عمران خان اور ’’ کینڈی کرش ساگا‘‘

طاہر مہدی

آپ کو جان کر حیرانی ہو گی مگر عمران خان کا کینڈی کرش نامی گیم کھیلے بغیر گزارا نہیں۔آپ پوچھیں گے کیسے؟ تو وہ ایسے کہ شائد حقیقت میں وہ جیتنے کی خواہش سے خود ہی ہار مان چکے ہیں اور اپنے خود کے بچھائے ’’ ورچوئیل پولیٹکس‘‘ کے imran-and-candy-crushجال میں خود ہی پھنس گئے ہیں۔
ہمارے ملک میں سیاست کو دو مداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا مدار تو وہی پرانی سیاست جس میں قوم کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کئیے جاتے ہیں۔ اس سیاست کا میدان الیکشن کے میدان میں سجتا ہے اور وہاں کچھ اصول و قوائد کو سامنے رکھتے ہوے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ کئی دفعہ اُن اصولوں کو تروڑا مروڑا بھی جاتا ہے مگر یہ ایک روایتی سیاست ہوتی ہے۔
جبکہ دوسرا مدار وہ جس میں سیاست کو سکرین پر دکھایا جاتا ہے چاہے وہ ٹی وہ ہو یا کمپیوٹر۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ سکرین پر نظر آنیوالی سیاست دراصل اصلی سیاست کا عکس ہو مگر ہوتا اس سے بالکل اُلٹ ہے۔ اس تضاد نے اصلی یا روایتی سیاست اور سکرین والی سیاست کے درمیان کا رشتہ بہت مشکل کر دیا ہے۔
ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک سیاست دان اصل میں اچھی سیاست کا ثبوت دے رہا ہوتا ہے لیکن وہ سکرین پر داد نہیں سمیٹ پاتا جبکہ کبھی کبھی ایک سیاست دان اصل میں سیاست کے نام پر کچھ بھی نہیں کر رہا ہوتا مگر سکرین پر اُس کی بڑی واہ واہ ہو رہی ہوتی ہے اور جب تک گیم شروع نہ ہو تب تک یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا سیاست دان زیادہ سکور بنا رہا ہے۔
یہ آن سکرین والی سیاست دیکھنے والوں کے ساتھ ساتھ کھیلنے والوں کے لیے بھی بڑی دلچسپ ہوتی ہے مگر مسئلہ تب ہوتا ہے جب کھلاڑی سکرین کی شہرت کو سچ مان لیتا ہے۔اب عمران خان نے ایک اور مارچ کی تاریخ دے کر دوبارہ سکرین کی سیات کا آغاز کیا ہے اور اس دفعہ تاریخ ہے 30ستمبر کی۔ اب سکرین پر ہر وقت ایسا سماں ہوتا ہے جیسے عمران خان رائیونڈ جا کر پانی پت کی جنگ ک�آغاز کرنیوالے ہیں۔ویسے تو عمران خان دکھاتے ہیں کہ اُن کی جنگ ہر امیر طبقے کے کرپٹ شخص کے خلاف ہے لیکن اُن کا اصل نشانہ نواز شریف ہیں۔
عمران خان کا وزیرِ اعظم کے خلاف موقف یہ ہے کہ اُن کی دوسرے ملکوں میں حرام کی کمائی کی کمپنیاں اور اکاؤنٹ ہیں جو اُن کے بچوں کے نام پر ہیں اور اُنہوں نے ان اکاؤنٹ اور کمپنیوں کی معلومات الیکشن کمیشن کو نہیں دی تھیں۔
ابھی19ستمبر کو یعنی عمران خان کے مارچ سے دس دن پہلے NA-162 ساہیوال المشہور چیچہ وطنی کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن کروائے گئے۔ یہ 148سیٹوں میں سے PTIکی جیتی ہوئی چھ سیٹوں میں سے ایک سیٹ تھی۔ مگر اس الیکشن مین دوسرے نمبر پر آنیوالوں نے الیکشن ٹریبیونل سے رابطہ کیا اور موقف اختیار کیاکہ الیکشن میں جیتنے والے اُمیدوار نے اپنے اصل اثاثے ظاہر نہیں کیے ہیں۔ اُن کا الزام تھا کہ جیتنے والے امیدوار کا جی ٹی روڈ پر ایک پٹرول پمپ، ایک سی این جی پمپ اور کچھ دوکانیں موجود ہیں، اس کے علاوہ اُن کی ایک ٹیکسٹائل کمپنی بھی ہے جو 887 ملین روپے کا قرضہ نا ادا کرنے پر دیوالیہ ہو چکی ہے اور وہ چار لاکھ کے ٹیلیفون بِل کے بھی دیندار ہیں۔
اب بندہ پوچھے کہ کیا یہ وہی کرپشن نہیں جس کا الزام عمران خان نواز شریف پرلگاتے ہیں؟
یہ کیس عدالت میں تین سال چلا اور عدالت نے درخواست کنندہ کے حق میں فیصلہ سنا دیا اور سیٹ جیتنے والے حسن نواز نے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا اور ایک سال بعد وہاں سے بھی یہی فیصلہ آیا۔ حسن نواز صاحب کی سیٹ گئی، وہاں دوبارہ الیکشن ہوے اور نواز شریف کی پارٹی جیت گئی۔
رائے فیملی ساہیوال کی ایک طاقتور فیملی مانی جاتی ہے مگر وہاں اور بھی کئی خاندان ہیں جیسے جٹ، آرائیں، گجر وغیرہ جن کی بے حد سیاسی اور سماجی اہمیت ہے۔ نواز شریف نے کوشش کی کہ تمام خاندان ایک پلیٹ فارم پر آجائیں او رکسی ایک اُمیدوار کو اس سیٹ کے لیے نامزد کر دیں۔ اس طرح اب اُس سیٹ پر ایک جٹ کی جیت ہوئی ہے۔رائے فیلمی اس لیے ہار گئی کہ انہوں نے اکیلے ہی ہی الیکشن لڑنے کا فیص
لہ کیا۔
اب پی ٹی آئی کی خواہش کو سامنے رکھتے ہوے الیکشن کا انعقاد آرمی کی ماتحتی میں ہوااس لیے دھاندلی بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے مگر پی ٹی آئی اس کو مان نہیں رہی اور ابھی بھی اپنی سکرین کی شہرت کو صحیح مان کر چل رہی ہے۔ یہ شائد پی ٹی آئی والوں کو جیت کا احساس دلاتی ہے۔ مگر وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ سکرین پر نظر آنیوالی تعداد صحیح تعداد نہیں ہے۔ تو اگر تو آپ وقتی فرار چاہتے ہیں تو پھر تو ٹھیک ہے آپ مارچ میں جائیے، مجھے یقین ہے آپ کو مزہ آئے گا۔
شائد عمران خان اپنا ’’ پوکے مون گو‘‘ کا بھی ایک ورژن نکال لین جس میں وہ بھاگ بھاگ کے کرپٹ سیات دانوں کو پکڑیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *