اور اب جنرل کیانی بھی

رؤف طاہرRauf tahir

ہفتے کی سہ پہر ایک ٹی وی چینل کی 2سے 4کی ٹرانسمیشن میں ہم بھی موجود تھے۔ تقریباً اڑھائی بجے ڈی چوک سے دھرنوں کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ نشر کی جارہی تھی۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن ’’ناشتہ‘‘ کر رہے تھے۔ڈھائی بجے ناشتہ؟جی ہاں! ان کا کہنا تھا، وہ رات دیر تک علامہ صاحب اور پھر کپتان کی تقاریر سنتے رہے تھے چنانچہ دن چڑھے دیر سے اُٹھے اور اب ناشتے میں مصروف تھے۔ ناشتے کی تفصیلات سن کر سچی بات ہے ، ہمارے منہ میں بھی پانی بھر آیا تھا۔ حلوہ پوری، نان، چنے، لسی اور چائے اور یہ سب کچھ وافر مقدار میں دستیاب تھا لیکن علامہ صاحب تو اپنی تقاریر میں حکمرانوں کی سنگدلی اور بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے ’’کربلا‘‘ کی منظر کشی کرتے ہیں۔ اُن کی آواز بھرا جاتی ہے، آنکھیں چھلک پڑتی ہیں، وہ بھوک سے بلکتے بچوں کا بطورِ خاص ذکر کرتے ہیں، ظالم حکمران جن کے لیے دودھ بھی نہیں پہنچنے دیتے۔ اینکر نے پوچھا، اس سب کچھ کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے، ہم نے عرض کی، پیسے کی کیا کمی ہے؟ دور کی کوڑی لانے والے علامہ کے ایجنڈے کو بیرونی ایجنڈا قرار دیتے ہیں، ہدف پاکستان کو عراق، شام اور لیبیا بنانا ہے۔ ہم یہ بدگمانی نہیں کرتے کہ جنہوں نے ایجنڈا دیا، فنڈز بھی وہی دے رہے ہوں گے، دُنیا بھر میں خود علامہ کا اپنا نیٹ ورک بھی زبردست ہے۔ عالمی ایجنڈے سے قطع نظر ، مقامی ایجنڈا بھی ہوگا، جس کے لیے مقامی سرپرستوں کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ یاد آیا، دھرنے کے ابتدائی دنوں میں ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی طرف سے ناشتے کی فراہمی کی خبریں بھی آئی تھیں۔ چوہدریوں کی قاف لیگ (ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے)،سنی اتحاد کونسل اور علامہ ناصر عباس کی وحدت المسلمین کے علاوہ ڈکٹیٹر کی ’’آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ بھی تو علامہ صاحب کی اتحادی ہیں (احمد رضا قصوری جس کی نمائندگی کرتے ہیں۔)
شاہراہ ِ دستور پر علامہ کا دھرنا اب ایک خیمہ بستی کی صورت اختیار کر گیا ہے جہاں بارش سے بچاؤ کے لیے واٹر پروف خیموں کے ساتھ بچوں کے لیے کھلونے اور نوجوانوں کے لیے مختلف کھیلوں کی سہولت کا اہتمام بھی کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دھرنا بازار بھی ہے جہاں موبائل فون کارڈز/ ایزی لوڈ سمیت روز مرہ ضرورت کی جملہ اشیاء دستیاب ہیں۔ عمران خاں کا ’’دھرنا ‘‘ مختلف ہے۔ شام ڈھلے آغاز ہونے والا یہ ’’دھرنا‘‘ رات کے آخری پہراختتام کو پہنچ جاتا ہے۔یہاں شرکاء کی غالب تعداد علامہ کے دھرنے کے شرکاء سے مختلف طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کی عادات اور اقدار بھی مختلف ہیں۔ چیئرمین بنی گالہ میں تین سو کنال کے غریب خانے میں چلے جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے رفقاء کے پی کے ہاؤس کا رُخ کرتے ہیں، باقی حضرات و خواتین نے اسلام آباد کے اعلیٰ ہوٹلوں میں بندوبست کیا ہوا ہے۔ ویک اینڈ پر رونق زیادہ ہو جاتی ہے جب دوسرے شہروں سے بھی نوجوان ذوقِ تماشہ کی تکمیل کے لیے چلے آتے ہیں۔ یہ ہفتے کی شام آتے ہیں اور اتوار کی رات آخری پہر لوٹ جاتے ہیں۔ یہ بھی قدرے سستے لیکن’’ محفوظ اور باسہولت‘‘ ہوٹلوں کو تلاش کر لیتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے دھرنے کے بہت کم شرکاء ہوتے ہیں (چند سو کہہ لیں) جو فٹ پاتھ پر یا لان میں رات بسر کرنے پر مجبورہوں۔ ابتدائی دنوں میں ’’آزادی ‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ والے الگ الگ تھے،۔ علامہ صاحب نے کپتان کو اپنا بھائی اور ’’آزادی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ والوں کو ’’فرسٹ کزن‘‘قرار دے دیا ہے، تو دونوں میں جو باریک سا حجاب تھا، وہ بھی ختم ہوچکا۔ چنانچہ عوامی تحریک والوں کو حاصل جملہ سہولتوں سے تحریکِ انصاف کے بے وسیلہ کارکن بھی فیض یاب ہورہے ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رُخ ہے، دوسرا رُخ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ یہ جبر اور مجبوریوں کی تصویر ہے۔ جگر تھام کر آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ یہ بہاولپور کے قریبی قصبے ٹامے والی کا نوید ہے، دسویں جماعت کا طالب علم۔ لیکن یہ صرف ایک نوید کی کہانی نہیں ۔ بی بی سی کے مطابق یہاں سینکڑوں نوید ہیں۔ ٹامیوالی کے نوید کے بقول، عوامی تحریک کے ایک مقامی عہدیدار تنویر عباسی نے اس کے گھروالوں کو بتایا تھا کہ نوید انقلاب مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہا ہے اور تین روز بعد واپس آجائے گا، اس نے نوید کے گھر والوں کو 6ہزار روپے بھی دیئے تھے۔ نوید واپس جانا چاہتا ہے لیکن یہاں سے نکل نہیں پارہا۔ اس کے بقول، جو لڑکے پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے، انہیں بھی گھر نہیں جانے دیا جارہا، انہیں قریبی علاقوں میں ہی رکھا ہوا ہے ،اور یہ محمد اسلم ہے، وہ بتا رہا ہے کہ گوجرانوالہ کے نواحی دیہات میں گزشتہ ماہ لاؤڈ سپیکر پر اعلانات ہوئے جن میں خواتین کو انقلاب مارچ میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، شیر خوار یا دس سال سے کم عمر بچوں کو ساتھ لے جانے والی خواتین کو تین سے پانچ ہزار روپے اضافی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔(کون کہتا ہے، کہ علامہ کو پھول جیسے نازک بچوں کا احساس نہیں)۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو بھی لایا گیا، اِن کے لیے 10ہزار روپے ماہانہ کا پیکج تھا۔ صرف گوجرانوالہ سے ان خواتین کی تعداد 100کے قریب تھی۔ ایک اور لڑکے کے بقول، اسے 21روز ہوگئے ہیں، گھر واپس جانے کی بات پر سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ ان میں یہ دھمکی بھی شامل ہے کہ راولپنڈی/ اسلام آباد بس سٹینڈ پر ان کے بندے کھڑے ہیں، جوا نہیں اگلے جہاں پہنچا دیں گے اور گھروالوں سے کہہ دیں گے کہ تم پولیس کے ساتھ جھڑپوںمیں مارے گئے۔ (علامہ صاحب نے لاہور میں 10اگست کو یومِ شہدا پر اپنے خطاب میں کہا تھا، جو بھی انقلاب کی تکمیل کے بغیر اسلام آباد سے واپس آئے، اِسے بھی ’’شہید ‘‘کردو۔ الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ یہ اگلے روزبیشتر اخبارات کی بھی ہیڈ لائن تھی۔ معاملے کی سنگینی کا احساس ہونے پر علامہ نے وضاحت کی کہ اُنہوں نے تو یہ بات ’’مذاقا‘‘ کہی تھی)۔ دھرنے کے شرکاء کی ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات عمر ریاض عباسی کا کہنا تھا ، یہ سب لوگ اپنی مرضی سے آئے ، انہیں کسی نے مجبور کیا، نہ پیسے دیئے۔ تاہم انہیں اعتراف تھا کہ 800 کے قریب ایسے کارکن واپس چلے گئے ہیں، جنہیں امتحانات، نوکری یا کاروبار کے مسائل درپیش تھے لیکن یہ لوگ علامہ صاحب سے باقاعدہ اجازت لے کر گئے ہیں۔
ڈکٹیٹر پر آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے مقدمے پر فوج کی عزت اور وقار کی دہائی دینے والے بڑے چوہدری صاحب نے پاک فوج ہی کے ایک سابق سربراہ جنرل کیانی پر مئی 2013 کے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگادیا ہے۔ اس موقع پر اُنہیں پاک فوج کے وقار کا خیال آگیا، چنانچہ اگلے ہی سانس میں وضاحت فرما دی کہ جنرل کیانی نے یہ دھاندلی بذاتِ خود کی، اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔ چوہدری صاحب ملک کے معتبر اور معزز سیاستدان ہیں ۔ ظاہر ہے، اتنی بڑی بات، ایسے سنگین الزام کے لیے ان کے پاس ٹھوس ثبوت بھی موجود تھا، جسے انہوں نے موقع پر پیش بھی کردیا، 11مئی کی شام، جب پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہورہی تھی، چوہدری صاحب گجرات کے ایک پولنگ سٹیشن پر پہنچے لیکن دروازے پر موجود فوج کے ایک سپاہی نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔ 11مئی کے انتخابات میںجنرل کیانی کے براہِ راست ملوث ہونے کے الزام میں کیا یہ ثبوت کافی نہیں؟ لیکن کہنے والے کہتے ہیں، چوہدری صاحب کو جنرل کیا نی پر اصل غصہ فروری 2008 کے الیکشن کے حوالے سے ہے۔ ڈکٹیٹر اپنی کتاب ’’اِن دی لائن آف فائر‘‘ میں لکھ چکا کہ (عمران اور طاہرالقادری جیسوں سے مایوسی کے بعد ) اس نے اپنی سیاسی ضرورت کے لئے قاف لیگ تشکیل دی، اس میں طارق عزیز کے کردار کا بھی تفصیل سے ذکر ہے۔ اکتوبر 2002کے الیکشن کے لئے اپنے اپنے علاقوں کے ہیوی ویٹس بھی قاف لیگ کو فراہم کر دیئے گئے۔ تب ڈکٹیٹر کا سورج نصف النہار پر تھا، اس کے باوجود قاف لیگ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اس کے لیے پیپلز پارٹی میں نقب لگا کر درجن بھر ’’پیٹریاٹ‘‘ تلاش کئے گئے۔ اس کے باوجود ظفر اللہ جمالی صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے وزیراعظم بن سکے۔ 2007 ڈکٹیٹر کے زوال کا سال تھا۔ لال مسجد /جامعہ حفصہ آپریشن، چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے خلاف9مارچ کی کارروائی اورپھر 3نومبر کو عدلیہ پر شب خون کے خلاف ملک گیر تحریک نے ڈکٹیٹر کے اقتدار کی چولیں ہلاڈالی تھیں۔ اسی نے اِسے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ این آر او پر مجبور کیا۔ بے نظیر پاکستان چلی آئیں تو نوازشریف (اور شہباز شریف ) کی راہ بھی نہ روکی جاسکی۔اس دوران وہ فوجی وردی بھی اتارنے پر مجبور ہوگیا (جسے وہ اپنی سیکنڈ اسکن قرار دیا کرتا تھا)۔ جنرل کیانی ان کے جانشین ٹھہرے، فوج کو سیاسی گند سے نکالنا جن کی اوّلین ترجیح تھی۔
ڈکٹیٹر اس کے باوجود مایوس نہیں تھا۔ نوازشریف کاغذاتِ نامزدگی کے آخری روز پاکستان آئے تھے۔ اس سے پہلے تمام ہیوی ویٹس قاف لیگ کے اُمیدوار بن چکے تھے۔ جنرل کیانی کے حکم پر فوج اور ایجنسیاں الیکشن میں غیر جانبدار رہیں۔ ڈکٹیٹر بے دست و پا ہوچکا تھا، چنانچہ مطلوبہ نتائج کے حصول اس کے لیے ممکن نہ رہا۔ چوہدری صاحب کو جنرل کیانی پر اصل غصہ وہ ہے، جسے نکالا انہوں نے اب ہے لیکن فوج کا وقار…؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *