میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا

tabdeeli
میں نے پاکستان کے مسائل اور ان کے حل پر لکھنا شروع کیا تھا  لیکن ایک انتہائی نویت کا حامل مسلہ تارکیں وطن کے متعلق سامنے آیا ہے جو فوری توجہ طلب ہے  ہو سکتا ہے کہ میری یہ تحریر کسی طرح ارباب اختیار تک پہنچ جائے اور وہ یہ مسلہ حل کر دیں ۔ میں اپنی اس تحریر کی وساطت سے ان تمام کالم نگاروں سے بھی گزارش کرتا  ہوں جن کے کالم کی رسائی ارباب اختیار تک ہے کہ وہ بھی اس مسلہ پر لکھ کر اپنے تارکیں وطن بھائیوں کی مشکل کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔
مسلہ یہ ہے کہ یورپ کے ایسے ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں نے جہاں دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں اپنی شہریت سے دستبردار ہو کر وہاں کی شہریت اختیار کر لی ہے ان پاکستانیوں کو پاکستان نے ایک کارڈ جاری کر رکھا ہے جس کا نام پاکستان اوریجن کارڈ ہے ان کارڈز کا اجراء پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا اس وقت وزیر داخلہ کا قلمدان چوہدری شجاعت حسین کے پاس تھا  اس کارڈ کے اجراء کے وقت یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حامل ہذا کارڈ کو پاکستان میں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ایک عام پاکستانی کے ہیں سوائے انتخابات میں حصہ لینے کے ۔ وقت کے ساتھ اس کارڈ کی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے اور اس کے اجراء کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی ہوتی رہی ہے ۔ آج کل یہ کارڈ صرف آن لائن بنوایا جا سکتا ھے ۔ جن تارکین وطن نے یہ کارڈز لے رکھے ہیں ان میں ایک اچھی خاصی تعداد آزاد کشمیر کے باشندوں کی بھی ہے اور ان کے لئے اب مسلہ یہ ہے کہ جب وہ چھٹیاں گزارنے یا ایک لمبے عرصے کے لیے پاکستان آتے ہیں اور اسلام آباد سے آزاد کشمیر کے اضلاع راولاکورٹ،  کوٹلی، باغ، سدھنوتی یا حویلی کا سفر کرتے ہیں تو ان کو کہوٹہ سے واپس کر دیا جاتا ہے کہ چونکہ غیر ملکی افراد کہوٹہ کے قریب سے نہیں گزر سکتے ۔ اور یہ سلسلہ 2002 سے جاری ہے گاہے بگاہے کچھ لوگ گزر جاتے ہیں ان کو چیک نہیں کیا جاتا لیکن جب بھی کوئی چیک ہو تو اس کو واپس اسلام آباد کی طرف موڑ دیا جاتا ہے  اب اس کے سامنے 2 راستے ہوتے ہیں یا تو اسلام آباد سے براستہ دینہ میرپور اور کوٹلی تقریبنا 5 گھنٹے کی اضافی مسافت طے کر کے اپنے گھر پہنچے یا پھر مری مظفرآباد کے راستےوہ بھی لگ بھگ اتنا ہی مشکل ہے ۔ ارباب اختیار سے میری گزارش ہے کہ 1۔ یہ لوگ نہ تو غیر ہیں اور نہ اغیار کے ایجنٹ ۔یہ پاکستان میں رہنے والوں سے زیادہ پاکستان کے ہمدرد اور محب وطن ہیں یہ پاکستان کی اس ایلیٹ کلاس کا بھی حصہ نہیں جو سب کچھ حاصل تو پاکستان سے کرتے ہیں اور پاکستان کو رہنے کے لیے مناسب ملک نہیں سمجھتے اور یورپ یا امریکاکی شہریت حاصل کر لیتے ہیں،  یہ بیچارے تو محنت مزدوری کی غرض سے تارک وطن ہوئے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے اپنے وطن کے گیت گاتے ہیں اور اپنے وطن سے بےانتہا محبت کرتے ہیں اور جب اپنے گھر کو لوٹتے ہیں تو ان کو غیر کا درجہ دے کر واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔ جو کہ انتہائی نا انصافی ہے ۔ 2۔ جب ان کو کارڈ کا اجراء کرتے وقت پاکستان اوریجن تسلیم کیا گیا اور ایک ملکی باشندے کے طور پر سارے حقوق کا وعدہ کیا گیا تھا تو اب یہ بے انصافی کیوں ۔ 3۔ ہمارے ارباب اختیار اور ہماری سول اور فوجی بیوروکریسی اتنی اہلیت کی حامل تو ہے ہی کہ غیر کے ایجنٹس اور محب وطن پاکستانیوں کی پہچان کر سکیں!   کبھی آج تک کوئی ایسا بندہ پکڑا گیا ہے جس نے محنت مزدوری کی خاطر کسی ملک کی شہریت اختیار کر لی ہو اور اس نے پاکستان کے دشمن کے ساتھ مل کر ملک کو کوئی نقصان پہنچایا ہو؟  (الطاف حسین کا معاملہ کچھ اور ہے )  تو پھر ان لوگوں سے کیسا خطرہ ہے ۔ 4۔ کوئی اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک شخص یا 6 افراد پر مشتمل خاندان 12 یا 15 گھنٹے کی مسافت طے کر کے سکینڈنیویا یا یورپ کے کسی ملک سے اسلام آباد پہنچے اور پھر وہاں سے اپنی یا کرائے کی گاڑی لیکر گھنٹے بھر کا سفر طے کر کے کہوٹہ پہنچے تو انہیں وہاں سے واپس اسلام آباد کی طرف روانہ کر دیا جائے تو اس پر کیا گزرے گی؟  اس کے بچے کیا سوچیں گے جن کے سامنے ماں باپ روزانہ اپنے وطن کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے؟   میری اپنے وطن کی تمام ایجنسیز سے بھی گزارش ہے کہ ہمیں شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے ہم تو اس وطن کی مٹی پر پاوں رکھنے سے پہلے اپنی پیشانی رکھتے ہیں اپنی مٹی کو چومتے ہیں اپنی دھرتی کو اپنی ماں کا درجہ دیتے ہیں تو بھلا کوئی اپنی ماں کے خلاف بھی کام کر سکتا ہے؟  میری ارباب اختیار سے اور خاص کر وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا جلد از جلد حل نکالا  جائے اور آزاد کشمیر کے تارکیں وطن کی اس مشکل سے نجات کا بندوبست کیا جائے ۔
جہاں تک اوریجن کارڈ کی بات ہے بہت سارے پاکستانی اداروں کو اس بارے کوئی علم بھی نہیں ہے یہاں تک کہ بعض جگہوں پر خود نادرآ کے دفاتر میں بیٹھے لوگ بھی اس کارڈ سے نابلد ہیں موبائل کی سم یا ایوو لینی ہو تو بھی عام دکان کے بجائے متعلقہ کمپنی کے دفتر جانا پڑتا ہے ۔ آج جب کوئی اوریجن کارڈ کی درخواست دیتا ہے تو اس کے ساتھ 25000روپیہ جمع کراتا ہے یہ اوریجن کارڈ کی فیس ہے اور اس کی قیمت یہ کہ بندہ ایک سم بھی حاصل نہ کر سکے اور بوقت ضرورت نادرآ اسکی تصدیق سے معذوری ظاہر کر دے ۔ ویسے تو تارکیںن وطن کو پاکستان میں بیشمار مسائل کا سامنا ہے اور ہر دور میں سول اور فوجی حکام نے ان مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانیاں کرائی ہیں لیکن آج تک ایک گرین چینل کے علاوہ (وہ بھی مشرف دور میں شوکت عزیز کی حکومت میں ) کوئی بڑا مسلہ حل نہیں ہوا ۔ دوسری طرف وطن عزیز کو جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو یہیں تارکیں وطن اپنی تمام خدمات پیش کر دیتے ہیں اس کے علاوہ پاکستان کے سیاستدان،  بیوروکریٹ،  علمائے کرام اور میڈیا کے لوگ آئے روز یورپ،  امریکہ،  کینیڈا اور مڈل ایسٹ میں تارکین وطن کی میزبانی سے محظوظ ہوتے رہتے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے وعدے بھی کرتے رہتے ہیں۔ کم از کم یہ جس مسلے کا میں نے ذکر کیا ہے اس کے حل ہونے تک میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گا اور اس کو ہر فورم پر اٹھاوں گا ۔ امید ہے کہ ارباب اختیار اس طرف اپنی نظر کرم کریں گے اور میرے میڈیا کے دوست بھی میرا ساتھ دیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *