حق گویائی بھی کوئی چیز ہوتی ہے

(پاک وہند کی فلمی ثقافت میں سیاسی کثافت کاثقافتی جائزہ)

پاکستان اورہندوستان کے فنکارانہ حلقوں میں اکثرایک جملہ سننے کو ملتاہے کہ ’’فنکاروں کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہوتی۔‘‘یہ بات سننے میں تو بہت مناسب لگتی ہے،لیکن حقیقت بالکل برعکس ہے، اسے پاکستان اور ہندوستان کے تناظر میں دیکھاجائے،توفنکاروں کے درمیان سرحد ہمیشہ سے حائل رہی ہے،آپ چاہیں ،اس کااعتراف کریں یانہ کریں۔نفرت کی یہ علامتیں تب مزیدواضح ہونے لگتی ہیں،جب دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی زورپکڑ لے،جیسا کہ ان دنوں جنگی ماحول بناہواہے۔۔۔
ہندوستانی فوج کے ہاتھ میں کبوتر ہے،جس کو وہ پاکستانی جاسوس قرار دے رہے ہیں۔ہندوستانی میڈیا چیخ چیخ کربتارہاہے،کس طرح پاکستانی کبوتر ،ہندوستان کے وسیع تر مفادات کے لیے نقصان دہ ہے،صرف یہی نہیں ،وہ پاکستانی فنکار،جو ہندوستانی فلموں میں کام کررہے ہیں،وہ کتنے خطرناک ہیں۔ہندوستان میں کبوتروں کی گرفتاری اورفنکاروں کی دربدری کایہ منظر نامہ نیا نہیں ہے،اس سے ہندوستان کے سیاسی اوراخلاقی دیوالیہ پن کااندازہ کیاجاسکتاہے۔ان تمام حالات کے باوجود کچھ مثبت پہلوبھی ہیں،جو اسی ماحول میں نمودار ہوتے ہیں۔۔۔
دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی جب بھی پیداہوئی،تو فنکاربرادری میں دو طرح کے نمایاں چہرے ابھرتے ہیں،ایک چہرہ کہتا ہے،جنگ ہی آخری حل ہے ،اس لڑائی کا،فلم سمیت ہر ہندوستانی شے سے قطع تعلق کرلیاجائے،ہندوستان کا لفظ برتنا بھی ممنوع ہوجائے۔دوسراچہرہ مخاطب ہوتاہے اوراس کایہ ماننا ہے ،فنکاروں کے درمیان کوئی سرحد حائل نہیں ہونی چاہیے،ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کیاجائے اور تفریحی معاملات کو لڑائی کے بیچ نہ گھسیٹاجائے۔ان دونوں کے پیچھے بظاہر تو حب الوطنی کا عنصر دکھائی دیتاہے،مگر باریکی سے دیکھا جائے ،تواکثریت کے ہاں، دوواضح منفی اور مثبت نفسیاتی عوامل کارفرماہیں،دونوں ملکوں کے سماج میں منافقت کی تصویربھی نمایاں طورپرسامنے آتی ہے۔۔۔
ان ممالک میں دونوں طرف کے فنکاروں کی نفسیات کے پوشیدہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیاجائے ،توہم دیکھتے ہیں،پہلا چہرہ اس لیے بڑھ چڑھ کر بول رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کی کوئی فلم ہندوستان میں ریلیز کے لیے تیار نہیں ہے،اس کو مائرہ خان اورفواد خان کی طرح چپ کا روزہ نہیں رکھنا پڑا۔دوسرے چہرے کی بڑھکوں سے چائے کی پیالی میں طوفان برپاہے،اگر کبھی مستقبل میں مزیدکوئی کشیدگی پیدا ہوئی اورحسن اتفاق یہ ہوا ،اس چہرے کی ہندوستانی فلم وہاں ریلیز کے لیے تیاری ہوئی،تو اس کے حالات اور خاموشی مائرہ اورفواد سے مختلف نہیں ہوگی۔
پاکستان کے معروف فلم ساز اوراداکار ’’ہمایوں سعید‘‘ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کو مقامی سینما کی ضرورت سمجھتے ہیں،ان کے خیال میں ہندوستانی فلموں کی وجہ سے پاکستانی سینما کو فروغ ملا ہے،جبکہ جاوید شیخ ہندوستانی میڈیا کی طرف سے سیاست کا نزلہ ثقافت پر گرائے جانے سے نالاں اوراس کابرملا اظہار بھی کررہے ہیں۔اتفاق ہے ، ان دنوں میں وہاں ان کی کوئی فلم زیرتکمیل نہیں ،نہ ہی نمائش کے لیے تیار۔۔۔
ایسے موقعوں پر مختلف ادوار میں، دونوں طرف کے فنکار ایک دوسرے کی حمایت اورمخالفت میں پرجوش دکھائی دیتے اوربیانات سے سیاسی ماحول کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہے۔پاکستان میں فلم ساز اورادکار’’ہمایوں سعید‘‘ ہندوستانی فلموں کی نمائش پر زور دے رہے ہیں ،کیونکہ وہ صرف فنکار نہیں بلکہ شوبز کے تاجربھی ہیں،ان کو کشیدگی سے مالی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔
ایک معروف اداکار’’ جاوید شیخ‘‘ بھی دشمن ملک کی خبر لے رہے ہیں،کیونکہ ان دنوں وہاں ان کی کوئی فلم زیرتکمیل یا نمائش کے لیے تیار نہیں،ورنہ ان کا لہجہ بالکل مختلف ہوتا۔معروف اداکار اورہدایت کار’’شان شاہد‘‘تو ایک عرصے سے ہندوستانی سینما کو تنقید کانشانہ بناتے آئے ہیں ،یہ الگ بات ہے ،ری میک کرنے کے لیے انہیں اپنی فلمی صنعت میں کچھ نہیں ملا،ان دنوں دشمن ملک کی فلم’’ارتھ ‘‘کا پارٹ ٹو بنانے میں مصروف ہیں،اسی لیے اب کے ان کی آواز دھیمی ہے،بلکہ نیم خاموش ہے،فواد ماورا حسین اورمائرہ خان کی طرح ۔۔۔

پاکستان میں غیرجانبداراورمتوازن رائے رکھنے والوں میں معروف اداکار،فلم ساز جمال شاہ سرفہرست ہیں۔مجھے ان سے مکالمے کاموقع ملا،ان کے خیال میں ’’ہندوستانی فلموں کے ذریعے پاکستان میں جدید طرز پر بنائے گئے سینما کی صنعت آسودہ ہوگی،ہماری فلموں کی تعداد کم ہے،اس لیے پڑوسیوں کی فلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کردی جائیں ،توکوئی حرج نہیں،پھردونوں طرف کی صنعت کو ایک دوسرے کے کام سے آگاہی ہوتی ہے،سیکھنے کاموقع ملتاہے اورصحت مندانہ مقابلے کی فضا قائم ہوتی ہے۔‘‘
یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستانی فنکاروں کی اکثریت تمام ترمنفی آراکے باوجودہندوستانی فلموں میں کام کرناچاہتے ہیں،جس کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے کہ دونوں طرف ان کی شہرت میں اضافہ ہوتااورروزگارکے حالات سازگارہوجاتے ہیں،مگر خواہشوں کے تعاقب میں عزت نفس کاسمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے،مگرفی الحال اکثریت اس بات کوفراموش کیے ہوئے ہے، شوروغوغاکرنے والے فنکاروں میں اکثرکا ہندوستانی فلمی صنعت سے کوئی لینا دینا نہیں،اس لیے حب الوطنی کے کوٹے پر شورمچارہے ہیں۔ہندوستانی فلم میں کام کررہے ہوں اورپھر یہ ناٹک کریں تومانیں۔۔۔
دونوں ممالک کی کشیدگی میں افسوسناک مگر تلخ حقائق دیکھے جاسکتے ہیں ،کس طرح حب الوطنی پر حب الذات حاوی ہے۔ہمیں اپنے فنکاروں کی اس منافقت کو بھی نظر میں رکھناچاہیے،دیکھنا چاہیے کون غیرجانبدار ہے،ہمیں موقع پرست فنکاروں کی بجائے ایسے ہی مثبت ذہن کے حامل فنکاروں کی ضرورت ہے،تاکہ وہ حالات کامثبت انداز میں تدارک کرسکیں اور رویے میں لومڑی نہ ہوں۔۔۔

دوسری طرف ہندوستان میں ،اس مرتبہ صورت حال یکسر مختلف ہے۔دونوں ممالک میں جب بھی کشیدگی ہوئی،یا ہندوستان میں موجودکسی فنکار کو مشکل کاسامنا کرنا پڑا،تو صرف ایک تن تنہاشخص، مہیش بھٹ ہی ہوتے،جوپاکستانی فنکاروں کے حق میں بولتے اورمعاونت بھی کرتے۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے ایک خط لکھا،جس میں غیرجانبدارانہ لہجے میں بغیرتفریق کیے سیاست دانوں کو مخاطب کیاہے۔میں نے اس مختصرلیکن جامع خط کا ترجمہ کیاہے،جو یہاں درج ذیل ہے۔۔۔
’’پیارے رہنماؤں
کیاآپ ان چند دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتے
جولوگوں کی اکثریت کا مستقبل لکھ رہے ہیں
کون ہے،جوامن چاہتاہے
اس لیے
دہشت گردوں کوماریں ،مکالمے کو نہیں
لوگوں کے لیے امن کا خاکہ تشکیل دیں۔‘‘
ہندوستان میں اس مرتبہ ،پاکستانی فنکاروں کے لیے ہمیشہ اٹھنے والی مہیش بھٹ کی آواز کے ساتھ، کچھ اورآوازیں بھی بیدار ہوئیں،جن کے ہاں غرض یا کسی مخفی مقصد سے زیادہ انسانیت اور حق گوئی سنائی دی،لطف کی بات یہ ہے ،سوائے سلمان خان کے،سب غیرمسلم فنکار ہیں۔’’غیرمسلم‘‘کی اصطلاح استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے،ہندوستان میں آپ کا مذہبی حوالہ بھی آپ کی بات کے وزن کو کم اورزیادہ کرتاہے۔اوم پوری نے حال ہی میں پاکستانی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا،ان سے میری ملاقات کی یادیں ابھی تک تروتازہ ہیں، سب سے دبنگ آواز’’ اوم پوری‘‘ نے اٹھائی۔ان کاموقف یہ ہے’’ دونوں طرف کے لوگ کب تک لڑتے رہیں گے۔میں پاکستان میں تھا،جب کشیدگی کاآغاز ہوا،مجھے تو وہاں کسی نے اپنے غیض وغضب کانشانہ نہیں بنایا۔‘‘
اوم پوری جذبات کی رومیں بہتے ہوئے ہندوستان کے کچھ فوجی اور سیاسی معاملات پر بھی بول گئے،اوڑی حملے کے متعلق اظہار خیال کرنے کے باعث معتوب ٹھہرے،جس کاخمیازہ انہیں غداری کے مقدمے کی دھمکی کی صورت میں بھگتنا پڑااورمعافی مانگ کرانہوں نے اپنی جان چھڑوائی۔اتفاق دیکھیے ،پاکستان میں رواں برس ،عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی فلم’’ایکٹر اِن لا‘‘میں ،وہ ایک عدالت میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں،کیونکہ ان کا کردار وکیل کا تھا،مگر اس مرتبہ وہ اپنے ہی ملک
انصاف کے متلاشی دکھائی دیے۔وہ معتوب ٹھہرا،جس نے حق گویائی کی۔
سچ بولنے کی بھی اپنی قیمت ہوتی ہے،جس کو اداکرناہرایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ ’’اوم پوری‘‘کوہندوستانی عوام کی طرف سے تو تنقید کاسامنا ہے ہی،مگر وہیں ان کے پرانے دوست اورموقع پرست فنکار بھی اس گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں،جن میں انوپم کھیر پیش پیش ہیں۔عام پاکستانی اوم پوری کی محبت کوسرآنکھوں پر رکھتاہے ،ان کے جذبات کی قدر کرتاہے،بغیر کسی مصلحت اورمفاد کے،وہ ان کی آواز میں اپنی آواز ملارہاہے،سوشل میڈیا دیکھ لیجیے۔کوئی پاکستانی اداکار ہے،جو اوم پوری کی طرح حق کی آواز بلند کرے؟جواب ’’نہیں‘‘میں ہے ابھی تک۔۔۔
دوسری طرف ہندوستان میں معروف اداکارسلمان خان اورمعروف فلم ساز کرن جوہر،پاکستانی فنکاروں کی حمایت میں بول رہے ہیں،ممکن ہے،دونوں کی حمایت کے پیچھے ،ہمایوں سعیداورشان شاہدوالی مجبوری ہی ہو۔،دونوں کی پروڈکشن ہاؤس ہیں،جس میں پاکستانی فنکار کام کرتے ہیں،لیکن انڈین موشن پکچرزپروڈیوسر ایسوسی ایشن کے ایک ممبر’’راہول اگروال‘‘نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا،یہ ردعمل بہت غیرجانبداراورسچا محسوس ہوا۔پاکستان میں بھی سینماؤں میں ہندوستانی فلموں کی پرپابندی عائد کردی گئی ہے،مانڈی والا انٹرٹینمنٹ کے چیف ایگزیکیٹیو اورپاکستانی فلم پروڈکشن کی اہم شخصیت کے بقول’’ہندوستانی فلموں پرپابندی لگانا مجبوری تھی،کیونکہ انڈین موشن پکچرزپروڈیوسر ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کردی ،توہمیں یہ انتہائی قدم اٹھاناپڑا۔‘‘
اسی جنگی ماحول کے تناظر میں معروف ہندوستانی گلوکار ’’سونونگم‘‘کا بیان بھی قابل ستائش ہے،جس میں وہ جنگ مخالف دکھائی دیے۔ہندوستان میں جہاں پاکستانی فنکاروں کے لیے ایک طرف انسان دوست آوازیں بیدار ہورہی ہیں،وہیں کم ظرف ،دشمن پلٹ فنکار اورسابق پاکستانی گلوکار’’عدنان سمیع‘‘بھی نئی نویلی ہندوستانی حب الوطنی کی ڈگڈی بجاتے ہوئے پاکستان سے جنگ کی حمایت میں ہیں۔
حد تو یہ ہوگئی کہ نوازالدین صدیقی جیساشاندار فنکار،جوخود ہندوستان میں’’ سعادت حسن منٹو‘‘ پر بننے والی فلم میں منٹو کا کردار نبھارہاہے اس فلم کو’’نندیتاداس‘‘پروڈیوس کررہی ہیں،وہ پاکستان دوست فنکارہ سمجھی جاتی ہیں،وہ خاموش ہیں،لیکن نوازالدین صدیقی شور مچارہے ہیں،ان کاکہناہے۔’’ہندوستان میں موجود پاکستانی فنکاروں کو واپس چلے جاناچاہیے۔‘‘’’مہمان نوازی‘‘ کے آداب توکوئی ’’نوازالدین‘‘سے سیکھے۔۔۔
انہیں کم ازکم نصیرالدین شاہ سے ہی سبق سیکھ لیناچاہیے،ہندوستان میں رہتے ہوئے،اگر آپ باصلاحیت ہیں،اتفاق سے مسلمان بھی(ہندوستان میں اگر کوئی مسلمان ہے،تواسے اکثر اپنی حب الوطنی کاثبوت دینا پڑتاہے) اورہندوستانی فلمی صنعت میں کوئی مقام حاصل کرناچاہتے ہیں،،تو صرف اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں ،نہ کہ ذہنی توانائی منفی باتوں پر،بلکہ کام سیاست دانوں کے لیے اٹھارکھیں،پھربھی چین نہ پڑے ،توتو نصیرالدین شاہ کی طرح خاموشی پراکتفاکریں،کیونکہ نصیرالدین شاہ بھی پاکستانی مہمان نوازی کا لطف اٹھاچکے ہیں ، اگر وہ اوم پوری کی طرح کھل کر پاکستان کی مہمان نوازی کااعتراف نہیں کرسکتے،توحب الوطنی کی ڈگڈی بھی نہیں بجارہے۔۔۔
ہندوستان میں بالخصوص اس ماحول میں فنکاروں پانچ حصوں میں بٹے دکھائی دے رہے ہیں،ایک وہ جودبنگ ہیں،انہیں کسی کی پرواہ نہیں ،وہ پاکستانی فنکاروں کادفاع کررہے ہیں۔دوسرے وہ جو پاکستانی فنکاروں کی حمایت میں بات کررہے ہیں ، مگر انتہائی محتاط انداز میں ،تاکہ کوئی نقصان اٹھائے بغیر اپنے تجارتی منصوبوں کو محفوظ کرسکیں۔تیسرے وہ ہیں،جنہیں پاکستانی فنکاروں سے ہمدردی ہے،وہ ہندوستان میں ان کاقیام بھی چاہتے ہیں،مگر ڈرپوک ہیں،وہ اس بحث سے دور رہنا چاہتے ہیں ،چوتھے وہ ہیں،جنہیں پیشہ ورانہ حسد ہے اوروہ نہیں چاہتے ،بالی ووڈ میں پاکستانی فنکار اپنے قدم جمائیں ۔پانچویں وہ ہیں،جو بیگانے کی شادی میں ناچنے والے عبداللہ ہیں،وہ اپنی کمزور سماجی حیثیت،ہندو ملک میں مسلمان ہونا،ہر نازک موقع پر حب الوطنی ثابت کرتے رہناوغیرہ کے اہداف ذہن میں رکھ کر پاکستانی فنکاروں پر تنقید کرتے ہیں۔۔۔
رہ گیاہندوستانی اورپاکستانی میڈیا،توان کی جذباتی صحافت کو دیکھتے ہوئے یہی کہاجاسکتاہے کہ ’’اللہ دے اور بندہ لے‘‘دونوں کوباشعور ہونے میں میں وقت لگے گا،مگر کتنا؟خبر نہیں ،کیونکہ بیوقوف سے کوئی توقع عبث ہے۔پاکستان کے ایک شاندار شاعر’’عزم بہزاد‘‘کے حروف میں یہ تمام ماجرا یوں ہے کہ ۔۔۔

کہیں گویائی کے ہاتھوں سماعت رورہی ہے
کہیں لب بستہ رہ جانے کی حسرت رورہی ہے
اسے غصہ نہ سمجھوعزم یہ میرے لہو میں
مسلسل ضبط کرنے کی روایت رورہی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *