نامور اردو کالم نگاروں سے انوکھی ملاقات!

naeem-baloch1

یہ کب ہوا ،کیسے ہوا ،اس کے متعلق تو پھر کبھی بات ہو گی ، ابھی آپ صرف اتنا جان لیں کہ جس جگہ کا میں آپ سے تذکرہ کر رہا ہوں یہ نہ جنت ہے نہ دوزخ ، نہ مادی ہے نہ مکمل روحانی ، بس آپ اصطلاح کے چکر میں پڑے بغیر اسے برزخ کہہ لیں ۔ایک بہت ہی پر اسرار جگہ تھی جہاں مختلف المزاج اور مختلف الخیال لوگوں کو گھومتے پھرتے میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا۔
سب سے پہلے میری نظر ایک ایسے بزرگ کالم نگار پر پڑی جنھیں کچھ مشٹنڈے نما بڑی ڈیل ڈول والے خدمت گزار ایک عجیب سی ریڑھی پر لاد کر دھکیل رہے تھے۔ میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ان کو کہاں سے لایا جارہا ہے؟ یہ اس جگہ کی خاصیت تھی یہاں جو بھی سوال پیدا ہوتا تھا اس کا جواب اگر کوئی بتانے سے انکار کردیتا تو جواب خود بخود ہی ذہن میں آجاتا تھا۔ چنانچہ اب بھی فوراً ذہن میں یہ بات منتقل ہوئی کہ نذیر ناجی صاحب نے شکوہ کیا تھا کہ شراب طہور میں کوئی مزا نہیں ۔ اس ناشکری پر انھیں کسی نامعلوم جگہ پر بھیجا گیا۔ وہاں کے مشروب سے تو وہ بہت خوش ہوئے لیکن انھیں صاف صاف بتا دیا گیا جب تک ان کا مشروب کے بارے میں ذوق درست نہیں ہوتا وہ یہیں پر رہیں گے۔ لیکن وہ غصے میں آگئے اور انھوں نے فیصلہ کیا وہ شراب طہور کے نام پر ’’مگس کی قے ‘‘ ہر گزنہیں پئیں گے ۔ انھوں نے اسی کیفیت میں کئی کالم بھی تحریر کر ڈالے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ اس خاص کیفیت میں بھی بہت اچھا لکھ سکتے ، شان دار تجزیے اور حیرت انگیز پیشن گوئیاں کر سکتے ہیں لیکن افسوس ان کی کوئی توقع درست ثابت نہ ہوئی ۔ چنانچہ ان کو یہیں پر چھوڑ دیا گیا اور اپنا رویہ درست کرنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ لیکن وہ اپنی دھن میں مست ہیں اور ’’ مستقل مزاجی ‘‘ سے غیر مقبول قسم کے کالم لکھے جارہے ہیں ۔اگرچہ یہ کالم انتہائی نمایاں جگہ پر شائع ہوتے ہیں لیکن قارئین جانتے ہی کہ یہ نمایاں جگہ انھیں اچھے کالم لکھنے کے بجائے ایڈیٹر اخبار ہونے کی وجہ سے ملی ہے اور اسے لگانے والے بھی بڑی بے دلی سے پڑھتے ہیں اور پروف ریڈر تو ان کی شان میں گستاخیوں کے ساتھ پڑھتے ہوں گے ، اس کی گارنٹی دی جا سکتی ہے ۔
میں ان کو چھوڑ کر آگے بڑھا تو ایک صاحب کو بے چینی میں کبھی ادھر اور کبھی اُدھر ٹہلتے دیکھا۔ تیز تیز چلنے والے یہ کالم نگار حامد میر تھے ، بہت پریشان ۔ میں نے سلام کیا اور حال احوال جانا تو بولے :’’ یار میں خالدؓ بن ولید کو کہاں سے لاؤں ؟ میں نے پوچھا میر صاحب ، ان سے کیا کام پڑ گیا ۔ کہنے لگے، بس یار، مجھے کہا گیا ہے کہ تمہارا پاکستانی جرنیلوں کے خلاف تنقید کرنے کا جرم بہت بڑا ہے ، یہ اس وقت تک معاف نہیں ہوسکتاجب تک تم خالدؓ بن ولید جیسے عظیم سپہ سالار سے اپنے حق میں لکھوا نہیں لاتے۔ اور اس وقت تک تمہارا جنت میں داخلہ بند ۔ اب جب میں ان کے محل میں گیا تو معلوم ہواکہ وہ ایک نئی مہم پر جا چکے ہیں۔‘‘
’’نئی مہم !وہ کیسی؟‘‘
’’بھئی ان کو ایک پاکستانی حور ملی تھی ، وہ بہت باتونی نکلی ، اس سے کچھ عرصہ نجات حاصل کرنے کے لیے وہ اس مہم میں نکلے ہیں لیکن اگر ایران ، عراق فتح کرنا ہوتا تو وہ کبھی کے فتح کرکے تشریف لا چکے ہوتے مگر وہ تو پاکستان کے شمالی علاقوں میں شدت پسندوں کو قابو کرنے گئے ہیں ، اب دیکھو کب واپس آتے ہیں !‘‘میں سمجھ گیا واقعی حامد میر کی پریشانی بجا ہے۔اس مصیبت سے نکلنے کے لیے انھوں نے آخر کار فیصلہ کیا کہ وہ نواز شریف کے خلاف اور دھیمے سروں میں جنرل راحیل شریف کے حق میں’’بالواسطہ ‘‘ طورپر کالم لکھنے کی پالیسی اختیار کریں گے۔
اسی دوران میں نے حسن نثار صاحب کو دیکھا ۔ وہ حامد میر سے بھی زیادہ پریشان تھے ۔ لیکن پریشانی میں بھی غصہ صاف جھلک رہا تھا ۔ میں ان کے غصے سے واقف تھا ، اس لیے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ تب مجھے’’ کشف ‘‘ہوا کہ موصوف کو کہا گیا تھا کہ انھوں نے بے شمار’’ شریف‘‘ لوگوں کا دل دکھایا ہوا ہے، اس لیے ان کی نجات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کاکفارہ ادا کریں ۔ اس کا طریقہ انھیں یہ بتایا گیا کہ وہ شداد ،فرعون ، ابوجہل وغیر ہ کے خلاف کالم لکھیں ۔ وہ بہت خوش ہوئے کہ یہ تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ انھوں نے جذبات میں آکر فرعون کو ہم جنس پرست، شداد کو علتِ شیخ کا عادی قرار دے دیا اور ابوجہل کے بارے میں لکھا کہ وہ ابولہب کو باؤنسر کرایا کرتا تھا اور یہ باؤنسر اسے عمران خاں نے سکھایا تھا۔اب یہ کوئی پاکستانی اخبار تھوڑا ہی تھاکہ جہاں پر ایسی باتیں برداشت کر لی جاتیں ،وہاں تنقید اور ہجو کا بھی مبنی بر حقیقت ہونا لازمی تھا ، اس لیے انھیں بتا دیا گیا جب تک وہ ان کے خلاف درست معلومات پر مبنی کالم نہیں لکھیں گے ان کی خلاصی نہیں ہو گی لیکن برا ہو پاکستانی سیاست اور صحافت کا، جس نے انھیں اس ہنر سے بے ہنر کر دیا تھا۔اس لیے وہ پریشان تھے کہ ان کا کیا ہوگا؟
میں ابھی یہی سوچ ہی رہاتھا کہ جناب حسن نثار کا کیا ہوگا کہ مجھے اوریا مقبول جان ، ہارون الرشید اور انصار عباسی نظر آئے ۔ یہ ابھی تک نظر آنے والے تمام کالم نگاروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بری حالت میں تھے۔ ان کو اس حالت میں دیکھ کر میں دھک سے رہ گیا کہ اتنے نیک ، اتنے ایمان دار اور نمازی پرہیز گار لیکن حالت یہ کہ پاؤں چھالوں سے بھرے ہوئے ، کپڑے تار تار اور حلیہ انتہائی خستہ! معلوم ہوا کہ حادثہ اوریا مقبول جان کی وجہ سے ہوا ہے ۔ وہ تھے تو پکے جنتی ، لیکن انھوں نے ایک عجیب حرکت کی ۔ ان سے کہا گیا کہ وہ جنت میں ایک جدید جہاز پر بیٹھ کر جائیں گے ۔ لیکن وہ جہاز دیکھ کر ہتھے سے اکھڑ گئے ۔ ان کا بس چلتا تو حضرت موسیٰؑ کی طرح فرشتے کو تھپڑ مار کر بھگا دیتے لیکن نہ جانے کیوں محض ڈانٹنے ہی پر اکتفا کیا !بولے : مجھے بے وقوف سمجھ رکھا ہے؟ یہ لعین مغرب کی ایجاد میں بیٹھ کر میں جنت میں پہنچوں گا؟ تم نے ضرور کسی شیطان مر دود سے رشوت لی ہوگی، ضروربابل میں اتارے گئے فرشتوں ہاروت ماروت کے شاگرد رہے ہو گے۔ قریب تھا کہ ان کے اس احمقانہ رویے سے ناراض ہو کر جنت میں جانے والا جہاز انھیں چھوڑ کر چلا جاتا کہ ان کو ہارون الرشید اور انصارعباسی نے دیکھ لیا ۔ انھوں نے بڑی مشکل سے اوریا صاحب کو یقین دلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ، یہ واقعی جنت ہی کی طرف جانے والا جہاز ہے۔ ان کی بات سے مرعوب ہو کر وہ جہاز پر بیٹھ گئے لیکن اچانک ان کی نظر مدر ٹریسا، فلورنس نائیٹٹنگیل اور چند اور سماجی بہبودمیں مقام رکھنے والے مشہور غیر مسلم لوگوں پر پڑی ۔ وہ تو فوراً چیخ اٹھے کہ اگر یہ جہاز جنت میں جا رہا ہوتا تو یہ کافر عورتیں اور مرد یہاں نہ ہوتے ۔ انصار عباسی بھی ان کی بات سے متاثر ہوئے لیکن ہارون الرشید کہنے لگے کہ اللہ کی رحمت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ، کیا خبر ان کی کوئی ادا اللہ کو پسند آگئی ہو ۔ مگر اسی دوران ہارون الرشید کو کسی نے بڑی عقیدت سے سلام کیا ، انھوں نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گئے ۔ وہ نواز شریف تھے اور ان کے ہمراہ شہباز شریف بھی تھے ، بلکہ مزید حیرت یہ کہ علیم خاں اور دو اور بزنس میں بھی تھے۔ اب تو ہارون الرشید بھی پکار اٹھے کہ اوریا مقبول جان ہی کی بات درست لگتی ہے، بھلا یہ لٹیرے اور سرمایہ دار کیسے جنت کے حق دار ہو سکتے ہیں ۔ ادھرسلام کے جواب میں ان کے اس قدر بگڑے تیور دیکھ کر نواز شریف بول اٹھے کہ بزرگو ، ذرا صبر سے ہماری بات سن لو ، ہم سب نے اپنی زندگی ہی میں اپنی دولت کا بڑا حصہ خیرات کر دیا تھا ، شہباز شریف بولے کہ رائے ونڈ کا محل یونیورسٹی بنا دیا گیا تھا اور اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق سے ہم نے اپنا سارا دامن صاف کر ڈالا تھا ۔ علیم خاں کہنے لگا :جی با با جی، درست بات ہے، ہم نے بھی عوام میں ان کی زبردست پذیرائی دیکھ کر اپنی دولت کے انبار بھی عوام کی خدمت میں لٹا دیے تھے ۔ یہ سن کر ہارون الرشید نے ایک زور دار تھپڑ علیم خان کے منہ پر جڑ دیا اور گرج کر بولے : جھوٹے ،کبھی کوئی سرمایہ دار بھی نیکی کر سکتا ہے ! ساتھ ہی اوریا مقبول جان نواز شریف سے الجھ بیٹھے اور ان کو جہاز سے باہرگرانے کے لیے دھکے دینے لگے۔ وہ تو فرشتوں نے مداخلت کر کے ان تینوں کو جہاز سے نیچے گرا کر جہاز کے دروازے بند کر دیے۔ نیچے گرے تو ان سب نے اطمینان کا سانس لیا کہ وہ کسی خوفناک سازش کا شکار ہونے سے بچ گئے ہیں ۔ کیونکہ جن لوگوں کو انھوں نے جہاز میں دیکھا تھا ان کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ وہ لازمی جہنم کاا یندھن بننے جارہے تھے۔ تب تینوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسلامی سواریوں یعنی اونٹ ، گھوڑے یا گدھے پر بیٹھ کر اپنی منزل تک پہنچیں گے۔ لیکن بد قسمتی سے انھیں وہاں کوئی جانور نظر نہ آیا ۔مجبوراًوہ پچھلے پانچ سو سالوں سے پیدل ہی جنت جانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہر دفعہ رستہ بھول جاتے ہیں۔لیکن آخری بات ان کے بارے میں یہ معلوم ہوئی ہے کہ انہیں حسن نثار نے ایک خفیہ کوڈ میں پیغام بھیجا ہے اس کے ذریعے سے وہ ایسی سواری تک پہنچ سکتے ہیں جو انھیں جنت کی طرف لے جاسکتی ہے ۔ لیکن تاحال وہ اس کوڈ کا مطلب جاننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ، ساتھ ہی انھیں اس الجھن کی سلجھن نہیں مل رہی کہ حسن نثار ان کے فائدے کی بات بھلا کیسے کر سکتے ہیں؟ تب انھیں یہ بتایا گیا کہ حسن نثار ، ان تینوں کی طرح نواز شریف کے دشمن اور اسٹیبلشمنٹ کے دوست ہیں !
میں ابھی اس صدمے سے نکلا ہی نہ تھا کہ ہمارے دیرینہ دوست جاوید چودھری سے ملاقات ہو گئی۔ میں قریب گیا تو معلوم ہوا کہ وہ تسبیح پڑھنے میں مصروف ہیں ، میں   نے انھیں ڈسٹرب کرنا مناسب خیال نہ کیا ، لیکن یہ جان کر حیران رہ گیا کہ وہ نواز شریف کے حق میں الٹی تسبیح پڑھ رہے ہیں ، اور یہ جان کر مزید حیران ہو اکہ ان کی تسبیح کے ہر دانے کا رنگPTI کے جھنڈے کا ہے اور تسبیح کے امام پر جنرل راحیل شریف کی تصویر بنی ہوئی ہے، میں اب بے چینی سے ان سے بات کرنے کے لیے ان کی تسبیح کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ )( جاری ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *