سعید بٹ اور گمشدہ اُلّو

مستنصر حسین تارڑMHT

صبح کی سیر میں جو میرے بہت سے ساتھی ہیں وہ سب کے سب نہایت دلچسپ اور متنوع کردار ہیں۔ اُن کی خصلتیں، ذوق جمال، مذہبی نظریات، کاروبار اور اخلاقیات کے پیمانے الگ الگ ہیں۔ ایک ادیب کی حیثیت سے وہ میرے مشاہدے کا سامان بن کر مجھے تخلیق پر ابھارتے ہیں۔ میں ابھی صرف سعید بٹ کے حوالے سے بات کروں گا اگرچہ وہ ان دنوں نہایت ملال کی کیفیت میں ہے کہ سیاست کے منظر پر گلو بٹ، بلو بٹ اور پومی بٹ کے درخشندہ اور پرامن ظہور کے بعد وہ نہایت سنجیدگی سے اپنے بٹ ہونے سے منحرف ہو جانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ بقول اُس کے مصیبت یہ ہے کہ وہ اپنا نام تبدیل کر کے چودھری بھی نہیں ہو سکتا کہ گجرات کے چودھری ذہن میں آجاتے ہیں۔۔۔ ارائیں ہو جانے پر اُسے ضیاء الحق کی مونچھیں تنگ کرنے لگتی ہیں۔ میاں ہو جائے تو شریفوں کے پلّے پڑ جاتا ہے۔ سیدہو جانے سے بھی اُسے ملتان کے خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ غریب کیا کرے۔ ویسے اُس کا کہنا ہے کہ گلو بٹ پوری قوم کا محسن ہے۔ اُس نے آسانی یہ پیدا کر دی ہے کہ بجائے کسی سیاست دان کو برا بھلا کہنے کے، نامناسب زبان استعمال کرنے کے آپ صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو گلو بٹ ہے تو گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیتے ہیں۔ سعید بٹ چھ روز تک مسلسل ناقابل برداشت رہتا ہے کہ اُسے مسلسل ، بے وجہ اور بے بہا لا یعنی باتیں کرنے کا عارضہ لاحق ہے لیکن ساتویں روز وہ کوئی ایسی بات کر دیتا ہے کہ ہم اُس کی حس مزاح اور باکمال طنز کے مداح ہو کر اُسے برداشت کر لیتے ہیں۔۔۔ اُس کے قریبی دوستوں کا ایک ٹولہ ہے جو اُس کی زبان دانی، چرب زبانی اور مزاح کا دلدادہ ہے۔ ایک بار اُن میں سے چوہدری مدد علی نے اُس پر پھبتی کسی کہ یہ جو تم ہمہ وقت تارڑ صاحب کے ساتھ نتھی ہوتے ہو، اُن کے بے دام غلام ہو چکے ہو اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمہ وقت تمہاری بے عزتی کرتے ہیں اور اس کے باوجود اُن کے ساتھ ہی سیر کرتے ہو تو سعید بٹ نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔۔۔ تم ایسے کم پڑھے لکھے لوگ بھی تو میری بے عزتی کرتے ہو تو کیا اس سے بہتر نہیں کہ میں تارڑ صاحب سے بے عزتی کروا لوں کہ وہ کم از کم معیاری بے عزتی کرتے ہیں۔ جب کہ تمہاری بے عزتی کا تو کوئی معیار ہی نہیں ہوتا ۔ وہ دن اور آج کا دن سعید بٹ کا یہ سنہری قول زبان زد عام ہے کہ انسان نے بے عزتی کروانی ہو تو کم از کم معیاری بے عزتی کروائے۔
سعید بٹ پاکستان ریلوے میں اچھا بھلا افسر ہے اور اگر کسی دوست نے یکدم کراچی یا پشاور جانا ہو تو نہ صرف اُس کے ٹکٹ کے پیسے خود ادا کرتا ہے بلکہ اکثر اُس کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر کراچی یا پشاور چلا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ پھولوں، درختوں، پرندوں اور جانوروں کا عاشق ہے۔ اُس نے متعدد بار معصوم چڑیوں اور بلبلوں کو کووں سے بچایا ہے بلکہ اُس نے ایک زخمی کوے کو گھر لے جا کر اُس کی مرہم پٹی کی اور صحت مند ہونے پر اُسے پارک میں لا کر آزاد کر دیا۔ اسی لیے سیر کے بعد جب ہم ایک مقام پر بیٹھ کر لایعنی گفتگو کرتے ہیں، نہایت غیر اخلاقی لطیفوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو سعید بٹ کی کرسی کے گرد شکر گزار کووں کا ایک ہجوم ہوتا ہے۔ ہم ٹریک پر چلتے جا رہے ہیں اور ڈاکٹر انیس اپنے خوبصورت شعر سنا رہے ہیں یا میں اسلامی تاریخ میں سے کوئی داستان بیان کر رہا ہوں تو یکدم سعید بٹ گھاس پر لوٹنیاں لگاتی ایک بلی کی جانب اشارہ کر کے کہے گا۔۔۔ تارڑ صاحب آپ کو پتہ ہے کہ یہ بلی کیوں لوٹنیاں لگا رہی ہے۔ اس کا ابھی ابھی کسی بلے کے ساتھ وصال ہوا ہے۔ کچھ عرصہ بعد پھر اشارہ کرے گا۔۔۔ ذرا دیکھیے اُسی بلی نے کتنے ڈھیر سارے بلونگڑوں کو جنم دیا ہے۔ اگر کسی بوٹے کی ٹہنی ٹوٹ گئی ہے تو سعید بٹ نہایت انہماک سے اُس ٹہنی کے گرد ایک پٹی باندھ دے گا تا کہ وہ پھر سے شجر سے پیوستہ ہو جائے۔ لیکن ایک ’’اُلّو ایپی سوڈ‘‘ نے اُسے مزید بدنام کر دیا۔ ماڈل ٹاؤن پارک کے ٹریک کے کنارے ایک قدیم درخت ہے اور یہ سعید بٹ تھا جس نے دریافت کیا کہ اس میں اُلّو بسیرا کرتے ہیں۔ اکثر ہم اُن اُلّوؤں کو اس کی شاخوں میں پوشیدہ دیکھتے تھے اور اُنہیں دیکھ کر جی خوش ہو جاتا تھا۔۔۔ وہ آنکھیں گھماتے گردن کو حرکت دیتے ہمیں دیکھتے اور ہم اُن کو دیکھتے۔۔۔اور یقین کیجیے جس دن کا آغاز ایک اُلّو دیکھنے سے ہو وہ دن بے حد اچھا گزرتا ہے۔ ایک صبح میں اور میری بیگم میمونہ پارک میں داخل ہو رہے تھے کہ اُس نے مجھے پکار کر کہا ’’اُلّو‘‘۔۔۔ مجھے بے حد بے عزتی محسوس ہوئی کہ چلو گھر میں تو ٹھیک ہے لیکن بیگم برسرعام مجھے اُلّو کہہ رہی ہے تو میں نے نہایت خشمگیں ہو کر کہا ’’بیگم۔۔۔ کچھ تو لحاظ کرو۔۔۔ مجھے کیا کہہ رہی ہو‘‘ تو اُس نے مجھ سے زیادہ خشمگیں ہو کر کہا ’’تمہیں نہیں کہہ رہی۔۔۔ دیکھ تو سہی گلاب کی ان جھاڑیوں میں ایک اُلّو بیٹھا ہے، بیمار لگتا ہے‘‘ اور واقعی اُن جھاڑیوں میں سچ مچ کا ایک اُلّو تھا اور زخمی حالت میں تھا اور ایک بہت بڑی چیل کچھ فاصلے پر بیٹھی اُس پر جھپٹنے کو تھی۔ میں نے اُس چیل کو بہت شُوشُو کیا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اُلّو کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ میں نے فوری طور پر فون پر سعید بٹ سے رابطہ کیا اور وہ اڑتا ہوا چلا آیا۔ اُس نے اُس زخمی اُلّو کو اتنے پیار سے گود میں لیا جیسے وہ اُس کا پہلا بچہ ہو۔۔۔ چیل کے حملے میں اُس کا ایک پر ناکارہ ہو چکا تھا اور اُس کی آنکھیں نقاہت سے بند ہو رہی تھیں۔ سعید بٹ نے پہلے تو اس کی چونچ کھول کر پانی کے کچھ قطرے اُس کے حلق میں ٹپکائے، اُسے گھر لے گیا۔۔۔ اپنے قصائی سے قیمہ لا کر اُسے کھلایا اور پھر اُسے وٹیرنری ڈاکٹر کے پاس لے گیا جس نے اُس کے زخمی پر کی مرہم پٹی کی اور پھر ایک سانحہ ہو گیا۔۔۔ وہاں ایک نوجوان تھا جو اپنی بلی کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کر رہا تھا۔ بلی کو نیند نہیں آتی تھی۔۔۔ اُلّو کو دیکھ کر وہ نوجوان اُس پر فدا ہو گیا اور کہنے لگا ’’انکل۔۔۔ کیا میں اسے چھو لوں۔۔۔ آپ اجازت دیں تو صرف ایک دو روز کے لیے اپنے گھر لے جاؤں۔۔۔ میں اسے خوب کھلاؤں پلاؤں گا، اس کی بلائیں لوں گا، پھر واپس کر دوں گا، میں ماڈل ٹاؤن کے جے بلاک میں کوٹھی نمبر فلاں میں رہتا ہوں‘‘۔
سعید بٹ کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان بے حد کیوٹ تھا۔
ہمیں جب اطلاع ملی تو ہم نے کہا ’’اُلّو گیا۔۔۔ اگر اُلّو جاتا ہے تو واپس نہیں آتا۔۔۔‘‘ سعید بٹ اُس کیوٹ نوجوان کے بتائے ہوئے ایڈریس پر گیا تو معلوم ہوا کہ وہاں اُس نام کا کوئی نوجوان نہیں رہتا۔ ہمارا اُلّو چوری ہو گیا تھا۔ سعید بٹ ہم سے منہ چھپائے پھرتا ہے بار بار کہتا ہے کہ تارڑ صاحب وہ نوجوان بے حد کیوٹ تھا، مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ اُلّو چور ہے۔۔۔ اُس نے کسی جادو ٹونے کرنے والے کے ہاتھوں وہ اُلّو لاکھوں میں فروخت کر دیا ہو کہ ایسے ٹونوں میں اُلّو کا خون، اُس کی آنکھیں اور خاص طور پر اُس کا دل استعمال کیا جاتا ہے۔
اُدھر اس اُلّو کی دریافت پر میں اپنے پوتے یاشار سے وعدہ کر بیٹھا کہ بیٹے تم ہمیشہ پوچھتے ہو کہ دادا آپ مجھے اُلّو کہتے ہو تو کیوں کہتے ہو تو میں تمہیں دکھاؤں گا کہ ایک اُلّو کیا ہوتا ہے اور وہ مجھ سے روزانہ پوچھتا ہے کہ دادا۔۔۔ اُلّو کہاں ہے۔
ہم سب سیر کرنے کے بعد جب ایک مقام پر آرام کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو ایک سوگواری کی فضا ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا اُلّو بہت یاد آتا ہے۔ اگروہ کیوٹ نوجوان یہ کالم پڑھے تو اُس سے درخواست ہے کہ پلیز ہمارا تو ہمیں واپس کر دے۔۔۔ ہم بے حد اداس ہیں۔
’تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے۔۔۔
ایک اُلّو کا سوال ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *