دوسری بار

akhtar saeed madan.

میرے ایک دوست نے گذشتہ دنوں میری تحریروں کے بارے میں فرمایا ہے کہ تم یہ کیا ماتم کرتے رہتے ہو!ہر وقت شام غریباں بپا کئے رہتے ہو۔یہ سلسلہ بند کر دو۔ زندگی رونے دھونے کا نام نہیں ہے۔کون انسان ہو گا جو غم کی بھٹی سے ہو کر نہیں گزرا۔ لوگوں کی فرسٹیشن میں اضافہ کیوں کرتے ہو؟یہ جو لوگ تمہیں ہنستے کھیلتے نظر آتے ہیں کیا یہ اتنے ہی سکھی ہیں،جتنے نظر آتے ہیں! ہر ایک کا سینہ غموں سے بھرا ہوا ہے۔میرے یہ دوست ماشااللہ ایک مستند ادیب ہیں اور ہنسنے ہنسانے کا کاروبار کرتے ہیں۔اس لئے اُن کا کہا ہوا بھی مستند ہے ۔چنانچہ آج میں ایک ہنسنے والے آدمی کا قصہ سناتا ہوں۔یوں تو وہ زندگی میں ہر وقت ہنستا ہی رہتا تھا لیکن زندگی میں دو بار وہ کھل کر ہنسا تھا ۔اتنا زیادہ ہنسا تھا کہ ہنستے ہنستے اُس کے پیٹ میں بل پڑ گئے تھے ۔ اُس موقع پر اُس کے ساتھ ہنسنے والا ہنستے ہنستے باقاعدہ رونے لگ گیا تھا۔
پہلی بار جب اکمل کھل کر ہنسا تھا تو اُس کی عمر بارہ تیرہ سال ہو گی۔وہ چھٹی کلاس میں زیر تعلیم تھا۔اُس کے ساتھ اشرف تھا جو ناصرف اُس کا دوست اور ہم جماعت تھا بلکہ اُسی کی گلی میں رہتا تھا۔وہ دونوں دانتوں کا ٹی روٹی تھے۔صبح اکٹھے سکول جاتے تھے۔اکٹھے ہوم ورک کرتے تھے ۔اکٹھے کھیلتے کودے تھے۔ دونوں کی بہت سی عادات مشترک تھیں۔ ایک کو ڈھونڈنا ہوتا تو سب سے پہلے دوسرے کے گھر میں تلاش کیا جاتا۔کلاس میں دونوں ایک ہی بینچ پر بیٹھتے تھے۔دونوں کے رول کال بھی آگے پیچھے پکارے جاتے تھے۔دونوں گورنمنٹ کے سکول میں زیر تعلیم تھے۔اُن دنوں پرائیویٹ سکولوں کا ایسا رواج نہیں تھا۔
اُن دنوں اکمل کی خواہشات بھی کوئی بہت بڑی نہیں ہوتی تھیں۔مثلاً کیپٹن کا ایک پین جس کی نب بہت باریک ہوتی تھی ۔کیپٹن کے پین سے اُس کی املا بہت خوبصورت ہو جاتی تھی۔کیپٹن کا پین اکمل کے ہاتھ میں پکڑا ہوا بہت بھلا لگتا تھا۔یہ قلم کلاس کے مانیٹر طارق کے پاس تھا ۔اس کی قیمت دوروپیہ پچاس پیسے تھی۔ایک تسموں والا جوتا جو محمود پہن کر آتا تھا اوراُس کے اوپر چیتے کی کھال جیسے نشانات تھے اور چلتے ہوئے جس میں سے ایک مخصوص آواز آتی تھی ،اکمل کو بہت اچھا لگتا تھا۔اُس جوتے کی قیمت اٹھارہ روپے ننانوے پیسے تھی۔الاسٹک کی براؤن جرابیں جس پر لمبی لمبی دھاریاں تھیں ،جو نسیم کے علاوہ ماسٹر صدیقی صاحب پہن کر آتے تھے۔اکمل کو بہت لبھاتی تھیں ۔ان جرابوں کی قیمت سوا تین روپے تھی۔مگر مسئلہ یہ تھا کہ اُس کے والد کی آمدنی بالکل بھی نہیں تھی۔کیونکہ وہ گذشتہ دو سال سے بیمار تھااور چارپائی پر پڑا تھا۔وہ کمانے کے بجائے دوا دارو کا محتاج تھا۔گھر میں اُس کی دو چھوٹی بہنیں تھیں اور صرف اس کا بڑا بھائی کمانے والا تھا،جو ایک جگہ ملازمت کر کے ایک سو بیس روپے تن خواہ لیتا تھا۔
اکمل کی ماں جیسے تیسے کر کے ان روپوں سے گھر بار کا خرچہ چلاتی تھی۔ پتا نہیں کیوں اکمل نے ایک دن اپنی ان خواہشات کا اظہار اپنے والد سے کر دیا۔اس کے والد نے اکمل کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیا اوردیر تک سہلاتا رہا ۔وہ منہ سے کچھ نہیں بولا ۔اکمل باپ کی چارپائی کے پاس بیٹھا سوچتا رہا کہ شائد اُس سے کوئی غلطی سر زد ہو گئی ہے ۔پھر وہ خود ہی اٹھ گیا۔اُس نے ایک لمحے کے لئے باپ کی خالی خالی آنکھوں میں جھانکا۔باپ دھیرے سے بولا :میں تمھارے بھائی سے کہوں گا۔اکمل مسکرا پڑا اور بولا:کوئی بات نہیں ابا۔۔۔!کوئی بات سوچ کر باپ بھی مسکرا پڑا۔یہی بات جب اکمل نے ماں کو بتائی تو اس نے اکمل کو ڈانٹ دیا:بیوقوف ۔۔۔ان کے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟وہ تمہارے بھائی سے کہیں گے اور تمھارا بھائی جو کماتا ہے لا کر میری ہتھیلی پر رکھ دیتا ہے ۔تم شکر نہیں کرتے کہ وہ تمھیں پڑھا رہا ہے۔جب خود کمانے لگے گا تو اپنی خوہشیں بھی پوری کر لینا۔
اشرف کی خواہشیں بھی اس جیسی ہی تھیں۔مثلاً سردیوں کے لئے ایک جیکٹ جس کے اندر فر لگی ہوئی تھی۔طیب بک ڈپو کی کاپی جس کا کاغذ بہت نفیس تھا۔ساٹھ روپے والی CAMY کی ایک کلائی گھڑی ،جس کے ہندسے اندھیرے میں جلتے تھے۔اشرف کی خوا ہشات اکمل سے کچھ مہنگی تھیں،مگر باقی چیزوں کے علاوہ گھڑی ایک دکان دار سے قسطوں پر مل سکتی تھی۔دونوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ اگر ان کی سکول کی فیس معاف ہو جائے تو ان کی یہ خواہشیں پوری ہو سکتی ہیں۔دونوں کی سکول کی فیس تین روپے ساٹھ ساٹھ پیسے تھی۔اُن دنوں فیس معافی کے لئے باقاعدہ امتحانات ہوتے تھے۔دونوں نے فیس معافی کے فارم بھرے اور ٹیسٹ میں بیٹھ گئے۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دونوں کے نمبر ایک جتنے آئے ۔دونوں کا انٹرویو ہوا ۔
اُس روز چھٹی کے بعد اکمل ایک عجیب سی کیفیت کے ساتھ گھر میں داخل ہوا ۔ماں نے اُسے کھانے کو روٹی دی مگر وہ خبر سنانے کو بہت بے چین ہو رہا تھا۔وہ جھرجھراتے ہو ئے لہجے میں بولا:اماں اشرف کی فیس معاف ہو گئی ہے مگر میری نہیں ہوئی۔۔۔!
:کیوں؟ماں نے حیرت سے پوچھا ۔اکمل مسکرایا:اس لئے ماں کہ میرا باپ زندہ ہے اور اشرف کا فوت ہو چکا ہے !!اس کے ساتھ ہی اکمل پر جیسے ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔اُس کی ماں بھی ہنسنے لگی :یہ سکول والے بھی پاگل ہیں کاکا ۔۔۔۔ہائیں ناں یہ کیا ہوا ۔دونوں ماں بیٹا ہنستے جا رہے تھے۔ہنستے ہنستے دونوں کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔بالآخر ماں رک گئی اور اکمل کو ہلکی سی چپت مار کر بولی :اب چپ بھی کر ۔۔۔بیوقوف ! مگر اکمل کی ہنسی میں کمی نہیں آئی ۔وہ ہنستا رہا ۔ماں سنجیدہ ہوئی اور پھر یکلخت اُس کی آنکھیں بھر آئیں :ہائیں کہ ناں ۔۔۔یہ سکول والے بھی پاگل ہیں۔ماں روتی جاتی تھی اور بار بار یہی جملہ دہراتی جاتی تھی۔لیکن اکمل کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔ زندگی کی وہ ہنسی اکمل کو آج بھی یاد تھی۔
اس ہنسی کے 46سال بعداکمل کو دوسری بار پھر اُسی شدید ہنسی کا دورہ پڑا تھا۔46 سال ناآسودہ لوگوں کے لئے ایک طویل عرصہ ہوتا ہے ۔وہ جو ہر لمحہ زندگی کی مسرتوں سے خط اُٹھاتے ہیں ،ان کے لئے چھیالیس سال ایک پلک جھپکنے کا عرصہ ہوتے ہیں اور وہ جو زندگی کے سوتیلے ہوتے ہیں اُن کے لئے یہ سال بہت ہر جائی ہوتے ہیں۔اکمل کا شمار دوسرے قسم کے لوگوں میں ہوتا تھا۔وہ الحدید مارکیٹ سے واپس آیا تو سیدھا محلے کی مسجد میں مغرب کی نماز کے لئے چلا گیا۔نماز ادا کر چکنے کے بعد وہ مسجد میں ہی ٹھہر رہا ۔اس کا جی گھر جانے کو نہیں چاہ رہا تھا۔تین جوان بیٹیاں جن عمریں ڈھلنے لگی تھیں،اُس کے سینے پر مونگ دلنے کو گھر میں موجود تھیں ۔ وہ ایک سفید پوش آدمی تھا۔وہ جتنا کماتا تھا بہ مشکل گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔اُس کا سیٹھ کاروباری انداز میں ایک ہی بات کہا کرتا تھا کہ اکمل میاں یہاں بیٹیوں کا مندا بہت ہے! دنیا کی ہر جنس کو تیزی آ رہی تھی مگر بیٹیوں کا مندا شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا تھا۔اُس کے سبھی جاننے والے اُس کی خالی جیب سے سے واقف تھے۔ اس لئے کوئی بھی اُس کی دہلیز چڑھنے کے لئے تیار نہیں تھا۔وہ دیر تک مسجد میں لیٹا رہا ،پھر قاری بشیر کی ملائم آواز نے اُسے چونکا دیا:اکمل میاں خریت تو ہے؟
:آں ۔۔۔ہاں خریت ہے قاری صاحب ۔۔۔بس ذرا تھک گیا ہوں ۔اب عمر ہی ایسی ہے کہ جلد تھک جاتا ہوں۔
:کیا میں دبا دوں؟قاری نے سبک لہجے میں کہا۔:نن۔۔نہیں نہیں۔۔۔آپ شرمندہ نہ کریں۔وہ اُٹھ کر چل دیا۔
گھر میں داخل ہوا تو اُس کی بیوی نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا :دیر کر دی آپ نے ۔۔خریت تو ہے؟وہ صحن میں بچھی چارپائی پر جیسے ڈھے گیا:بس ذرا مسجد میں ایک جاننے والا مل گیا تھا۔اُس نے جھوٹ بولنے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔بیوی نے کھانا دیا تو رقابی میں میٹھے چاول دیکھ کر اُس کا ماتھا ٹھنکا۔بیوی نے بتا یا کہ آج اشرف کی آخری بیٹی کی شادی تھی۔اکمل حیرت سے بولا:اچھا ۔۔۔میں نے خیال نہیں کیا ۔آج اشرف کے گھر میں لائٹنگ تو ہو رہی تھی۔۔۔بڑی خوشی کی بات ہے ۔وہ چاول کھاتے ہوئے سوچنے لگاکہ اشرف بہت سیانا نکلا ۔اُس نے کینسر کا اعلاج نہ کروا کا بڑی عقلمندی کا ثبوت دیا ہے۔اُس کے مرتے ہی سبھی رشتے دار اُس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔یکدم سبھی کو خدا یاد آ گیا۔ہر کوئی یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئے دوڑا چلا آیا۔کوئی گندم اور چاول پہنچانے میں جت گیا اور کوئی کپڑا لتا لے آیا۔لوگوں کو دفعتاًیاد آیا کہ اُس کے گھر چار چار جوان بیٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ہر کوئی اُن کے لئے بر تلاش کرنے لگا ۔پہلی کے لئے اتنا جہیز اکٹھا ہو گیا گیا باقی تینوں کے لئے رشتوں کی لائین لگ گئی۔
اکمل کو سوچتے دیکھ کربیوی رازدارنہ لہجے میں بولی :اشرف کی تو جیسے لاٹری نکل آئی ہے۔دوسال میں چاروں بیٹیاں بیاہی گئیں۔اکمل نے بہ غور اپنی بیوی کو نیم تاریکی میں دیکھا۔بیوی کے خدوخال آسیب زدہ سے لگ رہے تھے۔اکمل نے میٹھے چاولوں کا آخری لقمہ منہ میں ڈالا اور گھمبیر لہجے میں بولا:اشرف شروع دن سے ہی خوش قسمت رہا ہے۔پھر معاً اُس پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔بیوی بھی ہنسنے لگی۔اکمل ہنسی روک کر بولا:کسی کی موت زندگی سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے!!اور پھر ہنسنے لگا ۔کمرے سے بیٹیاں بھی باپ کی ہنسی کی آواز سن کر باہر آگئیں۔اُس کی بیوی کب تک ہنسی میں اُس کا ساتھ دیتی ۔وہ تھوڑی ہی دیر میں چپ کر گئی۔اکمل کو مسلسل ہنستے دیکھ کر وہ گھبرا کر بولی:آپ پاگل تو نہیں ہو گئے! ہمسائے کیا کہیں گے؟چپ کر جائیں۔۔چپ کر جائیں۔مگر اکمل مسلسل ہنستا چلا گیا۔۔۔بالآخر بیوی رونے لگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *