کِسان دٙھرنے اورشہبازشریف پٙیکیج ۔۔۔۔۔!

ghulam mustafa mirani

جناب محمد شہباز شریف نے سٹیج پر کھڑے کھڑے، کسان پٙیکیج 77 ارب سے بڑھا کر 100 ارب کر دیا، سامنے ہی سیٹوں پر براجمان بینکاروں سے ہاتھ کھڑے کروائے اور تعاون کیلئے تائید حاصل کرلی۔ تالیاں بٙجیں اور واہ واہ کی تحسین سے فضا گونج اٹھی۔ چھوٹے کاشتکاروں کو قرض بلا سود ملے گا جبکہ زٙرِ سود کی تلافی، صوبائ حکومت کی سخاوت کا حصہ بنے گی۔ 8 اکتوبر 2016 کے روز، ایوانِ وزیراعلیٰ لاہور میں، یہ " نادر اور فاخرانہ " اعلان کرتے ہوئے، جناب وزیر اعلیٰ نے کسانوں سے دٙھرنا مہم موقوف کر دینے اور مٹھائیاں بانٹنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
قصدِ قلوب اور مستقبل کا مقدر تو عالِمُ الغائب جانتا ہے مگر اس حاتم طائیت کا ممکنہ انجام " مُجرا برباد گناہ باقی" کے ماسوا، کچھ سجھائ نہیں دیتا۔ قرض قسطوں کی رقوم اٙکارٙت اور سود قومی خزانہ پر اُلٹا بوجھ بن کر نازل ہو گا جبکہ زراعت کا پٙرنالہ، پٙرکاہ بھر بھی نہیں سٙرکے گا۔ یا لِلعٙجٙب ! موقع پر موجود، کسانوں کی کس کس تنظیم کے، کون کون سے نمائندگان زیبائے مجلس تھے جو "انقلاب آفریں" خطاب کے انداز وآھنگ پر، سٙر دُھننے اور سربگریباں ہونےکے بجائے، تالیاں بجانے میں سرمست و سرشار ہو رہے تھے !
اس کیمونیکیشن کے توسط سے ہم نے کئ بار، خادم اعلی' پنجاب کے مزاجِ محنت اور جُہدِ مسلسل کی تعریف کی اور بہت سے اقدامات حسنہ کو سراہا لیکن زراعت پیکیج کا عملی اطلاق، زراعت افزائ سے زیادہ، شُہرہ آرائ کا شاخسانہ ہے جو، ریاست پر مسلط، رواں رُستاخیز تحریک کے رد عمل میں، ھنگامی اقدامات کا حصہ لگتا ہے۔ فسوں ساز فیصلے اور افتاں و خیزاں اعلانات، دیارِ عزیز میں، دل دھڑکتے دھقانوں کی دِلداری نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ پنجاب پر نُون نمائندگی کے پانچ سال پچھلے اور ساڑھے تین برس موجودہ طرزِ حکمرانی نے، برص کی بیماری سے بڑھ کر زراعت کا حُلیہ بگاڑا اور کھیت کھلیانوں کو اُجاڑا۔ کوتاہیوں کا کفارا اور بدترین بحران سے دو چار زرعی شعبہ کو سنبھالا دینا ہے تو جُزوقتی اور مصلحت محمُول فیصلوں کے بجائے، دور رٙس اور ہمہ جِہت اقدامات کرنے ہونگے جس سے ملک اور مٙزرٙع مستفید ہو سکیں نہ کہ افراد اور مافیا۔
متزلزل شعبہ کی بحالی کیلئے سو ارب کا پیکیج، تقاضوں کی تکمیل سے، اگرچہ  کہیں کم ہے، مگر پھر بھی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا اور منجدھار میں مرتے کو آسرا دینے کیلئے ایک اچھی پیش رفت کا آغاز ہو سکتا تھا لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد، مٙساعی رائیگاں اور منصوبے کا ملیامیٹ ہو جائے گا مثلاً
1- قسمت زٙدہ کسان سالہاسال سے خساروں کی زد میں ہے۔ سر قرضوں کے بوجھ سے گراں بار اور وجود، تابڑ توڑ تقاضوں سے نڈھال ہے۔ کُنبہ کی فاقہ مستیوں اور سود خوروں کی چیرہ دستیوں نے پریشان حال دھقان کو موت کے دٙھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ آپ کا تھوڑا سا قرض اور آگے ایک انار صد بیمار، رقم زراعت پر نہیں، سود درسود در سود عِوضانوں کی بھینٹ چڑھ جائے گی۔ کاشت اور کاشتکار ؟ پریشانیاں پالنے اور کفِ افسوس مٙلنے کے سوا، سامنے اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔
2- گوشوارہء کاشت اور گرداورئ مٙحال کا حصول، سادہ لٙوح دھقان کیلئے، کے ٹُو کی چوٹی سٙر کرنے کے مترادف ہے،  پٹواری سے لے کر پیپرز پرووائڈرز تک، قدم قدم پر بریکرز نصب ہیں۔ شفافیت اور سٙہل کاری کے آپ لاکھ سلیقے اور قرینے وضع کر دیں۔ حصہ بقدرِ جُثہ، سب اس سہولت سے سیراب ہونے کی راہیں نکال لیں گے اور کسان کی کیا مجال کہ تمدنی "دھشت گردوں" کے اس گروہ کا مرتکبِ گستاخی ہو سکے۔ اس بندر بانٹ سے جیبیں آباد اور زراعت برباد نہ ہوگی تو اور کیا ہو گا ؟
3-  چھوٹے کیا، متوسط سطح کے کاشتکاروں تک سبھی نے بیج، کھاد، سپرے اور ڈیزل دو دو گنا اور کہیں تین تین گنا قیمتوں پر، ادھار پر اٹھا رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ چار پانچ ماہ کیلئے اس قدر بھاری بِیاج کی ادائیگی کا اذیتناک تناسب، دنیا کے شاید ہی کسی بدقسمت خطہ پر کار فرما ہو جو مملکت خداداد کے مجبور مکینوں پر مسلط ہے۔ مافیا دیہی آبادیوں کا خون نچوڑ رہا ھے۔ سابقہ اور موجودہ ادائیگیوں کے منہ زور مطالبے، دھقان کی دھلیز پر، خونخوار درندوں کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں۔ آپ کا عنایت کردہ مختصر سا قرض، پل جھپکتے ہی لِیرکتیر اور حصے بخرے ہو جائے گا، یونہی کسان خوشحال، زراعت کمال کا سہانا خواب، تعمیربٙداماں ہونے سے پہلے بکھر جائے گا۔
4-گزشتہ چھ سات برس سے زوال پذیر زراعت نے کسان کو قنوطیت اور کٙسلمندی کا مریض بنا دیا ہے۔ خاص طور پر چھوٹا کاشت کار زراعت سے فرار پا کر شہروں کیطرف بھاگا، جہاں شہروں میں عمرانی عوامل اور معاشرتی مسائل پیدا ہوئے، وہاں دیہات میں زراعت،  پیشہ ور زرعی لیبر سے محروم ہونے لگی۔ بہت سُوں نے زرعی پیشہ کو خیرباد کہا۔ کھوکھا، ریڑھی، دکانداری اور ایسی ہی نوعیت کے دیگر چھوٹے موٹے کاروبار کیطرف مڑ گئے۔ اس طرح کا دیہی طبقہ یقینا" کسان پیکج سے مکمل مستفید ہونے کیلئے بھرپور بھاگ دوڑ کرے گا۔ پیکج سے رقم پا کر، زراعت پر نہیں، اپنے اپنے سمال بزنس کی بڑھوتری کیلئے استعمال کرے گا۔
5- ماضی کے مشاھدات اور حال کے احوال کی روشنی میں ایک بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کسان پیکج کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ نان کسان کمیونٹی ہڑپ کر لے گی۔ بالکل گندم خرید طرزِ کار پر، من مانیوں اور چھینا جھپٹیوں کا راج چلے گا۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے حالات میں، خادم اعلی' اور ان کی ٹیم سب کچھ جانتے ہوئے بھی " چشم پوشی کرو اور چلنے دو " رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ کریڈٹ کارڈز سٹائل پر، بنک منی کارڈ جاری کریں گے یا ایزی پیسہ لین دین طریق پر "حق بحق دار رسید" کے علاوہ رقم یابی کے دیگر تمام راستے مسدود اور امکانات معدوم کر دیئے جائیں گے۔ جناب والا! گستاخی معاف !! یہ سراسر خود فریبی اور خام خیالی ھے۔ اٙن پڑھ کسانوں سے انکے شناختی کارڈز کی وصولی اور کاغذات پر انگوٹھے ثٙبتی کے بعد ، دیہات کے تعلیم یافتہ "کاریگر" ، توند توانا تاجر ، کثیف الطبع کاروباری حلقے، رشوت خور سرکاری اھلکار اور دھوکہ باز دلال چکموں اور چرب زبانیوں کے ایسے قاعدے کلیے استعمال کرینگے کہ " شکار" خونخوار بھیڑوں کے پیٹ میں اور خون اونٹ کے منہ پر مٙل دیا جائے گا۔
6- ہمارے مُغلیائ مزاج سماج میں، دیہات کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو نہایت  کام چور اور آرام پسند واقع ہوا ہے ۔ کوچہ گٙرد اور بازار نورد یہ لوگ محض مواقع کی تاک اور وقت کے انتظار میں مستعد رہتے ہیں۔ محنت کم اور مفت بٙری اِن کا مشغلہ ہوتا ہے۔ سیلاب اور طغیانیوں کا انتظار ایسے کرتے ہیں جیسے روزہ دار عید کا یا صحرا نشین بادلوں کا، آفات ان کیلئے عافیت کا پیغام بن کر نازل ہوتی ہیں کیونکہ ایسے مواقع پر یہ لوگ سرکاری امداد اور انجیوز نوازی سے جی بھر کر مستفید ہوتے ہیں۔ مقصد یابی کیلئے ہر طرح کے جائز و ناجائز حربے استعمال کرنے میں یہ لوگ بڑی کامل مہارت رکھتے ہیں۔ آفات کے مواقع پر تقسیم ہونے والی گرانٹس ہوں یا زرعی پیکیج جیسے مرغوب منصوبے، پہلے ایسے لوگوں کا شکار بنتے ہیں اور بچت کچت باقی عوام کا مقدر ۔ ان کا اپنا ایک نیٹ ورک ہے جو خود کار مشین کی طرح آپریٹ ہوتا ہے۔ پروسیسر، پروسیجر اور پریکٹس پر متعین اہلکار ایسے لوگوں کی مٹھی میں ہوتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کی رضا اور عطا کیلئے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ آپریشن کی تکمیل کے بعد نئی پوشاکیں، کنبے کی بدلی ہوئی چال ڈھال اور نئی نئی موٹر سائیکلوں کی ریل پیل کے  مناظر، دراصل "دیہات سدھار " منصوبوں، آفات علاج اسکیموں اور زراعت اِیزاد پیکیجز کے تصور کا تمسخر اڑا رہے ہوتے ہیں۔ سالِ رواں سیلابوں کی شدت سے محفوظ رہا تو اس طرح کے مایوس اور لٹکے ہوئے چہروں پر لعنت برس رہی تھی مگر جس روز سے پنجاب حکومت نے زرعی پیکیج کو مشتہر کیا ہے، تب سے  یہ مخلوق لُڈیان ڈال رہی ہے۔
7- کاشتکاری کے مروجہ معمولات کے مطابق، زمیندار حاکم اور مزارع محکوم ہے۔ ایک فرمانروا اور دوسرا تابع فرمان ہے۔ حقیقت میں، زمیندار سہولت کار اور زرعی کارکن عمل طراز ہے۔ فلمی ڈائیلاگ اور افسانوی داستانوں سے قطع نظر، تعلق کی نوعیت باپ اور اولاد کی مانند رہتی ہے۔ دونوں کا سفر اور منزل ایک ہی ہے۔ حکومت جب بھی کسی پیکیج یا سبسڈی کا اعلان کرتی ہے، چھوٹے کاشتکار، مزارع یا حصہ دار زرعی کارکن کیلئے ممکن ہی نہیں کہ وہ آزادانہ طور پر سرکاری مراعات یا پیشکشوں کے پیچھے بھاگتا پھرے۔ عملاً سب کچھ زمیندار کو کرنا پڑتا ہے خواہ وہ ہاتھ گھما کر کان کو پکڑے یا سیدھے ہاتھ سے رسائی حاصل کر لے۔ عموماً مشاھدے میں آیا ہے کہ ایسے مواقع پر ایک زمیندار، دس دس، بیس بیس کاشتکاروں کے نام پر دستاویزات تیار کروا لیتا ہےاور بڑے آرام سے مشتہرہ منصوبوں سے مستفیض ہو جاتا ہے، یونہی حکومت کیطرف سے مشروط یا متعینہ پروسیجر اور پریکٹس کے سارے تقاضے پورے کر دیئے جاتے ہیں ۔
پس چہ باید کرد ؟
مندرجہ بالا قباحتوں اور در پیش مسائل کے پس منظر میں، زراعت کو زوال سے نکالنے , کاشتکار کو حوصلہ دینے اور قومی معیشت کے وجود میں، سرطان زدہ ریڑھ کی ھڈی کا صحیح علاج کرنے کے ساتھ ساتھ، اگر عوام میں اپنا کھویا ہوا امیج بھی لٙوٹانا ہے تو پوری دیانتداری کے ساتھ، تلخ حقائق کو سمجھنا ہو گا ، راست روی اور جہدِ مسلسل کو اوڑھنا بچھونا بنائے بغیر بات نہیں بنے گی۔ ایسے دُور رٙس اقدامات اٹھانا ہونگے جو نتیجہ خیز اور زُود اثر ثابت ہو سکیں۔ چنانچہ،
1- زراعت کے فروغ کیلئے کسی بھی صورت میں، رقوم کی نقد تقسیم سے اجتناب اختیار کیا جائے۔ ادھار اٹھانے میں لذت اور اس کے صحیح استعمال میں ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وقتی رغبتیں اور ضرورتیں، اصل اہداف پر غالب آ جاتی ہیں۔ ویسے بھی قوم کےوجود کو  انا، خودداری، محنت اور جفاکشی کے جواھر سے محروم کر کے، بے حسی، حرام خوری اور بھکاری پن کا خُوگر بنا دینا ملک اور  مِلی تشخص پر کاری ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ سستی شہرت کی بھونڈی مثالیں معلوم کرنے کے لئے کسی تجسس اور تحقیق کی ضرورت نہیں، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام، یُوتھ قرضوں کا اجرا، قومی املاک کی مفت تقسیم ، امدادی گرانٹس اور نقدی رقوم کے پیکیجز جیسے چونکا دینے والے مضحکہ خیر منصوبے ہمارے سامنے ہیں۔ بنابریں قومی وسائل کو اجتماعی مفاد میں استعمال کرنے کیلئے لازم ہے کہ کارآمد، وسیعُ الاٙثر اور پائیدار منصوبے عمل میں لائے جائیں۔
2- پیکیج کے سو فیصد صحیح استعمال کیلئے آپ ایسے طریقے اختیار کریں جس سے براہ راست زراعت کا شعبہ قوت اور عروج حاصل کر سکے نہ کہ افراد اور مافیا من مانی اور موج میلے کے مواقع پا سکیں۔ مثال کے طور پر، 100 ارب روپے پیکیج سے درج ذیل فیصلے اور عملی اقدامات، زراعت پروری اور اسکے ارتقائی رحجان کا منہ بولتا ثبوت قرار پاتے جو واضح طور پر محسوس بھی ہوتے اور قابل دید حیثیت کے حامل بھی لگتے۔ افراد سے سماج تک سبھی فیضیاب ہوتے اور قومی معشیت بھی صحتمند  انگڑائیاں لیتی دکھائی دیتی۔
ا----کھاد کی قیمتوں میں مزید سبسڈی، پیکیج کا مرکزی نکتہ ہونا چاہئے تھا۔ اب بھی  ڈی اے پی، پوٹاش اور یوریا کی قیمتوں میں مزید پانچ پانچ سو روپے فی بوری کمی کا اعلان کر دینا چاہئے کیونکہ کسی بھی کاشت کی پیداوار کا زیادہ دارومدار کھاد پر ہوتا ہے۔ معیاری پیدوار کا حصول، ضرورت طلب کھاد کی فراہمی کے بغیر ممکن نہیں۔ ہمارے ملک میں زمیندار اور کاشتکار، مالی دشواریوں کے باعث کھاد کے استعمال میں، بُخل پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے زمینوں کی پیدواری صلاحیت بُری طرح متاثرہ ہو رہی ہے۔ کاشتکاروں کی وسیع تعداد ساہُوکاروں سے سود در سود قیمت پر کھاد خرید کرتی ہے، معاشرے  کے وجود میں سرایت کر جانے والا یہ ناسور دھقانوں کا خون چُوس رہا ہے۔ ایسے طور طریقوں کی تفصیل سنیں گے تو سر دُھنیں گے۔ مثلاً 1400 روپے کھاد کی بوری، چار پانچ ماہ کے ادھار  کیلئے 2500 سے 3500 روپے پر دی جاتی ہے جبکہ وصولی کیلئے عوضانہ پریکٹس بالکل برعکس ہے۔ ادائیگی کیلئے نقدی نہیں، گندم لی جاتی ہے۔ کھاد دیتے ہوئے طے کر لیا جاتا ہے کہ 3250 روپے فی بوری والی گندم  2500 روپے تک مجرا کی جائے گی۔ لوٹ مار کے ایسے معاملات میں دُرگت دونوں طرف کسان کی بنتی ہے، چنانچہ جہاں تک ممکن ہے کھادیں ارزاں کریں جس سے کسان اسودہ اور پیدواریں افزودہ ہوتی نظر آسکیں گی۔
ب---صوبے کے ہر تحصیل ہیڈکوارٹر پر پچاس پچاس ٹریکٹروں کی فراہمی کیلئے قرعہ اندازی۔ ہر ٹریکٹر کی کل قیمت کا ایک تہائی حصہ صوبائی حکومت بطور امدادی گرانٹ ادا کرتی اور بقیہ قیمت کی ساری ادائیگی کا ذمہ مختلف بنک اٹھاتے۔ بنک پانچ سال کیلئے ششماہی قسطوں پر قرض جاری کرتے جس میں سود کی شرح چھ فیصد سالانہ سے زیادہ ہرگز نہ ہوتی۔
ج---- گندم کی کاشت اور گنے کی خریداری سے پہلے امدادی قیمتوں کا اعلان نہایت ناگزیر ہے۔ عرصہ ہوا گندم کے نرخ مقرر ہوئے تھے ۔ کئ برسوں سے گندم کی بمپر کراپس کے حصول کا کریڈٹ گیلانی حکومت کو نہ دینا زیادتی ہو گی۔ ملک میں کارفرما مہیب آویزشوں کے باوجود، حکومت زراعت کی ترقی اور توجہ سے کبھی غافل نہیں رہی تھی۔   زراعت ضروریات سے وابستہ، ماسوائے ڈیزل کے، تقریباً تمام اشیا کنٹرول میں رہیں۔ کوالٹی اور قیمت، ہر دو پہلوؤں کی مانیٹرنگ اور گرفت کا نظام آئیڈیل نہیں تو کافی حد تک تسلی بخش تھا۔ پیدواروں کی قیمتوں میں مٙصارف مُتناسب حساب کتاب اور امدادی اضافوں کے اعلانات ہمیشہ بروقت ہوا کرتے تھے۔  نتائج ریکارڈ پر ہیں۔ فصلیں بڑھیں، کسان نے سُکھ کا سانس لیا اور قومی معیشت میں زراعت کا شعبہ اطمینان بخش قرار دیا جانے لگا۔ اپنی تمام تر کمزوریوں اور بدنامیوں کے باوجود، ملک کی ستر فیصد آبادی کے سامنے، پیپلزپارٹی سر اٹھا کر اور سینہ تان کر احسانات کا تذکرہ کرے گی تو حق بجانب ہو گی۔ جناب شہباز شریف کی حکومت نے، زراعت کی ارتقائی پیش رفت کیلئے ماضی میں مساھلت اور عدم توجہ اختیار کی اور کسان کمیونٹی کو نالاں کر بیٹھے۔ اب بھی امدادی قیمتوں کا اعلان کرتے اور اس اقدام کو کسان پیکیج کا حصہ بنا ڈالتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گیہوں کی کاشت سے پہلے پہلے حکومت امدادی قیمت کا اعلان کر دے جو کسی بھی لحاظ سے 1500 روپے فی من سے کم نہیں ہونا چاہئے۔ یہی تقاضے  گنا، کپاس اور مُنجی فصلات کے ہیں۔ عدم توجہ اور لاپروائی کا نتیجہ ہے کہ کپاس کی کاشت سمٹ کر، صوبہ کے چند جنوب مغربی اضلاع تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ گنا ملک کے وسیع رقبہ پر کاشت ہو رہا ہے اور رواں فصل تیار ہونے والی ہے مگر مسلسل حکومتی بےاعتناعی کا شکار ہے۔ کسان استحصال میں ملز مالکان اور سرکار دونوں ذمہ دار ہیں۔ خبردار رہیں کہ گنے کی قیمتوں میں اگر معقول اضافہ نہ کیا گیا تو پھر گنے کا مستقبل بھی تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ حکومت کو کسان کُشی بہت مہنگی پڑے گی اور ملک کا معاشی پہیہ بھی معکوس گھومتا نظر آئے گا۔
د---- زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے فلیٹ ریٹ کی بحالی اور اعلان، پیکیج کا اہم جزو ہونا چاہئے تھا۔ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی پر ہزاروں ٹیوب ویلوں کا گلا آپ نے ہی گھونٹا تھا جب دہائیوں سے مستعمل، فلیٹ ریٹ پالیسی اور پریکٹس کو، آپ نے بیک جُنبشِ قلم منسوخ کر ڈالا۔ آپ شاید نہیں جانتے کہ اس نامعقول اور بےرحم اقدام نے، ملک کے لاکھوں لوگوں کو بیروزگاری کے جہنم کا ایندھن بنا دیا تھا۔ چلیں! گزشت آنچہ گزشت، نظر ثانی اور بحالی کیلئے مراجعت میں مزید تاخیر مت کریں ورنہ یاد رکھیں کہ جناب کا رواں رویہ، آبپاشی سے محروم علاقوں کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے جہاں زمینیں ویران اور کسان ھذیان حالت میں ہیں۔
ر---- توانائی کے بحران کا ایک توڑ سولرسسٹم بھی ہے جو نسبتاً کم خرچ اور منزل بمُراد ثابت ہو رہا ہے۔ قدرت کے اس منبعء توانائی سے دنیا بھر فیض حاصل کر رہی ہے۔ چاہیں تو ہم بھی، ملک کے لق و دق صحراوءں اور ویران پڑے چٹیل میدانوں کو سبزہ زاروں اور لہلہاتے کھیت کھلیانوں میں بدل سکتے ہیں۔ یہ ایک انقلاب آفرین مشن ہو گا جس کے ذریعے، نہری نظام سے محروم، ملک کی بہت بڑی آبادی کی اُجڑی ہوئی مانگ میں سیندور بھرا جا سکتا ہے بشرطیکہ نیتیں صاف اور ارادے پختہ ہوں۔ کاش کہ پیکیج پیشکش میں اس سہولت سے باریابی کے آغاز کا اعلان بھی کر دیا جاتا۔
س- تلخ نوائ شاید ناگوار گزرے مگر حقیقت طلب انسان، تمازت طبع ہونے کے بجائے ہمیشہ تدبر افزائ  کو ترجیح دیتا ہے۔ گندم خریداری کیلئے آپ کا موجودہ طریقہ کار نہایت ناقص اور مبنی بر فریب و دروغ ہے۔ پتہ نہیں کونسے کاریگر مشیر ایسے ہیں جو جناب کو " سب اچھا " رپورٹ پیش کرتے ہیں اور انکی خوشامد اور جھوٹی مدح سرائی آپ کو مطمئن اور مفرح بنا دیتی ہے! سب سے پہلا جھوٹ تو یہ بولا جاتا ہے کہ گندم کا دانہ دانہ اٹھایا جائے گا جبکہ ایسا کبھی ہوا نہیں۔ فی الواقع، قابلِ فروخت، کُل گندم کا 25 % سے بھی کم حصہ خرید کیا جاتا ہے۔ اس تناسب میں سے بھی، اصل اور پیشہ ور کسانوں کی بمشکل دس فیصد تعداد استفادے کے مواقع حاصل کر پاتی ہے، وہ بھی پیچیدگیوں، ذلتوں اور انتظار کے انگنت بکھیڑوں کے بعد، ورنہ آڑھتی، مڈل مین، دلال، سرکاری اہلکار اور تاجر طبقہ موج میلہ کر رہا ہوتا ہے۔ کسان کے نام پر کٙسب کاری اور فریب سازی کا اندھا راج کارفرما ہوتا ہے ۔ صحیح کاشتکاروں کی گندم انتظار انتظار میں برباد ہو جاتی ہے جس کا معتدبہ حصہ کیڑے مکوڑوں، بادوباراں ، آندھی سیلاب اور گٙرد مٹی کی نذر ہو جاتا ہے۔ جو بچتا ہے، وہ بعد میں پچیس تیس فیصد کے گھاٹے پر عام مارکیٹ میں نیلام کر دیا جاتا ہے جسکی ادائیگی بدقسمت کسان کو، دکانداروں کیطرف سے بیک مُشت نہیں، بلکہ قسطوں میں کی جاتی ہے۔ چھ ماہ کی فصل کے دوران اُدھار ، خوار، اضطرار اور انتظار کی مصیبتوں کا مارا ہوا انسان جب اس طرح کے انسانیت سوز انجام کا سامنا کرے گا تو  اپنی قسمت اور حکمرانوں کی غفلت پر ماتم یا تبرے بازی نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ پیکیج کا اعلان کرنے سے پہلے، آپ کسانوں کے مسائل پر دو چار سیمینار کرتے۔ ڈویژنل سطح پر  مشاورت محفلیں منعقد ہوتیں ۔ سفارشات مرتب کی جاتیں۔ کسانوں کی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لیا جاتا۔ فرسودہ اور بیہودہ طرزِ خریداری کے بجائے آئندہ کیلئے واقعی دانہ دانہ گندم اٹھانے کی پالیسی وضع کرتے ۔ فرضی ، فریبی اور دکھاوے کے ظاہری وعدوں کے بجائے عملی نتائج کی گارنٹی فراہم کرتے۔ دانش سے عاری، ابدیت سے محروم اور تقاضوں سے متصادم پالیسیوں اور پروجیکٹس کا اطلاق، ہمیشہ وقت اور سرمائے کے ضیاع کا سبب بنتا رہے گا ۔
ص----پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے، آپ ملاوٹ مافیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے جو بیج، کھاد اور کِرم کُش زرعی ادویات میں مسلسل ملاوٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔  فصلات برباد اور زمینوں کی زرخیزی تباہ ہو رہی ہے ۔ ایسے سماج منحرف اور زراعت دشمن طبقوں کے خلاف، سنگین قوانین اور عبرتناک انجام کا اعلان اور عمل تاخیر کا متحمل نہیں۔ مطلوبہ ثمرات کے حصول کیلئے جلد اقدامات کا اعلان اگرچہ  کسان پیکیج کا حصہ ہونا چاہئے تھا تاہم اب بھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔
ط---نئے پختہ کھالا جات کی تعمیر، پرانے کھالوں میں توسیع اور مرمت کا کام بہت دھیما پڑ گیا ہے۔دھقان اس غفلت اور عدم توجہ کا سبب خزانہ خور میٹرو مثال شہری منصوبوں کو قرار دیتے ہیں۔ پانی کی کمی بیشی پر گرفت ، سیم تھور پہ دسترس اور سائنٹیفک اصولوں کے مطابق آبپاشی کرتے ہوئے اوسط پیداوار میں اضافہ، کھالوں کو پختہ کئے بغیر ممکن نہیں۔ کسانوں پر بوجھ ڈالنے کے بجائے سارے کام کاذمہ سرکار اٹھائے۔  مالی طور پر تہی دست کسان اپنے حصہ کا شئر ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کھالا جات کی فوری تعمر، توسیع اور مرمتیوں کا اعلان بھی کر دیا جاتا اور کسان کا شئر ادا کرنے کی ذمہ داری آسان اقساط قرض پر بنکوں کو سونپ دی جاتی جس کا سود صوبائی حکومت اپنے ذمہ لیتی۔ پیکیج پیشکشوں سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ یہ کام ہر حال جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
ع---زراعت اور زرعی آلات لازم و ملزوم ہیں ۔ لینڈ لیزر، بار ہیرو، روٹاویٹر، ڈچر، کلٹیویٹر، تھریشر، بلیڈ  وغیرہ کی فراہمی کا اہتمام، سبسڈی اور قرضوں کی بنیاد پر حکومت  از خود کرے اور یہ سلسلہ بلاتعطل سال بھر جاری رہنا چاہئے۔ قیمتوں کی ادائیگی کا تناسب ففٹی ففٹی رکھا جائے۔ ایڈوانس ادائیگیاں کسان افورڈ کر سکتا ہے نہ مجبور کیا جائے ۔ پیکیج میں نقدیاں تقسیم کرنے کے بجائے، اس طرح کے اقدامات کرنے سے کسان اور کاشت کے شعبے کی صحیح خدمت ہوتی ۔ کٹائی کے ایام میں ہارویسٹرز وقت کی ناگزیر ضرورت ہیں ۔ ابھی یہ سارا کام پرائیویٹ طور پر کیا جا رہا ہے مگر طلب کے مقابلہ میں مشینوں کی دستیابی کہیں کم ہے۔ ملک کی بڑی آبادی اب بھی دقیانوسی دور کی طرح ہاتھوں سے ہارویسٹنگ کا فریضہ انجام دیتی ہے چنانچہ ایک دن کا کام ایک ماہ لے لیتا  ہے۔ دھقان کی صحت پر مضر اثرات اپنی جگہ، اہم مسئلہ اگلی کاشت کا ہوتا ہے جو تاخیر کی نذر ہو جاتی ہے۔ حکومت کسان پیکجز میں ہارویسٹرز فراہمی کی سکیم بھی شامل کرے۔ مناسب سبسڈی کے علاوہ، آسان اقساط اور کم سود پر بنکوں سے قرضوں کی منظوری کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔
ف-- ھیوی مشینری کا زراعت کے شعبہ میں بڑا گہرا کردار ہے۔ ضلع اور تحصیل سطح پر زراعت کیلئے مختص شدہ بلڈوزروں کا استعمال بڑا غلط ہو رہا ہے ۔ کرپشن اور لوٹ مار کا غلبہ ہے۔ وزیر اعلیٰ براہ راست مداخلت کریں اور اس بدعنوانی کا نوٹس لیں۔ بلڈوزروں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ، حکومت وقتاً فوقتاً  ڈیزل بھی مہیا کرتی رہتی ہے تاکہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ ارزاں اور آسان ادائیگی پر بلڈوزرز مہیا کئے جا سکیں مگر سرکاری اہلکاروں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ ڈیزل ہڑپ اور مشینری پرائیویٹ کاموں پر جُتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں سخت گرفت اور کڑی سزاوءں کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں، بہرکیف زرعی پیکیج کا اعلان کرتے وقت اس طرح کے معاملات کی اصلاح اور زراعت کےاس   شعبے کو مزید موثر اور کارآمد بنانے کی نوید سنائی جاتی تو بہتر ہوتا ۔
ق ----دیہات سدھار اور دھقان سنبھال سرگرمیوں میں بلدیاتی اداروں کا کردار، کسی وضاحت کا محتاج نہیں۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ملک کی عنان آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ ہی اپنے صوبہ میں اختیارات پر سانپ بن کر بیٹھ گئے ہیں! ملک کے باقی  سب صوبوں میں بلدیاتی ادارے مصروفِ کار ہیں مگر پنجاب مضحکہ خیز منظر پیش کر رہا ہے !!!
3--لاتعداد مسائل اور بےشمار سفارشات مرتب کرنے کیلئے وسیع وقت اور جامع وسائل درکار ہیں۔ ہم نے ابھی نمایاں اور کچھ سلگتے پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ اس موضوع پر " جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی " عنوان کے تحت، گزشتہ ماہ بڑی سیر حاصل بحث کی تھی۔ دورِ حاضر میں دھقان کو درپیش مسائل اور مداوا کیلئے مجوزہ اقدامات کا تفصیلی تذکرہ کیا تھا۔ مطالعہ کیلئے وہ مقالہ بڑا مفصل اور سُودمند ہے۔
4- اپنے خطاب کے دوران، میاں محمد شہبازشریف نے " اِس طرح تو ہوتا ہے، اِس طرح کے کاموں میں " کلام والے، جناب شعیب بن عزیز کی تحسین کی، اُن کے تجویز کردہ " پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے " نام اور عنوان کو بھی سراہا جس کے تحت دیہی سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کا کام ہو رہا ہے۔ " عنوان" کی علمی باریکیوں پر بات تو اہلِ علم ہی کر سکتے ہیں تاہم اتنی گزارش کرنا ضروری لگ رہا ہے کہ زمانہ بدل چکا ہے، رومانویت پر عملیت نے غلبہ حاصل کر لیا ہے، لوگ ناموں کو نہیں, کاموں کو دیکھتے ہیں۔ جناب خادم اعلیٰ اور محترم شعیب بن عزیز صاحب اگر بُرا نہ منائیں تو عوام میں عنوان " پکیاں سڑکاں، بھُوکے بھیڑئے " یا پھر  اِسم با مسمی' " شہباز منصوبے اور باگٙڑ بِلے" کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ کیا وزیر اعلیٰ صاحب اس قدر نابلد ہیں کہ بیوروکریسی اور جمہوریت نواز نمائندے،  منصوبوں کی تجاویز سے لے کر تقسیم اور بندر بانٹ سے لے کر اطلاق تک، جو کچھ کر رہے ہیں، ان تمام سرگرمیوں سے وہ  بےخبر ہیں ؟ ٹھیکوں کی ٹینڈرنگ اور تفویض میں کوئی میرٹ ہے اور نہ منصوبوں کی جانچ پڑتال میں کوئی دیانت اور دخل اندازی، کام کی کوالٹی پر کہیں کنٹرول ہے اور نہ تکمیل تقاضوں کی کچھ پاسداری۔ حالات " وقت کم ہے اور حسرتیں زیادہ " کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ آپ اپنے خفیہ ذرائع سے خود ہی صوبہ بھر میں سروے کروا لیں۔ جناب کو معلوم ہو جائے گا کہ " کہتی ہے تجھ کو خلقِ  خدا غائبانہ کیا ! "
5- دیہات سدھار اور زراعت زور کیلئے آپ جب بھی منصوبہ مہم شروع کریں۔ پہلے میرٹ اور مانیٹرنگ کا مضبوط، بےلچک اور منصفانہ نظام وضع کریں جو بلا لحاظ اور بلا دخل اندازی اپنا کردار ادا کر سکے۔ ایک دیانتدار اور صاحبِ بصیرت سربراہ کے ساتھ پانچ پانچ کہنہ مشق افراد پر مشتمل چار پانچ مضبوط ٹیمیں لگائیں جو ہر چھوٹے بڑے منصوبے کے سارے معاملات، آغاز سے انجام تک، بنفس نفیس چیک کرنے، چیک لسٹ بنانے، اور فائنل سفارشات مرتب کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور با اختیار ہوں ۔ آغاز ، وسط اور اختتام پر ، ہر منصوبے کی کم از کم  تین مرتبہ چیکنگ کی جائے۔ فراڈ، فریب، دھاندلی، دغا بازی اور معیار پر کمپرومائز کرنے والوں کے خلاف فوری اور بےرحم اقدامات کئے جائیں، اولا" متعلقہ انجینئرز اور سپروائزری انتظامیہ کو لٹکایا جائے اور پھر حرام خور ٹھیکیداروں کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔ کہیں بھی منتخب نمائندوں یا ان کے ایجنٹوں کی ناجائز اور بدنیتی پر مبنی مداخلت کے ٹھوس ثبوت مل جائیں تو مکمل طور پر نااہل قرار دینے کے علاوہ فوجداری مقدمات بھی قائم کئے جائیں ۔ البتہ منصوبوں کی تجاویز اور دوران تعمیل، متعلقہ منتخب نمائندوں کی طرف سے معائنوں اور مانیٹرنگ کا تعمیری کردار ضرور ہونا چاہئے۔
6-حکومت کے پاس ابھی ڈیڑھ برس کی مدت موجود ہے۔ مایوسی اور پست ہمتی دکھانے یا جلد بازی میں مُہمٙل اور مجہول ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے، دانش اور دوڑ دھوپ کے ساتھ، ضائع شدہ وقت کے ازالہ کی فکر کرنی چاہئے۔ آپ آسمان سے کہکشاں اتار کر نہ بھی لا سکے تو کوئی بات نہیں، منزل کی صحیح نشاندہی اور سفر کا درست آغاز بھی، آپ کے سیاسی سفر میں، آپ کیلئے زادراہ کا کام دیتا رہے گا۔

13th Oct.2016

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *