دنیا بھر میں ممالک کی دلچسپ سرحدی تقسیم

فوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

تاریخ، سیاست اور جغرافیائی محل وقوع دنیا بھر میں ممالک کو الگ کرکے بین الاقوامی سرحدوں کو شکل دینے کا کام کرتے ہیں۔ کچھ سرحدی باﺅنڈریز تو کسی ایک سڑک پر لکیر کھینچ کر بھی ہوجاتی ہے مگر جب کوئی سیاسی تنازع ہو تو اونچی باڑیں اور سرحدی محافظوں کی بھرمار بھی نظر آجاتی ہے۔ تو امریکا کینیڈا کی سرحد جو کہ 5 ہزار میل لمبی ہے سے لے کر پاکستان اور ہندوستان کی سرحد کا منظر ناسا سیٹلائیٹ تک، دنیا بھر کی سب سے غیرمعمولی سرحدی تقسیم آپ کو چونکا دیں گی بلکہ ہوسکتا ہے کہ کچھ جگہوں کو دیکھ کر تو آپ دنگ ہی رہ جائیں۔

ہیٹی اور ڈومنیکین ری پبلکفوٹو بشکریہ یواین ای پی

وسطی امریکی ممالک ہیٹی اور ڈومنیکین ری پبلک کے درمیان سرحدوں کی اس تصویر میں سرحدوں کی شناخت کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے یعنی سبزے والا حصہ ڈومنیکن ری پبلک جبکہ بنجر و خشک علاقہ ہیٹی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکا اور روسفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ پتلی سے آبی گزرگاہ یا آبنائے مشرق سے الاسکا اور مغرب سے سائبریا کو الگ کرتا ہے۔ امریکا اور روس کے درمیان یہ سرحد تصویر کے درمیان میں پانی میں موجود ایک بڑے اور چھوٹے جزیرے سے تقسیم ہوتی ہے۔

برازیل اور ارجنٹائنفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ خوبصورت اگوازو آبشار درحقیقت ارجنٹائن اور برازیل کے درمیان سرحدی لکیر بھی ہے۔ اس آبشار کا زیادہ تر حصہ ارجنٹائنی صوبے مسیونیز میں شامل ہے جبکہ کچھ حصہ برازیلین ریاست پارانہ کے اندر آتا ہے اور اس طرح یہ سیاحتی مقام بین الاقوامی سرحد بھی بن گیا ہے۔

امریکا اور میکسیکوفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ امریکا اور میکسیکو کے درمیان لگائی گئی سرحدی باڑ کا منظر ہے۔ اگر آپ دائیں طرف کے پررونق یا گنجان آباد علاقے کو دیکھیں تو یہ میکسیکو کا علاقہ باجہ کیلیفور نیا ہے جبکہ بائیں جانب امریکی ریاست کیلیفورنیا کا علاقہ سان ڈیاگو موجود ہے۔

امریکا اور کینیڈافوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

امریکا اور کینیڈا کے درمیان سرحد 5 ہزار میل تک پھیلی ہوئی ہے مگر ایک جگہ اس کی تقسیم بہت دلچسپ ہے۔ یہ ہیسکل لائبریری ہے جسے دانستہ طور پر امریکا کینیڈا سرحد پر تعمیر کیا گیا اور یہاں بین الاقوامی سرحد کی نشاہدہی فرش پر ایک سیاہ لکیر سے کی گئی جس کے دائیں جانب کینیڈا اور بائیں طرف امریکا ہے۔

فرانس اور اٹلیفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ تصویر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے لی گئی ہے جس میں فرانس اٹلی سرحد کو رات کے وقت دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کے درمیان میں سرحد کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ اس کے بہت زیادہ روشن حصے اٹلی کا ٹورینیو جبکہ فرانس کا مارسلینی اور لیون نامی علاقے ہیں۔

نیدرلینڈ اور بیلجیئمفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

جنوبی نیدر لینڈ کے قصبے بارلے نساﺅ میں بیلجئیم کے ساتھ سرحدی لکیر کو کوئی کب عبور کرلے پتا بھی نہیں چلتا تاہم غور کریں تو ایک طرف این ایل کے الفاظ نیدرلینڈ جبکہ بی کا لفظ بیلجیئم کی نشاندہی کرتا ہے۔

نیدرلینڈ اور جرمنیفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

اب بیلجیئم کے ساتھ تو سرحدی تقسیم کھلی جگہ پر ہے مگر جرمنی کے ساتھ اس ملک کی سرحدی لکیر یورڈ ڈی بزنس سینٹر کی دھاتی پٹی پر ظاہر کی گئی ہے۔ یہاں کی ایک دلچسپ چیز پاس پاس رکھے لیٹر بکس ہیں تاہم اگر آپ وہاں خط ڈالتے ہیں تو اسے نیدرلینڈ پہنچنے میں ایک ہفتہ لگ جاتا ہے۔

پاکستان اور ہندوستانفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

اے ایف پی فوٹو

اوپر والی تصویر انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے لی گئی ہے جس میں اوپر کا روشن حصہ ہندوستان جبکہ اس سے نیچے پاکستان کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کو اورنج یا نارنجی رنگ کی لکیر سے نمایاں کیا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری تصویر واہگہ بارڈر کی ہے۔

پاکستان اور افغانستانفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن بارڈر پر طورخم کا علاقہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان اہم سرحدی کراسنگز میں سے ایک ہے۔

ناروے اور سوئیڈنفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

سوئیڈن اور ناروے پڑوسی ممالک ہیں اور اس کی سرحدی تقسیم بھی بہت دلچسپ ہے جیسا اس تصویر میں دیکھا ہی جاسکتا ہے کہ ایک پل کے درمیان میں ایک لکیر کھینچ کر اسے سرحد قرار دے دیا گیا ہے، بائیں جانب سوئیڈن جبکہ دائیں جانب ناروے کے علاقہ ہے۔

فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یہ تینوں ملک ایک محرابی پل کے ذریعے ایک وسرے سے جڑے ہوئے ہیں جو دریائے رائن کے اوپر ہیونینگیو (فرانس)، ویل ایم رائن (جرمنی) اور باسل (سوئٹزرلینڈ) کو آپس میں ملاتا ہے، اسے دنیا کا سب سے لمبا سنگل اسپن برج بھی کہا جاتا ہے جو کہ صرف پیدل چلنے والوں اور سائیکل چلانے والوں کے مختص ہے، اس کی مجموعی لمبائی 248 میٹر ہے۔

ویت نام اور چینکریٹیو کامنز فوٹو

چین اور ویت نام کی سرحد پر واقع یہ آبشار نیچے پہنچ کر کئی آبشاروں میں تقسیم ہوجاتی ہے اور 229 فٹ نیچے پانی گرنے کی گونجی کئی کلومیٹر دور تک سنی جاتی ہے۔ علی الصبح سورج کی روشنی پانی سے ٹکرا کر دیکھنے والوں کے انتہائی خوبصورت قوس و قزح کا منظر پیش کرتی ہے۔

سوئٹزر لینڈ اور اٹلیکریٹیو کامنز فوٹو

سوئٹزر لینڈ اور اٹلی کی سرحد پر برف پوش الپائن گلیشیئر دونوں ممالک کو الگ کرتا ہے، یہاں پر ایک ٹرین بھی گزرتی ہے جس پر سیاح دونوں ممالک کے اس پہاڑی علاقے کے خوبصورت ترین مناظر سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

رومانیہ اور بلغاریہفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

یورپی ممالک رومانیہ اور بلغاریہ کی سرحد قدرت نے خود بنائی ہے یعنی دریا دونوں کے درمیان ہے، جس پر ڈینوب برج بنا کر رومانیہ کے جنوبی علاقے ریوس کو رومانیہ کے شمالی علاقے گیورگیو سے جوڑا گیا ہے۔

تھائی لینڈ، لاﺅس اور میانمارکریٹیو کامنز فوٹو

یہ مشہور زمانہ گولڈن ٹرائی اینگل ہے یعنی دریائے میکانگ پر بنا ہوا برج جو تھائی لینڈ، لاﺅس اور میانمار کو آپس میں جوڑتا ہے، یہ جگہ سیاحوں میں بھی بہت زیادہ مقبول ہے۔

اسپین اور پرتگالفوٹو بشکریہ وکی میڈیا کامنز

ان دونوں ممالک سرحد کے درمیان ایک دریا Guadian موجود ہے مگر اسے عبور کرنے کا طریقہ کافی دلچسپ ہے جو ایک رسی پر لٹک کر یا زپ لائن کے ذریعے ہوتا ہے، درحقیقت یہ مہم جوﺅں کے لیے بنایا گیا راستہ ہے اور سیاحوں میں کافی مقبول بھی ہے۔

جرمنی ، پولینڈ اور چیک ریپبلکفوٹو بشکریہ ریڈیٹ

جرمنی، پولینڈ اور چیک ریپلک کے درمیان سرحد بھی کافی دلچسپ ہے یعنی ایک دریا کا چھوٹا سا پاٹ تینوں ممالک کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔

نیپال اور چینفوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماﺅنٹ ایورسٹ نیپال اور چین کے درمیان سرحد کا کام بھی کرتی ہے، جی ہاں یہ تو اکثر افراد کو علم ہوگا کہ ماﺅنٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے مگر بیشتر افراد کو یہ علم نہیں کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور اس کی چوٹی پر یہ سرحدی لائن ہے، اسی لیے یہ دنیا کی بلند ترین سرحدی علاقہ بھی قرار دیا جاتا ہے :-

Source: Dawn News

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *