تہران کی سیر

نعمان افضل

tehran

پچھلی بار جب میں تہران آیا تھا تو 9 سال کا تھا۔ تب میں پی آئی اے کی فلائٹ پر لندن جا رہا تھا جب ہمارا جہاں ایران کے دارالحکمومت میں کچھ دیر کے لیے رکا۔ تب میں اس شہر کو صرف جہاز کی کھڑکی سے ہی دیکھ پایا تھا۔ اس سفر سے کچھ ماہ بعد شاہ کی حکومت گرا دی گئی اور خمینی نے ایران میں اپنی حکومت قائم کر لی۔

اس واقعہ سے کافی سال بعد یعنی آج سے چند ہفتے پہلے مجھے ایران میں ایک سیمنار کا حصہ بننے کے لیے مدعو کیا گیا۔ میں بہت حیران تھا کہ شاید جس طرح میڈیا اس ہمسایہ ملک کے بارے میں پراپیگنڈہ کر رہا ہے اس لحاظ سے میرا وہاں جانا فائدہ مند ہو گا یا نہیں۔ لیکن میں جانا چاہتا تھا اس لیے میں تہران جانے کے لیے کچھ ضروری چیزیں ساتھ لے کر جہاز پر بیٹھ گیا۔ وہاں جو میں نے دیکھا اس نے ایرانی معاشرے کے بارے میں میری سوچ کو یکسر بدل دیا۔ جیسا بتایا جاتا ہے اس کے بر عکس ہر ایرانی شہری چادر میں لپٹا نظر نہیں آتا۔ دنیا کے مختلف ممالک کو دیکھ لینے کے بعد میرے تجربہ کی نظر میں میں یہ برملا کہہ سکتا ہوں کہ ایران دنیا کے بہترین ممالک میں سے ایک ہے۔ میں بتاتا ہوں کیوں۔

سب سے زیادہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ یہ تھی کہ ایران کے امام خمینی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر امیگریشن آفیسرز میں سے کسی نے مجھ سے میرا مذہب اور فرقے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ ائیر پورٹ سے باہر ہمیں ایک خوبصورت ڈرائیور نے ساتھ لیا۔ ہوٹل میں ہمیں بہت پر تپاک طریقے سے ویلکم کیا گیا۔ تہران ایک ماڈرن اور خوبصورت شہر ہے۔ پاکستانی شہروں کے برعکس یہ بہت صاف ستھرا شہر ہے۔ میں نے کسی گلی میں کوڑا پڑا نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ روزانہ آدھی رات کے بعد ورکرز سڑکوں کو صاف کرتے ہیں۔ کوڑے کو ٹھکانے لگانے اور شہر کو صاف رکھنے کے لیے ہماری حکومت ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔  ٹریفک کا سسٹم بہت منظم ہے اور ہر شخص قانون کی پابندی کرتا ہے۔ سڑک کی ایک لائن بسوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ بسیں بہت سستے داموں آپ کو شہر کے مختلف حصوں تک لے جاتی ہیں۔ دوسری آپشن زیر زمین ٹرین ہے۔ یہ بہت سستی اور تیز رفتار بھی ہے۔ ٹرینین ائیر کنڈیشنڈ اور بہت ماڈرن ہیں۔ سمارٹ فون پر رہنمائی کے لیے ٹرین میپ موجود ہے۔ فارسی اور اردو میں مماثلت کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کے لیے جگہ تلاش کرنا بہت آسان ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایران کے بارے میں بات کر رہے ہوں اور کھانے کا ذکر نہ کریں۔ مجھے ایرانی کھانے بہت پسند آئے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرچوں اور سپائس کے بغیر بھی کھانے بنائے جا سکتے ہیں۔ ایران کا مشہور اور بہت عام ناشتہ کاٹیج چیز، شہد، کھجور، زیتون، دودھ، انڈے، ڈبل روٹی اور چائے یا کافی ہیں۔ ایرانی لوگ دنبے کا گوشت بہت پسند کرتے ہیں۔ ایرانیوں کے بنے کباب بھی آپ کو بہت حیران کر دیتے ہیں۔ کوبیدہ کباب جس کا نام ہی منہ میں پانی لانے کے لیے کافی ہے بہت مزیدار ہوتا ہے۔ جوجے کباب، کباب برگ، جگر کباب بھی بہت مزیدار ہوتے ہیں۔ گوشت کے بغیر کھانوں میں مجھے وہاں کا بغالی پلاو اور گورمے سبزی بہت پسند آئے۔ کھانے کے بعد وہاں کے لوگ دوغ پیش کرتے ہیں جو ہماری لسی کی ہی ایک قسم ہے۔ ہائی جین کا معیار بہت ہی اعلٰی ہے۔ روڈ پر موجود چھوٹے ہوٹلوں میں بھی برتن پیک کر کے رکھے جاتے ہیں۔

تہران میں دیکھنے والی بہت سی جگہیں ہیں۔ وہاں تاریخی عمارات جن میں گلستان پیلیس اور سعد آباد پیلیس قابل ذکر ہیں۔ وہاں کے دربار اور مسجدیں بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔ شہر میں بہت سے پارک اور باغات ہیں جہاں آپ بیٹھ یا چل کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ایک مرکزی جگہ گرینڈ بازار ہے جو تہران میں ہے۔ یہ 10 کلومیٹر کے ایریا پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ہر طرح کی چیزیں خریدی جا سکتی ہیں۔ میلاد ٹاور دیکھنا میرا سب سے اہم مقصد تھا۔ یہ 435 میٹر بلند ہے اور 2012 تک یہ دنیا کا چھٹا سب سے اونچا ٹاور تھا۔ پیلاڈیم مال کے ساتھ بہت سے سٹور موجود ہیں جہاں ہر طرح کے برانڈ، کھانے، اور ایک گھومتا ہوا ریسٹورینٹ ہے۔ یہاں سے ڈوبتا ہوا سورج کا نظارہ بہت دلکش نظر آتا ہے۔ تہران میں ہر چیز کا میوزیم موجود ہے۔ یہاں ایک کارپٹ میوزیم، آرٹ میوزیم، سینما میوزیم، شیشے کے بنے برتوں کا میوزیم، سرامک میوزیم، اور ایک جیول میوزیم ہے۔ ایران کے لوگ اپنی تاریخ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ بات پاکستانیوں کو بھی ایران سے سیکھ لینی چاہیے۔ جب میں ایران کے لوگوں سے ملا تو ایران مجھے مزید اچھا لگنے لگا۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ ایران جانے سے پہلے مجھے بتایا گیا تھا کہ وہاں کے لوگ پاکستانیوں اور سنیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ مجھے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ یہ سچ نہیں ہے بلکہ ایران کے لوگ تو ہر طبقے اور ملک کے لوگوں کو پرتپاک طریقے سے چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مجھ سے کرایہ لینے سے انکار کیا جب اسے معلوم ہوا کہ میں ایک پاکستانی ہوں۔ ایک بار میں غلط ٹرین پر سوار ہو گیا اور ایک نوجوان جس کا نام حامد تھا اس نے مجھے بہت محبت سے راستہ بتایا۔ اس نے مجھے صحیح ٹرین پر بٹھایا اور نقشہ بنا کر سمجھایا کہ میں کیسے اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہوں۔ بعد میں اس نے فون کر کے معلوم بھی کیا کہ کیا میں صحیح جگہ پر پہنچا ہوں یا نہیں۔ ایک حلوائی نے مجھے مفت کریم پیش کی اور ایک شیشہ بار والے نے صرف اس لیے مفت شیشہ فراہم کیا کہ میں ایک مہمان ہوں۔ ایک شخص نے میوزیم میں میرے لیے مختلف عبارات کو انگریزی میں ترجمہ کیا۔ میں اپنے ہوٹل مینیجر کو کیسے بھول سکتا ہوں جس نے فون ایکٹیویٹ کرنے میں میرے ساتھ پورا ایک گھنٹہ صرف کیا۔ میڈیا آپ کو ایران کے بارے میں مختلف من گھڑت کہانیاں سنائے گا لیکن جب آپ ایران کے لوگوں سے ملیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ایران کے لوگ کتنے کھرے اور سچے ہیں۔ اسلیے اگر آپ کہیں چھٹیاں منانے جانے کا پلان بنا رہے ہیں تو ایران کو اپنی لسٹ میں شامل کر لیجیے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ مایوس نہیں ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *