پرلے درجے کی حماقت

fahad-hussain

فہد حسین

کوئی تو بھارت سے پوچھے کہ یہ ملک بڑا کب ہو گا۔  جب سے انڈیا میں اڑی کے علاقے میں انڈین بیس پر حملہ ہوا ہے اس نے ایک دودھ پیتے بچے کی طرح کا رویہ اختیار کر لیا ہے۔ انڈین آفیشلز نے میڈیا لیک کے ذریعے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے  جب کہ بھارتی وزیر اعظم نے تو اپنے ووٹرز اور پوری دنیا کو متاثر کرنے کے لیے دھمکیاں بھی دینا شروع کر دی ہیں۔ اس سب میں بھارت کا میڈیا بھی کسی سے کم نہیں ہے اور پورے ملک کے ہر شہری کے اندر جنگی جنون پیدا کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہیں چھوڑتا۔ سٹوڈیوز میں سابقہ اور ریٹائرڈ فوجیوں اور سیاستدانوں کو بلا کر ماحول کو گرمایا جاتا ہے جہاں بڑے بڑے لیڈر پاکستان پر حملے کے مختلف طریقے ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ اگر مسئلہ بڑا نہ ہوتا تو یہ سب چیزیں پورے ملک کے عوام کے لیے انٹرٹینمنٹ کا اچھا ذریعہ ثابت ہوتیں۔ کیا بھارت کی طرف سے کسی بڑی جارحیت کا خطرہ ہے؟  بھارتی رویہ سے ایسا لگ رہا ہے جیسے جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ انڈیا کی طرف سے اپنے دسترے لائن آف کنٹرول پر تعینات کرنے کی خبر کے ذریعے مزید ٹینشن پیدا کی جا رہی ہے۔ اگرچہ آفیشلز کے مطابق یہ روٹین کی کاروائی ہے لیکن وقت کو دیکھ کر  صورتحال کا اندازہ لگایا   جا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے موٹر وے پر اپنے طیارے موٹر وے پر اتار کر بھارت کو پیغام دیا ہے کہ کسی بھی چالاکی کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے بیچ اس طرح کی گرمیاں ایک عام چیز سمجھی جاتی ہیں۔ دونوں ممالک کے سیاستدان اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز رکھنے کے لیے بھی اس طرح کے حربے آزمانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ شاید اسی طریقے سے ہی ہمیں معلوم  ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں مگن رہنا چاہیے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن اس بار ایک نیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ غصہ، دھمکیاں، اور ہٹ دھرمی بھارت کے روایتی ہتھیار ہیں۔ اس بار ایک نئی چیز دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ ہے بھارت کی بیوقوفی۔ میں بتایا ہوں کہ میں ایسا کیوں سمجھتا ہوں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ کسی ثبوت کے بغیر الزام لگانا عقلمندی نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ  اپنی خواہشات کو اپنی قابلیت پر حاوی نہیں کرنا چاہیے۔ تیسری وجہ، اتنی بلندی پر کبھی مت جاو کہ واپسی کے لیے اپنی عزت ہی کھو دو۔ انڈیا نے یہ تینوں حماقتیں کر لی ہیں۔ اوڑی حملے کے فوری بعد انڈین میڈیا آپے سے باہر ہو گیا۔ فوری طور پر اعلان کر دیا گیا کہ پاکستان اس حملے میں ملوث ہے۔ بغیر تحقیق پاکستان پر الزام لگا کر صحافت کے تقدس کو پامال کر دیا گیا۔ ثبوت کے لیے انہوں نے دعوی کیا کہ ہتھیاروں پر پاکستانی مارکنگ پاکستان کے ملوث ہونے کا پتا دیتی ہے۔ اس طرح پاکستان کے خلاف الفاظ کی جنگ شروع کر دی گئی۔ ان خود ساختہ منصفوں نے پاکستان کے خلاف اس جنگی جرم کا بدلہ لینےکا مطالبہ بھی کرڈالا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اچھی  کہانی کے لیے ثبوت اہم نہیں ہوتے ۔ بعد میں بھارتی فوجی اہلکاروں نے اس  جھو ٹ کی قلعی بھی کھول دی اور اعتراف کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پاکستان کی شمولیت ثابت کی جا سکے۔ اس وقت تک صورتحال بہت آگے جا چکی تھی اور عقل اور سمجھ پر مبنی ثبوت اس کہانی کے پہیے جو سپیڈ پکڑ چکے تھے پر بریک لگانے کے لیے کافی نہیں تھے۔ جیسے ہی سرکس بڑا ہوتا گیا، تماشہ دکھانے والوں کی آوازیں بھی اونچی ہوتی گئیں۔ کچھ نے آزاد کشمیر پر سرجیکل سٹرائیک کا مشورہ دیا تو کچھ نے مریدکے پر ہوائی حملہ کرنے کی تجویز پیش کی۔

حقیقت ایک آپشن بن کر رہ گئی۔ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی خواہشات اور ان کی قابلیت میں فرق کتنا ہے۔ کسی کو یہ بھی خیال نہیںٰ آیا کہ نیو کلیر ہتھیار ایک حقیقت بن چکے ہیں۔ دہلی میں بیٹھے سارے مفکرین جانتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچنا اور یہ توقع رکھنا کہ کوئی رد عمل نہیں ہو گا  ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ اس علم کے باوجود حملے کے تمام پہلووں کو زیر غور لایا گیا ۔ انڈیا کسی صورت یہ نہیں کر سکتا کہ وہ انٹرنیشنل بارڈر کراس کرے اور پاکستان سے توقع رکھے کہ وہ منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ایک حملہ بھی بہت بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں دیکھنے اور جاننے کے باوجود مختلف لوگوں نےعوام میں ایسی توقعات پیدا کر دیں جو پوری نہیں ہو سکتیں۔ اس طرح کا رویہ کسی بیوقوف اور احمق کی طرف سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس بیوقوفی کی گہرائی دیکھ کر کوئی بھی سکتہ حیرت میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔ اس طرح کے راگ الاپنے کے بعد بھارت اپنی میچورٹی اور سمجھ بوجھ کا احساس کھو چکا ہے۔ شائننگ انڈیا کے دعوے دار بہت خوش تھے کہ بھارت آخر کا دنیا بھر کی بہترین معیشت والی قوموں کی صف میں کھڑا ہو چکا ہے۔ اب کیا ہوا؟ بلین بچے بڑے لڑکوں کے ساتھ آگ کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔ صرف ایک حملہ کے جواب میں ساری مہارت، سمجھ بوجھ، پلاننگ اور حکمت عملی پر پانی پھیر دیا گیا۔ توقع کے بر عکس اب پاکستان بڑا بھائی بن کر بھارت کو ٹھنڈا کرنے کے فرائض نبھا رہا ہے۔ بھارتی سٹیٹ اور بھارتی میڈیا کے بیچ ایک واضح  تعلق ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں تا کہ پاکستان پر اپنا رعب جما سکیں ۔ لیکن اس بار انہوں نے ایسی چیز پکڑ لی ہے جو وہ سنبھال نہیں پائیں گے۔ نتیجہ بہت بھیانک اور مضحکہ خیز ہے۔ زیادہ قومیت پرستی اور جارحیت دکھاتے دکھاتے بھارتی حکومت اور میڈیا دنیا کے سامنے احمق اور بیوقوف  ثابت ہو چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *