کیسے ہیں یہ بَھولے کہ سب بھُولے بیٹھے ہیں

syed arif mustafa

انکی حیرانی پہ نہ جائیئے .... کہ ان سب کی مونچھوں پہ یکساں مقدار میں انسانی خون لگا ہوا ہے اور بلاشبہ عزیز آباد سے برامد شدہ اسلحہ انہی سب چوروں کا تھا ... کہ جو اب تین حصوں میں بٹ گئے ہیں کہ ان میں کچھ تو مصطفیٰ کمال اور ملک ریاض کی لانڈری میں دھو دھلا کے پاک کئے جارہے ہیں کچھ نے فاروق ستار کے ڈربے میں پناہ ڈھونڈی ہے اور وہاں اپنے جرائم کی گند سے لتھڑے پروں اور کلغیوں‌ کو انکے چرب زبانی کے لیسدار لعاب سے صاف و شفاف کروا رہے ہیں اور باقی چند وہ ہیں کہ سات سمندر پار مقیم پیر لندن کی چھتری تلے غٹر غوں کرتے سنے جارہے ہیں اور عرصے سے لندن میں پڑے پڑے فطرے زکاۃ کی رقوم سے شرابیں پی پی کے پاکستان میں بیٹھے مجرموں کو قتل و غارتگری کی مسلسل ہدایات دے رہے ہیں - لیکن سوال یہ ہے کہ مجرموں کے یہ گینگ کسے بیوقوف بنا رہے ہیں اور کسے یاد نہیں کہ ابھی سات آٹھ ماہ پہلے تک یعنی مارچ سے پہلے تک یہ تینوں گینگ ایک ہی تھے اور ایک ہی سفاک گینگسٹر کے فرمانبردارچیلے تھے کہ جو خود کو اس گینگسٹر کا زیادہ سے زیادہ وفادار ثابت کرنے کی کوششوں میں کوئی بھی گھناؤنے سے گھناؤنا کام بھی کر گزرتے تھے اور جو تین دہائیوں سے اس شہر نا پرساں میں کھلے عام آگ و خون کی ہولی کھیل رہے تھے اور چائنا کٹنگ بھتہ خوری و اغواء برائے تاوان کی ہر بڑی واردات کے شیئر ہولڈر مجرم تھے - اسی طرح جب 2010 میں الطاف حسین دہلی میں کھڑے ہوکر قیام پاکستان کو تاریخی غلطی قرار دے کر اس مملکت خداداد کے خلاف زہر اگل رہا تھا تب بھی یہ فیصل سبز واری اسکی تائید میں نستعلیق لہجے میں نستعلیق بے غیرتی فرمارہے تھے اور اس کے وکیل صفائی بن کے خوشامدانہ الفاظ کی برکھا برسا رہے تھے اور باقی تمام متحدہ رہنما بھی سب کے سب اس بکواسی ائد کی خرافات کے ہمنوا بنے ہوئے تھے اور اسی طرح ڈھئی برس بعد جب لندن میں رابطہ کمیٹی کے دو سینیئر ارکان نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تفیش کے دوران متحدہ کی را سے فنڈنگ کا اعتراف بھی کر کیا تھا اور جسکی بابت آج مصطفیٰ کمال یہ کہتے ہیں کہ "ہاں مجھے یہ بات معلوم تھی اور یہ بات سچ ہے" تو پھر یہ فاروق ستار اینڈ کمپنی اور مصفیٰ کمال اور انکا حمایتی ریوڑ آخر کہاں مرے ہوئے تھے کہ جو ملک کی محبت میں تڑپ کے سامنے نہ آئے اور متحدہ قائد سے نفرت و بیزاری اور علٰیحدگی کا واشگاف اعلان کیوں نہ داغا ۔۔۔؟؟
میرا خیال یہ ہے کہ اصل گیم تو اب اس شہر کے شہریوں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اور مجرموں کی تقسیم در تقسیم سے ہر گروپ کو یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ اپنے کھاتے کے جرائم دوسرے پہ ڈال دے یعنی گروپ الف اپنے جرائم گروپ ب اور ج پہ ڈال دے پھر گروپ ب یہی کام گروپ الف اور ج کے ساتھ کرے اور پھر ج بھی باق دو گروپوں پہ اپنا ملبہ ڈالدے یوں اتنی دھول اڑے کہ کہ کچھ بھی پہچاننا آسان نہ رہے اور بالآخر سبھی مجرم معصوم قرار پاجائیں ۔۔۔ لیکن چند جعلی افلاطون آخر ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ اس شہر کے رہنے والے تمام کے تمام اندھے ہیں اور ان تمام تیس برسوں میں آپس میں پوری طرح ملکر بلکہ مکمل متحد و یکجان رہ کر کام کرنے والی جرائم کی اس مافیا کو نہیں پہچانتے اور جسنے گزشتہ تیس برسوں میں کراچی میں وحشت و دہشت کی وہ وہ سنگدلانہ کارروائیاں کی ہیں کہ عالمی دہشتگردی کی کوئی بڑی سے بڑی مافیاء بھی یہ کام اتنے بڑے پیمانے پہ ہرگز نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔ یاد رکھیئےکہ جوانی میں کیا جرم وہ چسکا ہوتا ہے کہ کسی طور چھڑائے نہیں چھوٹتا اور وہی مثل صادق آتی ہے کہ " چور چوری سے جائے ، ہیرا پھیری سے نہ جائے اس لیئے لازم ہے کہ ہر مجرم قانون کے کٹہرے میں لاکے کھڑا کیا جائے ۔۔۔۔ اور جہانتک بات ہے اسلحہ کی بہت بھاری مقدار میں برآمدگیوں کی تو صاف ظاہر ہے کہ اسلحہ شب برآت کے لیئے نہیں ریاست پاکستان سے جنگ کے لیئے تھا ۔۔۔۔ کیونکہ پاکستان میں جہاز بھلا کس جماعت کے پاس ہیں کہ انہیں مار گرانے کے لیئے متحدہ نے یوں اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کا اہتمام کیا ۔۔۔۔ محض پتنگوں کے بوکاٹا کے لیئے تو یہ سب سینت سنبھال کے رکھا نہیں گیا تھا اور پھر یہ بھی تو دیکھیئے کہ کیا برآمد نہیں ہوا بدھ کے چھاپے میں ۔۔۔۔۔ 2 ہزار بندوقیں اور پستولیں درجنوں کلاشنکوف اور درجنوں اسٹین گن ، ماؤزرگنیں ، راکٹ لانچر ، ہینڈ گرینیڈ اور لاکھوں گولیاں ،،،-بیشک اتنی ساری بڑی مقدار میں یہ گولہ بارود نہ تو یہاں ایک دن میں اکٹھا ہوا ہوگا اور نہ ہی کسی دو چاربندوں نے اسکو یہاں‌ چھپانے کا اتنا بڑا اہتمام کیا ہوگا اور نہ ہی لندن سکریٹیریٹ والوں نے خود یہاں آکر یہ اسلحہ یہاں چھپایا گیا ہوگا ،بلکہ ان جرائم کے سرغنہ حضرات نے لندن بیٹھے بیٹھے یہاں‌ اپنے ان ہی لوگوں سے کام لیا ہوگا کہ جو چولا بدلنے اور انتظامیہ کو دھوکہ دینے میں مہارت تامہ رکھتے ہیں اور ایک اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اس میں سے زیادہ تر اسلحہ نیٹو افواج کے اسلحے کے طور پہ پہچان لیا گیا ہے کہ جسکے کئی کنٹینر بندرگاہ ہی پہ خالی پڑے دکھتے ہیں اور جسکی نگراں وزارت یعنی پورٹ اینڈ شپنگ کو متحدہ نے خصوصی طور پہ گود لیئے رکھا
وزارت پورٹ اینڈ شپنگ نے اس اسلحے کی ترسیل کے لیئے جو گھناؤنا کردار ادا کیا وہ خود ایک باقاعدہ تحقیق کا موضوع ہے اور اسکی باضابطہ تفتیش کی جانی چاہیئے - یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیئے کہ آخر یہی وزارت متحدہ کو اس قدر پسند کیوں آئی کہ اسنے ہر دور میں اسے حاصل کیئے رکھا اور آخر کیوں اسکی وزارت کا قرعہ صرف بابر غوری ہی کے نام کیوں نکلا اور کیونکر یہی بابر غوری جو کبھی جیکب لائنز کے 2 کمروں کے سرکاری مکان کے مکین تھے اور ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کے بکنگ کلرک اور بعد ازاں مینیجر تھے ، دیکھتےہی دیکھتے آخر کس کیمیا گری سے ارب پتی بن گئے ۔۔۔ یہ پڑتال بھی ضرور کی جانی چاہیئے کہ مختلف وقفوں میں پی این ایس سی بلڈنگ کے اسی فلور پہ بار بار کیسے آگ لگنے اور ریکارڈ بھسم ہوجانے کے واقعات رونما ہوتے رہے کہ جس فلور پہ اس وزارت کے دفاتر تھے اور سارے گھپلوں کی کہانیاں خاک بناکے اڑادی جاتی رہیں ۔۔۔؟؟ یہ بات بھی کوئی نئی نہیں اور اخبار پڑھنے والے ہر فرد کے علم میں ہے کہ نیٹو کے اسلحہ بردار کنٹینرز کے چوری ہونے کی بات گزشتہ کئی برسوں میں متعدد مرتبہ ابھرتی رہی ہے لیکن دبائی اس لیئے جاتی رہی ہے کیونکہ ہر حکومت نے اسے اپنے سیاسی مفاد میں استعمال میں کیا ہے اور اسکے ذریعے متحدہ سے بنائے رکھنےمیں ہی عافیت جانی ہے اور یوں ہر دور میں اسکی کئی سیٹوں کی طاقت کو اپنی سیاسی قوت میں استحکام اور اپنے حریفوں سے سودے بازے کی صلاحیت میں اضافے کے لیئے استعمال کیا ہے
اب جبکہ عزیز آباد کے ایک مکان سے بھاری مقدار میں اسلحے کی برآمدگی ہوچکی ہے تو اک ذرا بے احتیاطی سے یا اسٹیبلشمنٹ کے کسی اندر سے ملے ہوئے آدمی کی چالبازیوں کے تحت یہ سفاک حقیقت بھی مضحکہ خیز اور ناقابل یقین کہانی میں بدلتے دیر نہیں لگے گی کیونکہ ایسا پہلے بھی متعدد بار ہوچکا ہے ،،،اسکی تازہ مثال گزشتہ برس 11 مارچ 2015 کو نائن زیرو پہ چھاپے سے ولی خان بابر کے سزا یافتہ قاتل فیصل موٹا اور درجنوں کے قتل میں ماخوذ عبید کے ٹو کی برآمدگی اور غیر ملکی اسلحہ کے پکڑے جانے کی ہے ،،، کہ اسکے بعد اس وقت کی متحدہ کو کالعدم کرنے کی واجب قانونی کارروائی کا آغاز کیئے جانے کے بجائے اسے اگلے ماہ 22 اپریل کو ہونے والے این اے 246 عزیزآباد کے ضمنی الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی گئی اور بلاشبہ یہ اجازت مملکت پاکستان کے مفاد سے سنگین ترین غداری کے مترادف تھی اور پھر حسب توقع متحدہ نے اس اجازت کو بھی اپنے حق میں یوں استعمال کیا کہ "دیکھا ہم سچے تھے اور یہ چھاپہ جعلی تھا ورنہ یہ ہمیں الیکشن لڑنے کیسے دیتے" اور یوں یہ پروپیگنڈہ اس قدر موثر ثابت ہوا کہ بہکائے گئے عوام نے بیلٹ بکس بھر ڈالے اور یوں اسٹیبلشمنٹ کے ان خاص بقراطوں اور امریکی ایجنٹوں کی یہ چال کامیاب رہی کے انہوں نے اپنے ملک ہی کی مسلح افواج کے ایک ذیلی ادارے کی ساکھ کو مشکوک بناکے رکھ دیا- لیکن مشتری ہوشیار باش ،،، ابکے لازم ہے اور احتیاط رہے کہ یہ غلطی اب ہر گز ہر گز نہیں دہرائی جانی چاہیئے اور کسی طور پہ بھی کسی گروہ کی سرپرستی کا تاثر ابھرنا نہیں چاہیئے ،،، کیونکہ ان سب کے منہ و جبڑوں پہ انسانی خون لگا ہوا ہے ، اور ان سب کو لوٹ کا مال بگوٹنے اور ڈکارنے کی عادت پڑی ہوئی ہے ،،، یہ بات یقینناً بہت اچھی ہے کہ آرمی چیف نے صاف طور پہ یہ کہ دیا ہے کہ ہم کسی گروپ کے سرہرست نہیں ہیں لیکن محض یہ کہ دینے سے مصطفیٰ کمال گروپ کا یہ تاثر یکایک ختم نہیں ہوسکتا کہ ' معافی کی اصلی چھتری انہی کے پاس ہےاور جو اسکےنیچے آجائے وہ معصوم قرار دلوادیا جائے گا" اور یہ بھی ہے کہ بدقسمتی سے کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ جن سے یہ تاثر اور پختہ ہوسکا ہے-
آخر میں یہی عرض ہے کہ اس بار گزشتہ غلطیوں سے اجتناب کرتے ہوئے کہ یہ تینوں گروہ اپنے کرتوتوں کے اعتبار سے بالکل ایک جیسے ہیں , یہ کامل یقین رکھ کے حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیئے کہ مجرموں کا یہ ٹولہ 30 برس سے زائد عرصے سے الطاف کی زیر قیادت ہونے والے ہر ہر جرم کا برابر سے شریک ہے اور یکساں طور پہ ذمہ دار ہے اور اب کسی بھی گروپ کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے میں دیر نہیں کی جانی چاہیئے اور بہر صورت تمام گروپوں کے رہنماؤں سمیت انکے اندر موجود مجرموں کے ساتھ بلکل یکساں سلوک کیا جانا چاہیئے ۔۔۔ وگرنہ ہوگا یہ کہ بلدیہ ٹاؤن جیسے سنگین واقعات آئندہ بھی ہوتے رہینگے اور یہ تین سو سوختہ لاشیں بلکہ اس سے قبل گرائی جانے والی ہزاروں لاشیں یو نہی انصاف کی منتظر رہیں گی اور مایوس عوام میں ان اقدامات کو بوگس جان کر ان کا مذاق آئندہ بھی اڑایا جاتا رہے گا اورشہری سندھ یونہی ان غنڈے بدمعاشوں کے ہاتھوں محصور رہے گا اور متحدہ اپنا منجن کامیابی سے یونہی بیچتی رہے گی-

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *