کھلا خط ،محبان کراچی اور فرزندان پاکستان کے نام

syed arif mustafa

عزیزان من ۔۔۔۔ اسلام علیکم

جمہوریت و شفافیت کے نام پہ غلاظت کی نمود و افزائش کی داستان اب پوری طرح کھل چکی ہے اور لندن میں کئی برسوں سے جاری منی لانڈرنگ کیس کے تھیلے سے برطانوی پالیسی کی بلی برآمد ہوچکی ہے اور سب نے دیکھا کے جہاں ملکی مفاد کا مسئلہ ہو اور امت مسلمہ کے کسی غدار کی سرپرستی کا معاملہ ہو تو کس طرح برطانوی حکومت اسکے تفتیشی ادارے ، عدلیہ اور محکمہء انصاف کیسے ایک ہی پیج پہ موجود دکھتے ہیں اور یہاں تو اسکے ایک اور لاڈلے یعنی بھارت کے بےنقاب ہونے کا معاملہ بھی تھا کیونکہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سو اہم ارکان محمد انور اور طارق میر نے را کی فنڈنگ کے بارے میں سب کچھ 'بک' ڈالا تھا
تو پھر اپنے دو لاڈلوں کو بچانے کی خاطر برطانوی حکومت اور پولیس کو کسی بھی حد سے گزرنے سے کون روک سکتا تھا ،،، افسوس صرف یہ ہے کہ انصاف کا خون بڑی دیدہ دلیری سے ہوا اور وہ بھی مادر جمہوریت کہلانے والی سرزمین پہ ۔۔۔
لیکن اسکا رونا کیا روئیں کے وہ تو پرائے لوگوں کی داستان ہے ، یہاں اپنے ملک میں تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر موجود کسی غیرملکی تنخواہ دار کی کامیاب حمکت عملی کے سبب کراچی ایک بار پھر لٹیروں کے نرغے میں جاتا محسوس ہو رہا ہے اور بلاشبہ یہ وہی ایجنٹ ہے کہ جسنے گزشتہ برس نائن زیرو پہ رینجرز کے چھاپے کے دوران سپریم کورٹ سے سزائے موت کے مجرم فیصل موٹا ، عبید کے ٹو اور سینکڑوں لوگوں کے کئی قاتلوں کی برآمدگی اور کثیر مقدار میں غیر ملکی اسلحہ پکڑے جانے کے بعد بھی نہ صرف ایم کیو ایم کو کالعدم ہونے کی لازمی سزا سے بچالیا تھا بلکہ اگلے ہی ماہ اسے این اے 246 کے ضمنی الیکشن میں کھڑا ہونے بھی دیا تھا جس سے متحدہ کو یہ پروپیگنڈہ کرکے بازی پلٹنے میں بڑی مدد ملی تھی کہ 'دیکھا ہم سچے تھے اور یہ چھاپہ جعلی و جھوٹا تھا ورنہ یہ لوگ ہمیں الیکشن کیسے لڑنے دیتے ۔۔؟؟ " اپنے ہی رینجرز کے چھاپے کو مشکوک بناڈالنے کے بعد لازمی طور پہ عوامی ردعمل میں متحدہ کو بہت ووٹ پڑجانے یقینی تھے اور اس منصوبے کے خالق کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ دنیا بھر میں یہ ثابت کرسکے کہ متحدہ کے خلاف آپریشن کے باوجود اسے عوامی حمایت میسر ہے اور وہ اس میں بہت کامیاب رہا

لیکن برا ہو اسکاٹ لینڈ کی اس نہایت مہنگی شراب کا کہ جسکی خاصیت یہ ہے کہ کامل چالیس برس زمیں میں مٹکوں میں دبائی رکھی جاتی ہے کہ الطاف حسین جسکا شدید رسیا ہے اور اسکے گاڑھے نشے میں ہی وہ 22 اگست والی زہریلی تقریر جھاڑدی گئی کے جو من میں نجانے کب سے پالی اور سنبھالی گئی تھی ۔۔۔ لیکن اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ ام الخبائث کو ابو الخبائث منہ لگائیں تو نتیجہ ایسا ہی نکلتا ہے ۔۔۔ اس تقریر نے وقتی طور پہ بظاہر تو کھیل بکھیڑا کردیا ہے لیکن اب شاید توجہ کا مرکز یہ نکتہ ہے کہ اب یہ ثابت کرنا ہے کہ اس سب بکواس کے باوجود شہر کا باپ اب بھی الطاف حسین ہی ہے ۔۔۔ لیکن اس مکروہ کھیل کو اب یہیں روک دیا جانا چاہیئے کہ اس کے بعد ایک زبردست خانہ جنگی کرانا بھی اسی ایجنٹ کے پلان کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو کہ پاکستان کے پرخچے اڑانے کے ہدف پہ مبنی ہے کیونکہ اس شہر کے امن پہ ہی ملکی معیشت کے استحکام و ترقی کا دار و مدار ہے ،،،اگر موجودہ صورتحال یونہی چلنے دی گئی تو لاریب اس شہر کو ستر کی دہائی کا بیروت بننے سے بچانا مشکل ہوجائے گا کہ جہاں کبھی اس شہر کے مختلف حصے دروز ملیشیا ، امل ملیشیا ، پاولر فرنٹ اور الفتح فرنٹ کی تحویل میں چلے گئے تھے اور یہ سب دھڑے آپس میں برسوں برسر پیکار رہے اورکئی برس چلی ان جھڑپوں میں بالآخر بیروت کھنڈر بن گیا تھا اور لبنانی معیشت نشان عبرت بن گئی تھی ۔۔۔

اس حقیقت کے باوجود کہ کراچی پاکستان کے لیئے ناگزیر ہے ، بدقسمتی سے کراچی کے آشوب کے حوالے سے پاکستان میں نہ تو کسی سیاسی جماعت میں کوئی حقیقی فکرمندی نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی رہنما واقعی سنجیدہ دکھائی دیتا ہے جبکہ کراچی کی تباہی تو پاکستان کی تباہی کے مترادف ہے ۔۔۔ یاد رکھیئے کہ اس وقت کراچی میں متحدہ کے جو گروپ بنے ہوئے ہیں وہ ابھی چند ماہ پہلے تک ایک ہی تھے اور ان سب نے 30 برس سے زائد سے کراچی کو مل جل کے لوٹا کھسوٹا ہے اور ہر سڑک چوراہے کو انسانی لہو سے رنگین کیا ہے لیکن کمال عیاری سے اب یہ دھڑے الگ الگ ہوکے اپنے جرائم کا ملبہ ایک دوسرے پہ ڈال کے وہ دھول اڑا رہے ہیں کہ اس میں سبھی کے گناہ چھپ جائیں لیکن یہ بات رکھیئے کہ جس طرح چور اگر چوری سے چلا بھی جائے تو ہیرا پھیری پھر بھی کبھی نہیں چھوڑتا اسی طرح دہشتگردی کنے والوں کی سرشت اورفطرت کبھی نہیں بدلتی ۔ اس لیئے ان سے کوئی بھی مثبت توقع رکھنا قطعی بیکار ہے- ہمیں اب یہ عہد کرنا ہے کہ ہمیں اپنی گلیوں میں اب کسی بھی تنظیم کے کارکن کے روپ میں نہ تو کسی لفنگے کو برداشت کرنا ہے اور نہ ہی کسی ٹچے سے کوئی ڈکٹیشن لینی ہے اور ملک دشمنی کی بات کرنے والے کا تو منہ ہی توڑ دینا ہے-

میں نے اس شہر کے لٹیروں اور قاتلوں کے دور عروج میں اس مقتل میں کھڑے رہ کر کھل کے انکے خلاف کتنا اور کس قدر لکھا ہے یہ بات سوشل میڈیا کا ہر سنجیدہ فکر قاری جانتا ہے ، اور اب میں سمجھتا ہوں کہ اس شہر کو یونہی بے اماں و بے مہار نہیں چھوڑا جاسکتا ورنہ ایک بدترین خانہ جنگی شروع ہوتے دیر نہیں لگے گی ۔۔۔ اسی لیئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اہل قلم و اہل صحافت کے لیئے اب قلم کے ساتھ ساتھ علم بھی اٹھانے کا وقت آن پہنچا ہے ،،، میں نے اس جذبے کے تحت تعمیر کراچی ، تزئین وطن گروپ بنایا ہے جو ابھی واٹس اپ اور فیسبک پہ متعارف کرایا ہے ( 4240138-0340) اور یوں صحرا میں کھڑے ہوکے آزان دینے اور اہل درد کو پکارنے کی کوششیں شروع کردی ہیں ۔۔۔ آئیئے آگے بڑھیئے اور اس گروپ میں شریک ہوں ۔۔ ہمیں اس گروپ کے عملی پروگراموں کے لیئے اور اپنے پیغام و فکر کو عام کرنے کے لیئے یقینناً کثیر وسائل کی شدید ضرورت ہے اور اگر سنجیدہ و مخلص اہل خیر ہمارا ساتھ دیدیں ( خواہ پوشیدہ یا اعلانیہ ) ، تو حالات کے سنگین دھاروں کا رخ بدلنا ناممکن بھی نہیں ۔۔۔

ہمیں پاکستانیت کی اس جنگ میں مخلص اور درد مندوں کا ساتھ درکار ہے کیونکہ اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ محض ہاتھ پہ ہاتھ دھرکے بیٹھنے اور خالی خولی باتیں بنانے یا محض تنقید و تبصرہ بازی سے یہ حالات کبھی بھی نہیں بدلیں گے ۔۔۔۔ ہمیں اب باہر نکلنا ہوگا اور ملک دشمنوں کے ہاتھوں سے اس شہر کی کمانداری واپس لینی ہوگی اور کراچی کا تشخص بحال کرنا ہوگا اور اسے اسکی پرانی شناخت یعنی ، شرافت ، تہذیب و تمدن اور تعلیم واپس لوٹانے ہونگے اگر اس ہم جدوجہد میں کامیاب ہوسکے تو پھر سرفروشوں کے قافلے کو پورے ملک میں ایک حقیقی انقلاب برپا کرنے سے بھی کوئی نہ روک سکے گا اور پھر ارض وطن کی ترقی میں حائل بہت سے کوہ گراں بھی ٹھوکروں سے اڑائے جاسکتے ہیں ۔۔۔ لیکن اس سارے عمل کی کامیابی کا انحصار صرف اور صرف آپکے بھرپور مخلصانہ تعاون اور قلب کی گہرائیوں سے نکلی دعاؤں پہ ہے ۔۔ وگرنہ اپنےگھر!

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *