سائنسدانوں نے پانی سے بائیو فیول بنانے کا دعوی کردیا

کیا ایسا ممکن ہے کہ استعمال شدہ یا گندے پانی میں کائی یا الجائی اگائی جائے اور بعد میں اس سے بایوفیول تیار کرکے ایندھن کے اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے؟ ایسا ممکن ہے یا نہیں، مگر انڈیا کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ انڈیا جیسے ملک کی آب و ہوا میں استعمال شدہ یا گندے پانی میں کائی کی فارمنگ ممکن ہے، مگر اس میں ہر طرح کی کائی نہیں اگائی جاسکتی بلکہ اس کی چند مخصوص اقسام ہی استعمال شدہ پانی کی ٹنکیوں میں اگائی جاسکتی ہیں جن سے بایوفیول پیدا کرنا آسان ہوگا۔

یہ سب کیسے ہوا، اس کے لیے ہمیں ہیوسٹن کی رائس یونیورسٹی کے اس تحقیقی مطالعے کے بارے میں جاننا ہوگا جس کے نتائج دیکھ کر انڈیا کے سائنس دانوں نے کائی سے بایو فیول تیار کرنے پر کام شروع کردیا۔ ان کا ارادہ ہے کہ گھروں سے استعمال کے بعد خارج ہونے والے گندے پانی میں وہ مذکورہ بالا کائی اگائیں گے اور اس سے بایوفیول تیار کرکے اپنے ملک میں توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

ہیوسٹن میں رائس یونیورسٹی کی ٹیم نے کائی پر اپنے تحقیقی نتائج مرتب کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ تیل سے مالا مال کائی کے ریشے استعمال شدہ پانی سے 90فی صد نائٹریٹس اور 50فی صد سے زیادہ فاسفورس کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب یہ کام کرنے میں کام یاب ہوگئے تو پھر ان سے بایوفیول کا حصول کوئی مشکل کام نہیں۔ الجائی یا کائی پر اسی طرح کی ایک اسٹیڈی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کھڑگ پور نے 2010میں کرائی تھی۔ یہ الجائی بھی گھریلو استعمال کے بعد خارج ہونے والے پانی میں اگائی گئی تھی اور اس کے بھی وہی نتائج نکلے تھے جو اس سے پہلے رائس یونیورسٹی میں نکلے تھے۔

ہیوسٹن اسٹیڈی کی کو آتھر بھارتی نژاد میناکشی بنرجی بھٹاچاریہ نے بتایا کہ یہ بہت اچھی کوشش تھی جو انڈیا جیسے ملک میں یقینی طور پر کام یاب ہوگی، کیوں کہ اس ملک کی آب و ہوا الجائی کی پیداوار کے لیے مناسب ہے۔ ویسے تو اس کام میں کثیر سرمائے اور بہت زمین کی ضرورت ہوگی، لیکن اگر اس کو اگانے کے لیے استعمال شدہ یا ناکارہ پانی استعمال کیا جائے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔ لیکن یہ کام ایسے کھلے ندی نالوں میں نہیں کیا جاسکتا جہاں پانی تیز بہتا ہو، اس کے لیے ٹھہرے ہوئے پانی کی ضرورت ہوگی، یعنی ایسی جگہ جہاں گندے یا استعمال شدہ پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے۔ اس کے بعد یہاں الجائی کی گروتھ ممکن ہوگی اور بعد میں اسی سے بایوفیول پیدا کیا جاسکتا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *