گلگت بلتستان کے چیف منسٹر ہاؤس میں (پہلا حصہ)

14

مستنصر حسین تارڑ

گلگت ایک جزیرہ ہے اور وہاں چیف منسٹر ہاؤس ہے جہاں ہم پہنچے تو گلگت بلتستان کے چیف منسٹر حافظ حفیظ الرحمن جانے کب سے ہمارے انتظار میں باہر کھڑے تھے۔۔۔ اور یہ میزبانی کی روایت انہی خطوں کی ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی اور صوبے کا چیف منسٹر آپ کے لیے اپنے شیشے کے گھر سے باہر آ کر آپ کا انتظار کرے۔۔۔ نہ صرف وہ بلکہ اُن کی کابینہ کے متعدد وزیر، اسمبلی کے سپیکر ناشاد صاحب اور گلگت بلتستان کے نامور تاریخ دان، محقق، شاعر اور ادیب بھی میری آمد کے منتظر تھے۔ ناشاد صاحب کو میں ایک عرصے سے جانتا تھا، وہ کبھی شاد نہ ہوئے، ہمیشہ ناشاد رہے۔۔۔ ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر۔۔۔ ناشاد نہ کر‘۔۔۔ لیکن مجھے دیکھ کر لمحے بھر کے لیے شاد ہوئے اور پھر ناشاد ہو گئے۔
چیف منسٹر صاحب نے نہایت تفصیل سے میرے شمال کے سفرناموں کو گلگت بلتستان کی اولین پہچان قرار دیا۔۔۔ خوب توصیف کی اور پھر مجھے گلگت بلتستان کا ایک غیر سرکاری سفیر قرار دیا۔۔۔ صد شکر کہ میں ایک غیر سرکاری سفیر تھا کہ سرکاری سفیر ہونے کے لیے تو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے اور میرے پاس اتنا بڑا بیلنا نہ تھا۔۔۔ اور بہت لطیفے سنانے پڑتے تھے اور میرے پاس لطیفوں کا سٹاک بھی محدود تھا۔ حافظ صاحب کی کلائی پر ایک قیمتی گھڑی بند ھی تھی جو محترم وزیراعظم سے اُن کی محبت کا مظہر تھی۔ وہ مجھے ایک منجھے ہوئے اور قابل اعتبار سیاستدان لگے جن کے منصوبے قابل عمل لگتے تھے۔۔۔ وہ مجھے اچھے لگے۔۔۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں انہوں نے نہ صرف مجھے ایک خصوصی ایوارڈ سے نوازا بلکہ میرے نام کے ایک ایوارڈ کے اجراء کا بھی اعلان کیا جو ہر برس شمال کے بارے میں لکھی جانے والی بہترین کتاب اور ڈاکو منٹری پر عطا کیا جائے گا۔ حافظ صاحب مجھے اس لیے بھی بھلے لگے کہ انہوں نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک نہایت اہم میٹنگ صرف اس لیے مؤخر کر دی کہ مجھے اُن کے ہاں آنا تھا۔۔۔ شمال کے مصنف دوستوں نے بہت کرم کیا، نہ صرف مجھے ملنے کے لیے چلے آئے بلکہ اپنی تصانیف بھی مجھے تحفے کے طور پر عطا کیں۔
چیف منسٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اس برس عید کی چھٹیوں کے آس پاس تقریباً بیس ہزار کاریں گلگت بلتستان میں داخل ہوئیں جب کہ پورے صوبے میں
کاروں اور ویگنوں وغیرہ کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔۔۔ ہمارے پاس چھ ہزار افراد کی رہائش کی گنجائش ہے تو ہم کیا کرتے۔۔۔ اسی لیے سیاحوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، تارڑ صاحب۔۔۔ یہ آپ کے سفرناموں کی مصیبت ہے۔ اب کوئی ایسا سفرنامہ تحریر کیجیے کہ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کچھ کمی ہو جائے۔۔۔
اگر میں نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سے ایک ایوارڈ وصول کیا تو کیا میں بھی ایک سرکاری درباری ادیب ہو گیا تھا؟ ہاں ہو گیا تھا کہ اس خطے کے لوگوں نے اپنی محبت اور خلوص سے مجھے موہ لیا ہے۔۔۔ وہ تو سکردو کی ایک نشست پر مجھے اپنا نمائندہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔۔۔ فیئری میڈو کی ایک جھیل کو رحمت نبی نے ’’تارڑ جھیل‘‘ کا نام دے دیا تھا بلکہ انہوں نے اُس مقام کو ایک یادگار بنا رکھا تھا جہاں آج سے تیس برس پیشتر میں نے اپنا خیمہ نصب کیا تھا۔ یہاں تک کہ میں اُن کی دیومالا میں شامل ہو چکا تھا، نانگا پربت کے دامن میں رہنے والے وہاں آنے والے سیاحوں کو میری جھوٹی سچی داستانیں سناتے ہیں۔۔۔ ایورسٹ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی نذیر صابر ہر انٹرویو میں مجھے شمال کا محسن قرار دیتے ہیں۔۔۔ تو جس خطے نے میری یوں پذیرائی کی ہو، میں وہاں کا درباری سرکاری ادیب ہونے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔۔۔ آپ مجھے کسی اور چیف منسٹر کے دربار میں نہ دیکھیں گے۔ گلگت بلتستان میرا محبوب ہے اور اگر محبوب آپ کی عزت افزائی کرے تو کون کافر انکار کر سکتا ہے۔
اور ہاں اس دوران اسلام آباد سے مجھے عکسی مفتی اور شاہنواز زیدی کے پیغام آئے کہ اس برس یوم آزادی پر آپ کو ستارۂ امتیاز عطا کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔ چنانچہ شمال میرے لیے اچھی خبریں لا رہا تھا۔۔۔ اور ہاں چیف صاحب نے ہمیں ایک بہت بھاری چائے پلانے کے بعد، رات کے کھانے تک کے لیے ٹھہر جانے کو بہت کہا لیکن۔۔۔ ہم ٹھہر نہ سکتے تھے، را کا پوشی کے دامن میں مناپن کے اداس گاؤں میں ویران ریسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں کے سیب کے درخت، چیری کے شگوفے اور خوبانیوں کے زرد سورج ہمارے منتظر تھے۔
ہم رات گئے را کا پوشی کے سفید معبد کے دامن میں ویران ریسٹ ہاؤس پہنچے تو نہ صرف مہربان دوست اسرار ہمارا منتظر تھا بلکہ خوبانیوں کے ایک سورجوں سے لدے شجر تلے۔۔۔ اپنے روایتی لباسوں میں سجے ہوئے ، زیوروں سے آراستہ، ہاتھوں میں گلدستے تھامے۔ میرا ستقبال کرتے چھ نگری بچے، اتنے سوہنے اور سرخ گلاب جیسے ابھی ابھی سیبوں سے تراشے گئے ہوں، مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے، اپنی مقامی زبان میں میرے لیے ایک خوش آمدی قدیم گیت گاتے تھے۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں
یہ خوشی کی خبر سن کر مثلِ گلاب ہم کھل گئے
میری پژمردہ بوڑھی آنکھوں میں نمی آ گئی اور اُس نمی میں تشکر اور عاجزی اور کم مائیگی کی بادبانی کشتیاں تیرنے لگیں۔۔۔ بے شک آج مجھے گلگت بلتستان کے چیف منسٹر نے ایک اعزاز سے نوازا تھا۔ اسلام آباد سے خبر آئی تھی کہ مجھے ستارۂ امتیاز دیا جا رہا ہے پر ایسے اعزاز تو بہت لوگوں کو ملتے ہیں۔۔۔ میرے لیے ان ہر دو اعزازات کو حقیر کرتا ان نگری بچوں کا استقبالیہ قدیم گیت تھا۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *