بھارتی ٹی وی چینلز میں کس اہم چیز کا فقدان ہے؟

سیمی پاشا

seemi-pasha

بھارتی ٹی وی چینلز آجکل مواد اور قابل یقین ہونے کے معاملے میں بہت پیچھے ہیں۔ اخبار اور میگزین نے اپنا معیار قابل اعتبار اور اعلٰی بنا رکھا ہے اگرچہ ان میں بھی کچھ حد تک بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ آن لائن نیوز پورٹل اور سوشل میڈیا  کی تیز رفتاری اور بہتری نے اپ ڈیٹس، تصویریں اور ویڈیوز فوری طور پر مہیا کرنے کی روایت کے ذریعے 24 گھنٹے چلتے رہنے والے چینلز کے مالکان کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ٹی وی انڈسٹری جہاں مواد کی کوالٹی اور سپیڈ کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے وہاں اس کے سامنے دو آپشنز بھی ہیں۔ ایک یہ وہ جنگ کی شور و غوغا، جنگ و جدل، چیخ و پکار اور اس طرح کی   حرکات کے ذریعے ٹویٹر  استعمال کرنے والوں کے ساتھ مل جائے یا  ذمہ داری اور میچورٹی کا مظاہرہ کرے۔ اگر نیوز روم میں مثبت تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کچھ مشورے ہیں جو ان کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

پہلا سٹیپ یہ ہے کہ وہ اپنا سکرپٹ بہتر کریں۔ بری تحریر ہمیشہ بہت برا تاثر دیتی ہے۔ اگرچہ عام زبان استعمال کرنے میں مذائقہ نہیں لیکن اس میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے تا کہ غیر معیاری الفاظ کا استعمال دیکھنے کو نہ ملے۔ اپنا سکرپٹ مضبوط کرنے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ہیڈلائن۔ بلٹن کے لیے ہیڈ لائن ہمیشہ فعل حال جاری میں لکھی جانی چاہیے۔ 24 گھنٹے کی خبر دینے کے لیے فعل ماضی کا استعمال ایسا ہی ہے جیسے کسی کو گزشتہ رات کا کھانا پیش کرنا۔ آپ کی خبر پرانی اور بوسیدہ لگے گی اور ناظرین کسی گرما گرم خبر کے لیے دوسرے چینلز کی طرف چل نکلیں گے۔ اس ضمن میں متن اور تحریر بھی بہت اہم ہے۔

2۔ ہیڈ لائن ڈائریکٹ اور کرسپ ہونی چاہیے۔ اگرچہ، اس لیے، اس کے باوجود، اس طرح کے الفاظ کبھی ہیڈ لائن میں شامل نہیں کرنے چاہیے۔ اپنے ناظرین کو دوست سمجھیے۔ دوست سے گفتگو کے دوران اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں ہوتے۔

3۔ ہیڈلائن کو ایسے استعمال کریں کے دیکھنے والے کی توجہ پوری طرح کھینچ لی جائے۔ خبر کو مختصر اور دھماکہ دار بنا کر پیش کریں۔ انٹرٹینمنٹ اور سپورٹس میں مزاح کا استعمال کوئی بری بات نہیں ہے۔

4۔ سب سے پہلے تازہ ترین اور بہترین خبر سنائیں۔ سب سے بہترین تصاویر پہلے دکھائیں ۔ اگر کسی حکومتی اہلکار نے بری بات کہی ہو جسے آپ ہیڈلائن بنانا چاہتے ہیں تو اس کے الفاظ پہلے بیان کریں اور نام بعد میں بتائیں۔

نئی کہانیاں:

سب سے پہلے بتائیں کہ ناظرین اس وقت ٹی وی کے سامنے کیوں بیٹھے ہیں۔ تازہ ترین بات پہلے بتائی جائے۔  دوسرے اور تیسرے جملے میں معلوم ہو جانا چاہیے کہ کہانی کس طرف جا رہی ہے۔

2۔ ٹینسز۔ پہلا جملا ہمیشہ فعل حال میں ہونا چاہیے۔ CONTEXT فعل ماضی میں تحریر کیا جا نا چاہیے۔

3۔ اگر سٹوری ایک سپیشل رپورٹ پر مبنی ہے تو یہ پہلے بتاد ینا چاہیے۔ یہ صرف نیٹ ورک کے لیے اچھی بات نہیں ہے بلکہ اس سے ناظرین کو پتہ چلتا ہے کہ یہ سٹوری صرف آپ کے پاس ہے۔ اگر آپ کے پاس کہانی کے بارے میں دوسرے چینلز سے زیادہ معلومات اور تفاصیل ہیں تو  آپ اسے سپیشل رپورٹ کے طور پر متعارف کروائیں۔

4۔ گرامر کر ٹھیک ہونا سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اپنی کہانی چھوٹی کرنے کے لیے آرٹیکل اور حروف نہ کاٹیں۔ اگر آپ کو انگلش لکھنی نہیں آتی تو انگریزی چینل کے لیے نہ لکھیں۔ غلط جملے اور گرامر سےآپ کے ناظرین کو آپ کی قابلیت پر شک ہو جائے گا۔

ٹیزر۔ آپ ایک سٹوری کو ٹیرز بنانا چاہتے ہیں تو اسے صحیح طریقے سے ٹیزر بنائیں یا کوشش ترک کر دیں۔ جملے کو بہت مختصر کریں اور مخصوص الفاظ استعمال کریں۔ آفٹر دی بریک کہنے کی بجائے  کمنگ نیکسٹ کہیں۔ آپ کو لوگوں کا موڈ بریک کرنے کی بجائے ان کی توجہ بنائے رکھنی چاہیے۔

خبروں کی ترتیب

1۔ اگر آپ کے پاس بریکنگ نیوز نہیں ہے تو بلٹن کے اندر نیشنل، انٹرنیشنل، فیچرز سپوٹس اور انٹرنٹینمنٹ سٹوریز شامل کریں۔

2۔ اپنے بلٹن کا ٹائم دیکھ کر سٹوری کو مقررہ وقت کے لیے مختصر کر لیں ۔ اگر وقت بچ جائے تو بھی کسی سٹوری کو دہرانے سے گریز کریں۔

3۔ نیوز ریپ میں رکھی جانے والی سٹوری اتنی اہمیت کی حامل نہیں ہوتی کہ اسے علیحدہ خصوصیت دی جائے۔ اسی لیے ایسی سٹوریز کو ایک ہی حصہ میں اکٹھا کر دیا جاتا ہے۔ نیوز ریپ کو پہلی ، دوسری یا تیسری کہانی بنانے سے بھی گریز کیا جائے۔ فوکس سٹوری کو باقی تمام اقسام پر ترجیح دیں۔ ریپ سٹوری کو بعد میں شامل کریں۔ نیشنل نیوز ریپ نیشنل سٹوری کے بعد آنا چاہیے۔ یہی طریقہ انٹرنیشنل نیوز ریپ میں ملحوظ رکھیں۔

4۔ سٹوریز کو صحیح طریقے سے ترتیب دیں۔ آپ انہیں تھیوری کے لحاظ سے یا علاقے کے لحاظ سے ترتیب دیں۔ سب سے آخری چیز، یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ٹی وی نیوز ہر عمر کے لوگوں کے لیے ہوتی ہے ۔ یہ 12 سال کے بچے سے 80 سال کا بوڑھا تک سنتا ہے۔  اس لیے مشکل مواد کو آسان اور مختصر بنائیں ۔ ناظرین کو آپ کے سمارٹ بننے سے کوئی لگاو نہیں ہوتا۔ وہ صرف یہی دیکھتے ہیں کہ کیا آپ ان کو بات سمجھا پا رہے ہیں یا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *