کوئی شرم ہوتی ہے ، حیا ہوتی ہے

ابرار ندیم

abrar nadeem

سچ بات یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانیوں کی طرح عمران خان میرا بھی ہیرو تھا مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب اُس کے گرد سازشیوں اور بہروپیوں کا ٹولہ ابھی جمع نہیں ہواتھا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ صرف ایک محب وطن کر کٹر تھا اور اپنی صلاحیت کے مطابق ملک اور قوم کے وقار اور عزت کےلئے جی جان سے کھیلتا تھا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب اس نے کسی لالچ اور غرض کے بغیر غریب اور مستحق ہم وطنوں کے لئےوطن عزیز میں کینسر کے مفت علاج کے لئے شوکت خانم ہسپتال بنانے کا بیڑہ اٹھایا تھا اور میرے سمیت پوری قوم نے اسے ایک ہیرو کی طرح اپنے سر آنکھوں پر بٹھایا تھا ۔ایسا نہیں کہ اُس وقت عمران خان فرشتہ تھا یا قوم اس کے کردار سے ناواقف تھی ۔زینت امان کے ساتھ اس کا نام اس وقت بھی لیا جاتا تھا۔عمران خان کے حوالے سے سیتا وائٹ کے اس وقت بھی چرچے تھے۔سیتا وائٹ سے عمران خان کی ناجائز بیٹی ٹیریان کی خبروں سے لوگ اس وقت بھی واقف تھے۔ لوگوں کو یہ بھی پتا تھا کہ عمران خان نے کس طرح ذاتی عناد میں قاسم عمر جیسے ہونہار کرکٹر کا مستقبل برباد کیا تھا۔عوام اس بات سے بھی واقف تھے کہ پاکستان کرکٹ کے عظیم کھلاڑی جاوید میانداد کو کپتانی سے ہٹانے کے کئے عمران خان نے کیسی شرمناک سازش کی تھی لیکن 92ء میں بطور کپتان کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کے بعد عوام نے اسے اس کی تمام تر خامیوں کے ساتھ عزت اور وقار کے اس مقام پر بٹھایا جس کی لوگ صرف تمنا ہی کر سکتے ہیں ۔اس ورلڈ کپ میں جاوید میانداد،وسیم اکرم،انضمام الحق ،عاقب جاوید اور مشتاق احمد کی کارکردگی ایسی تھی کہ ان کے بغیر ورلڈ کپ جیتنے کا تصور بھی محال ہے مگر اس جیت کا کریڈٹ صرف عمران خان نے لیاجس کا اظہار خان نے اس وقت اپنی وکٹری سپیچ میں بھی کیا جس پر موصوف کو بعد میں قوم سے معافی بھی مانگنا پڑی ۔کرکٹ کی دیوانی عوام نے خان کو ورلڈ کپ جیتنے کی خوشی میں اس طرح اپنے کندھوں پر اٹھایا کہ شوکت خانم کے لئے جب اس نے لوگوں سے چندے کی اپیل کی تو پورے پاکستان سے امیر غریب اور مردو زن کی تفریق کے بغیر ہر کسی نے اس کی آواز پر یوں لبیک کہا کہ بچیوں نے اپنے زیور اور ناداروں نے اپنی جمع پونجی اس کے حوالے کردی۔اب چاہیے تو یہ تھا کہ خان اس عزت افزائی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا اورعاجزی و انکساری کو اپنا شعار بناتا مگر برا ھواُس ٹولے کا جس نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے عمران خان کوغرور،تکبر،خود غرضی،جھوٹ اور جہالت کی اس راہ پر ڈال دیا جو ملک اور قوم کے لئےسراسر انتشار اور نقصان کا راستہ ھے۔ جھوٹ،بہتان اورقانون شکنی کےساتھ "اوے توئے"کے انداز سے خدا جانے وہ کو نسا نیا پاکستان ہے جو یہ ٹولہ خان کے ذریعے بنانا چاہتاہے۔پرانی باتیں کیا کریں کہ سوشل میڈیا کہ طفیل لوگوں کو اب گزرے وقت کی ایک ایک بات یاد رہتی ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ وڈیو یقیناً اب تک لوگوں کو حفظ ہو چکی ہوگی جس میں ایک ٹی وی شو کے دوران اپنے عمران خان صاحب ساتھ بیٹھے شیخ رشید کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ "شیخ رشید جیسے شخص کو تو میں چپڑاسی بھی نہ رکھوں"آج ہر جلسے میں دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خاص طور یہ محاورےیاد آتے ہیں"تھوک کے چاٹنا"اور "ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لینا"
زیادہ حیرت مجھے اس وقت ھوتی ھے جب کچھ لوگ جلسںوں اورٹاک شوز میں شیخ رشید کی گفتگو سن کر بھی اسے قوم کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔آپ اندازہ کریں ایسے شخص کی ذہنی سطح کیا ھوسکتی ہے جو خواتین کی موجودگی میں یہ کہے کہ "اگر یہ مجمع پیشاب کر دے تو رائیونڈ میں سیلاب آ جائے گا"
پی ٹی آئی سے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر جلسے میں شامل خواتین کی موجودگی میں بلکہ ان کو شامل کرکے اس قسم کی کسی بھی بیہودگی کی معافی نہیں دی جاسکتی۔اس لئے کہ ہمارا دین،ہماری اقدار ہمیں ہر حال میں خواتین کی عزت اور احترام کا درس دیتا ھے۔اگر اس کے جواب میں کوئی شخص یہ کہے کہ یہ شیخ رشید کا ذاتی فعل تھا تو اس پر بقول خواجہ آصف یہی کہا جاسکتا ھے"کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے"
جو ٹولہ اپنی ہم خیال خواتین کی عزت نہیں کر سکتا اور جس لیڈر کو گفتگو کے آداب کا پتا نہیں وہ ملک کی بھاگ دوڑ خاک سنبھالے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *