے ہیں۔ مجھے یہ سوالات ایک بھارتی شہری نے پوچھے تھے۔ ایک ایسا دیسی شہری جو ہمارے ملک کے پار ہی رہتا ہے۔ وہ اس پتھریلے اور بندوقوں سے بھرے ملک میں زندگی گزارنے کے راز جاننا چاہتا تھا۔ اسے یہ سن کر بہت بڑا دھچکا لگا کہ ہمارے ہاں وائی فائی بھی چلتا ہے۔ کبھی کبھار جب آ پ ایک ٹی وی یا سکرین کے پاس بیٹھے ہوں تو دنیا کی ہمارے بارے میں غلط فہمیوں کے بارے میں سوچ کر کپکپا جاتے ہیں۔ تب آپ چینل تبدیل کر کے یا کمپیوٹر کو بند کر کے ہی ایسے خیالات سے جان چھڑاتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک کے لوگوں کو جب میں بتاتی کہ میں ذاتی طور پر کسی ایسے شخص کو نہیں جانتی جسے 10 سال کی عمر میں شادی پر مجبور کیا گیا ہو۔ ایسا کرتے ہوئے مجھے خود پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ میں بتاتی ہوں کہ مجھے یونیورسٹی جانے اور لڑکوں سے بات چیت کرنے کی اجازت تھی۔ بچوں کی شادی کے معاملہ میں کچھ سوشل پریشر اور کلچرل ٹراڈیشن دیکھنے میں ملتے ہیں لیکن ہر پاکستانی اپنی جیب میں بم لیے نہیں گھوم رہا ہوتاجب ہمارے ہاتھوں میں ہمارے اپنے 10، 12 سال کے بچے اٹھائے ہوئے دیکھے جاتےہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو میرے والدین مجھے بتاتے تھے کہ تمہیں ہم ہر طرح کی آزادی دیتے ہیں بس تم کسی کا بھروسہ کبھی نہ توڑنا۔ شاید میں بہت خوش قسمت تھی  لیکن 21سویں صدی کی لڑکی ہوتے ہوئے میں نے ایک بہت اچھی اور قابل فخر زندگی گزاری ہے۔ میں اپنی مرضی کے نمائندے کو ووٹ دے کر منتخب کروا سکتی ہوں، کار ڈرائیو کر سکتی ہوں، انگلش لکھ اور بول لیتی ہوں اور سب سے اہم بات کہ چھوٹی عمر میں شادی کے ظلم سے محفوظ رہی ہوں۔ ہم ایک ماڈرن اور جڑی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں۔ ہم میں سے جو بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دنیا کے لوگوں کو اصل حقیقت سے روشناس کرائیں چاہے اس کے لیے ہمیں گلے پھاڑ پھاڑ کر ہی کیوں آواز نہ لگانی پڑے۔ یہ غلط فہمی پالنے والی قومیں کب تک اٹھ کر یہ بیانات داغ سکتی ہیں کہ ہمارے بہت سے مسائل ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہمارے ہاں انفلیش، سیریل کلنگ، اور غیر مستحکم سیاسی حالات جیسے مسائل ہیں۔ لیکن آپ دیکھیں یہاں ایک پاکستانی پہاڑی علاقے کی لڑکی اقوام متحدہ میں تعلیم کی اہمیت پر خطاب کر رہی ہے۔ ایک رکشا ڈرائیور بھی ہے جس نے مجھے کھویا ہوا فون کل ہی واپس لا کر دیا ہے۔ میری ایک دوست بھی ہے جو بلکل مختلف طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ پاکستان کی ایک دنیا کی مضبوط ترین فوج بھی ہے  جو دن رات حدود کی حفاظت کرنے پر لگی ہے۔یہاں دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بھی ہے۔ یہاں میں بھی ہوں جو آپ سب سے انگلش میں گفتگو کر رہی ہوں۔ یہ بات سن کر مجھے بڑا دکھ ہوا کہ ایک جرمن شخص نے بتایا یہ وہ اس لیے کبھی پاکستان نہیں آیا کہ پورا پاکستان ریتلی زمین تک محدود ہے۔ ایسے حالات میں کوئی کیوں اپنا سر دیوار پر پٹخنے پر مجبور نہ ہو۔ لیکن ہم نے گوگل پر ایسے شہریوں کے لیے پاکستان کی تصاویر لگا رکھی ہیں  اور انہیں اپنے ملک کی بہت سی کہانیاں بھی سناتے ہیں۔ "کیاکسی نے فوٹو شاپ کر یہ تصاویر بنانے کے لیے آپ کو ہائر کر رکھا ہے؟ " ہم ایک اور انٹرن کے حیرت میں ڈوبے چہرے کو دیکھ کر ہنس پڑے۔ چند ہفتے پہلے ہمارے ایک برطانوی دوست نے کہا: "میں نے دیکھا ہے کہ ایک ہی جملے میں آپ لوگ اردو اور انگلش دونوں مکس کر لیتے ہوں۔ میں یہ کبھی نہیں کر پایا۔" ہم نے جواب دیا کہ ایسا اس لیا ہے کہ ہم دو زبانیں جانتے ہیں۔ کچھ ایسے لمحات بھی آئے جن میں اپنی زبان میں دوستوں کے ساتھ گفتگو کر کے بڑی خوشی ہوئی۔

"کبھی کبھار آپ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم سبزی فروٹ والے کے ساتھ پنجابی بولنے لگتے ہیں لیکن بینک میں جا کر اردو بولتے ہیں۔ " جب ایک موریشس کے ساتھی نے بڑی دلچسپی سے بتایا  تو مجھے بہت اچھا لگا کہ: "میں اگلے سال گرمیوں میں آپ سب لوگوں کو ملنے آ رہا ہوں۔ بس میری نوکری لگ جائے پھر میں آپ سب کے گھر آوں گا۔"  گرزرے ہوئے وقت میں ہر کسی کی دلچسپی  اور محبت کو دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔ دنیا بھر کے 40 کے لگ بھگ ارکان کے ساتھ بات چیت، دنیا کو دوسروں کی نظر سے دیکھنے  اور دوسری دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھنے کے ان تجربات سے دنیا میں امن کا امکان نظر آتا ہے۔ اس انٹرنشپ کا ایک سب سے قابل فخر موقع وہ تھا جب ہم نے ایک فرانسیسی ، جرمن، مصری اور برطانوی شخص کو یہ ماننے پر آمادہ کیا کہ ایک قوم کے طور پر ہم کتنے اچھے لوگ ہیں۔ اور ہاں، بہت سے لوگ بہت جلد پاکستان آ بھی رہے ہیں۔

 بشکریہ ایکسپریس ٹریبیون

مبترجم: عابد محمود

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *