پُرکھوں کا قرض، فرض تھا اگلے عہود پر

shahida-dilawar-shah

سیانے کہہ گئے ہیں کہ انسان عمروں سے نہیں کام سے بڑا ہوتا ہے۔کسی کا جتنا ہنراورفن طاقتور ہو گا ،وہ شخص اتنا ہی عظیم اور معتبر کہلائے گا۔چشمِ فلک نے یوں تو اپنی زندگی میں ایسے ایسے فنکار جعلی ادیب شدیب بھی دیکھے ہیں جو آپ کو ہر ادبی محفل میں معتبر لوگوں کے لیے مختص کی گئی سیٹوں پر براجمان دکھائی دیں گے یا نجی محافل میں اپنی ذات کی بین بجاتے نہ تھکیں گے ۔ہمیشہ دائیں بائیں بیٹھے لوگوں کے کان میں ہر تیسرے بندے کی بد خویاں اور غیبتیں کرتے دکھائی دیں گے۔ان میں سے اکثر احساس کمتری کا شکارہوتے ہیں۔ہر وقت دوسروں کے آگے نکل جانے کا اور خود اپنی محرومی کا رونا روتے دکھائی دیں گے۔ اس کے مقابلے میں آج بھی کچھ جینوئن ادیب آپ کو انہیں محفلوں میں انتہائی صوبراور نفیس ملیں گے جن کا دامن ادبی سرمائے سے مالامال ہوتا ہے، چہرے ہر وقار اور دل میں ہر شخص کے لیے اعتبار اور احترام ہوتا ہے۔ ان ہی صاحبِ فہم و ذکا میں ایک شخصیت خواجہ محمد زکریا کی بھی ہے۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ہر دو لحاظ سے قابل احترام ہیں کہ شخصیت بھی بے داغ ہے اور کام بھی بے حساب ہے۔عہدِ موجود میں شائد ہی کوئی ایسا اردوزبان کا ماہر ہو جس نے خواجہ صاحب سے استفادہ نہ کیا ہو،چاہے تنقید کا میدان ہو،تحقیق کاہو، شاعری کاہو ،نثر کاہویا ادب آداب کا ۔جہاں خواجہ صاحب کاایک زمانہ معترف ہے وہاں معدودے چند وہ بھی ہیں جو منافقت کی آخری نشانی کے طور پر اپنی اوقات سے باہر دکھائی دیتے ہوئے اپنا پینڈا کھوٹا کرتے ہیں ۔ان میں سے کچھ تو ایسے کم ظرف ہیں کہ جب ضرورت پڑتی ہے خواجہ صاحب کے آگے ہاتھ باندھے جھکتے ہیں مگر مفاد کے بعد اپنی اصلی شکل میں آجاتے ہیں اور اپنے محسن کی ساری التفات یک سر پس پشت ڈال کر بچھو کارول پلے کرتے ہیں ۔ادھر خواجہ صاحب کو کوئی لاکھ سمجھائے مگر وہ بھی اپنی فطرت کے امین ہیں کہ ان کا قاتل بھی ان کے در پر آجائے تو اسے معاف کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔بھلا یہ بھی کوئی بات ہے۔آخر انا پرستی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔! ۔۔۔مگر۔۔۔خیر ڈاکٹر صاحب ایک عظیم استاد ہیں ان کے اپنے اصول اور اپنا زاویہ نگاہ ہے،ہم آپ کون ہوتے ہیں اپنی رائے دینے والے۔۔۔۔۔۔خواجہ صاحب کا سارا ادبی کام اپنی جگہ مستند اور توانا ہے جواپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ سب کے سامنے ہے ۔اگر اس میں ان کی زندگی کی پوری مشقت ایک طرف رکھ دی جائے اور صرف مجید امجد سے منسلک کام کی بات کی جائے تو خواجہ صاحب کی محنت چیز ہوتی دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔۔۔اس بات کو ایک طرف رکھتے ہیں ،آیئے ایک منظر دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔روزِ نجات ہے ۔۔۔۔۔دربارِ خالق سجا ہوا ہے۔۔۔۔۔ہر کوئی سر جھکائے نامہ اعمال کے ساتھ خالقِ تقدیر کو حساب کتاب دے رہا ہے۔۔۔۔۔ اکیسویں صدی عیسویں کے کچھ شناسا چہرے ہیں ۔۔۔۔ایک طرف ڈاکٹرمجاہد کامران(پنجاب یونی ورسٹی والے) دکھائی دیئے۔۔۔۔خالق کا سوال کہ اتنی بڑی یونی ورسٹی میں کتنے سالوں تک علم و ادب پروری کا موقع دیا گیا ،کیا کیا؟ راوی ہمہ تن گوش تھا۔جواب ملا ،پالنے والے سب تیرے سامنے ہے ۔کہا تو بتا ؟مجاہد کامران نے جو دامن میں تھا ،اس سائنس دانی میں سے ایک ’’مختصر تاریخِ ادبیاتِ مسلمانانِ پاک و ہند اردو ادب۔۔۔۔آغاز تا بیسویں صدی۔۔۔۔۔۔مدیر عمو می ،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا‘‘پیش کر دی۔۔۔۔۔۔!!!!!!فرشتہ ۔۔۔۔چاک و چوبند ۔۔۔۔مالک دو جہاں کے تیور سے بخوبی آشنا،نے مجاہد کامران کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے راوی نے فرشتے کو ڈاکٹر خواجہ محمد زکریااور ڈاکٹر مجاہد کامران کے ہمراہ، مشکبار راہ پر جاتے دیکھا!!!!!!!!!!!۔۔۔۔۔بات ختم ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!ادبی دنیا میں متلون مزاج اصنافِ انسانی موجود ہیں۔خاص طور پر اردو اور پنجابی ادب میں کئی مفاد پرستوں نے الگ الگ دکان داری لگا رکھی ہے۔کچھ تو look busy do nothingکے فارمولے پر ساری زندگی پکے ہو کر زندگی بِتا دیتے ہیں ۔حرام ہے جو ان سے کوئی ڈھنگ کا شعر یا جملہ سرزد ہو سکے،تنقید تخقیق تو دور کی بات ہے۔مدر ٹریسا نے کہا تھا:
Not all of us can do great things but we can do small things with great love
ہم خود بہت اچھا نہ بھی کر سکیں مگر کسی کے کیے ہوئے بڑے کام کو تسلیم کر لینا بھی بڑا پن ہوتا ہے۔بلا شبہ ’’مختصر تاریخِ ادبیات ‘‘ ایک بڑا پرو جیکٹ تھا۔وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران نابغہ روزگار ہیں ۔انہوں نے اس منصوبے کے لیے دائیں بائیں نگاہ کی تو ٹاڑ گئے کہ اس کہنہ مشکی کے لیے خواجہ محمد زکریا جیسی جیداور ہمہ جہت شخصیت ہی سود مند ہے ،جو اس بڑے مقصد کو مقام دوام تک پہنچا سکتی تھی۔
خواجہ صاحب شعر گوئی ،شعر فہمی،تنقیداورتحقیق کے میدان میں یگانہ روزگار ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اردو،انگلش ،پنجابی ،فارسی اور عربی پر خاصی دسترس رکھتے ہیں۔ اردو ادب ان کا مشغلہ حیات ہے سو انہوں نے ادبیاتِ اردو کا کام بڑے اہتمام سے انجام دیا جو کہ بڑی بردباری اور تحمل مزاجی کا حامل تھا۔باقی یہ نیچر کا اختیار ہے کہ انسان کی دسترس میں ہر تحقیق پر، تحقیق کی گنجائش رہتی ہے۔تاریخِ ادبیاتِ مسلمانانِ پاکستان و ہند کا منصوبہ ۱۹۷۲ میں پورا ہو چکا تھا۔ اس کی ٹوٹل پانچ جلدیں تھیں ۔ اس منصوبے کا احیا اور نظر ثانی اشد ضروری تھی اور خصوصی طور پر بیسویں صدی کے ادیبوں کے بے بہا ادبی خزانے کی عدم موجودگی زیرِ ذکر تھی۔ ۲۰۰۸ سے آغاز ہونے والا یہ کام پانچ چھ سال کی ریاضت سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔پہلے مرحلے میں اس کی چھ جلدیں مرتب ہوئیں اور تھوڑے وقفے بعد ہی اس سارے سمند ر کو ایک صراحی میں محفوظ کر دیا گیا جس کے اندر’’ آغاز سے بیسویں صدی تک کا ادبی خزانہ‘‘ بھی وافر حد میں تلاشا جا سکتا ہے۔اس میں تاریخ کے طلبا، مبصرین اور صاحبِ نقد و نظر کے لیے توشہء سکون میسر ہے۔ادبی سرمائے کی یہ تلخیص ۱۱۰۰ صفحات پر مشتمل ہے جو اصل کا تقریباً ایک تہائی ہے۔اس تلخیص میں منطقی ربط بڑھانے کے لیے کتاب کو اکتیس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔آخر میں ضمیمہ اور اشاریہ بھی ہے۔ استفادے میں سہولت کے لیے اسے چھوٹے سائز میں باریک کاغذ پر چھاپا گیا ہے۔ اس کتاب سے ہر طبقہ ہائے اسلوب کے قارئین مستفید ہو سکیں گے۔آخری خبریں آنے تک پتا چلا ہے کہ خواجہ صاحب اس ادبی کائینات کو کسی بوتل میں بند کرنے کے مزید جتن کر رہے ہیں ،جس سے نئے دور میں ادب کے طالبعلم کو ایک ہی جگہ سے مطلوبہ معلومات با آسانی مل سکیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *