پیالی میں طوفان

abbas-nsir

کارپس کمانڈروں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ انہوں نے 6 اکتوبر کے ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے نیشنل سکیورٹی کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ اسی دوران حکومت نے ڈان رپورٹر پر بیرون ملک سفر کی پابندیاں بھی اٹھا لی ہیں۔ چونکہ ایک صحافی کو بیرون ملک آنے جانے کی آزادی واپس مل گئی ہے، یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ ملٹری نے حکومتی اہلکاروں کو اندرونی خبر لیک کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف ملٹری کے بڑے رہنماوں نے ہی سرل المیڈا کی سٹوری پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ حکومت نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت نے سرل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری کیا تھا اور ملٹری قیادت نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں اس پابندی کے حکم سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

میٹنگ کو دنیا بھر کے اخباروں میں ہیڈ لائن نہیں بنایا گیا لیکن سرل کی رپورٹ دنیا بھر میں ہیڈ لائن بنی رہی۔ چونکہ پاکستان میں بہت عرصہ آرمی نے حکومت کی ہے اور سویلین حکومت کے دوران بھی طاقت کا توازن ایک طرف جھکا نظر آتا ہے اس لیے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی ایک عام بات ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ یہ کشیدگی واقع نہ ہونے دی جائے؟ ہر گز نہیں۔ یہ سٹوری ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب ہے اور اس بات پر بحث کی جا رہی ہے کہ نیا آرمی چیف کو ن ہو گا۔ کسی بھی دوسرے ملک میں یہ معاملہ بہت آسانی سے انجام پذیر ہو جاتا لیکن پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ پاکستان میں نیا آرمی چیف منتخب کرنے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔ ضابطہ کے مطابق کسی بھی لیفٹننٹ جنرل کو آرمی چیف بنایا جا سکتا ہے لیکن عام طور پر سب سے سینیر حضرات اس عہدہ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر میرے پاس یہ اختیار ہوتا تو میں سب سے سینیر افسر کو منتخب کرتا ۔ لیکن پاکستان میں تاریخ کو دیکھا جائے تو ہمیشہ سیاسی حکومت ایسے وقت میں خطرہ محسوس کرتی ہے۔ یہ بے چینی مختلف طرح سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس وقت مثال کے طور پر فارین پالیسی کے اندر پائے جانے والے نقائص کی وجہ سے حکومت کو بین الاقوامی دباو کا سامنا ہے۔ آج زیادہ تر ناقدین حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کیونکہ آج تک پاکستان میں کبھی بھی فوج کو احتساب پر مجبور نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے احتجاج کے باوجود حکومت اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش نہیں کر رہی جس کے جواب میں عمران خان نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد بند کروانے کا اعلان کر رکھا ہے جو تب تک جاری رہے گا جب تک نواز شریف استعفی نہیں دیتے۔ حکومت کو 28 اکتوبر کو ہونے والی دفاع پاکستان ریلی نے بھی پریشان کر رکھا ہے۔

اگر حکومت کے پاس ان دو ایونٹ کے لیے کوئی گیم پلان ہوتا اور اسے یقین ہوتا کہ حکومت گرانے کے لیے کوئی اندرونی سازش نہیں ہو گی تو حکومت کا ریسپانس بہت بہتر ہوتا اور رپورٹر پر سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ دوسری طرف اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راحیل شریف کو نظم و ضبط کے معاملے میں سخت اور بہادر جنرل سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کی حکومت کے آخری چند ہفتوں میں ان کےخلاف اس طرح کی رپورٹ کا شائع ہو جاناان کے لیے ایک ناپسندیدہ بات ہے۔ کیا یہ رپورٹ محض ایک لیک رپورٹ تھی یا آرمی چیف کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر رہی تھی؟ یہ لیک آخر آئی کہاں سے؟ چونکہ اس رپورٹ کو بھارت میں بہت پذیرائی ملی اور اسے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا میں شامل کیا گیا وہ بھی ایسے وقت میں جب بھارت کشمیریوں کی جد و جہد کو دبانے میں ناکامی کا سامنا کر رہا ہے اس لیے یہ رپورٹ مزید اہمیت کی حامل ہو گئی ہے۔

یہ امید رکھنی چاہیے کہ ہمارے صحافی صحیح بات کو بیان کریں گے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ملک کی بدنامی ہو۔ جہاں تک اس نقطہ نظر کا تعلق ہے کہ ڈان کی رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کا سہارا لیا گیا اور رپورٹر نے یہ تسلیم کیا کہ خبر دینے والے ذرائع نے آن ریکارڈ نہیں آنا چاہتے تھے ، یہ ایک بین الاقوامی صحافی طریقہ کار ہے۔ کوئی بھی خبر دینے والا یہ حق محفوظ رکھتا ہے کہ اس کا نام عوام کے سامنے نہ لایا جائے۔ یہ ممکن ہے کہ یہ سٹوری اس کیٹیگری میں شامل کیے جانے کے قابل نہ ہو لیکن دنیا بھر میں خفیہ خبریوں کو اپنا نام چھپانے کی اجازت کو قانونی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ قانون حکومتی اداروں کے لیے بھی موثر ہے۔ ہم کہاں ہیں؟ ہم اب بھی اس سبق کو سیکھ نہیں پائے کہ رپورٹر کے خلاف ایکشن لے کر ہم نے اس خبر کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

میٹنگ کو دنیا بھر کے اخباروں میں اتنی اہمیت نہی ملی جتنی اس رپورٹ کو دی گئی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بڑا تنازعہ پیالی میں طوفان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس سے ریاست کے مختلف ادارے یہ سبق سیکھ سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے۔ اس وقت تو یہ واقعہ میرے ایک دوست کی چھٹیوں کا مزا خراب کرنے کا بہانہ ثابت ہو ا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ ہم یہ سیکھ سکیں گے کہ ملک اور اس کی خیر خواہی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہو گا کہ قومی مفاد کیا چیز ہے اور اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ کسی وزیر یا ادارے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات نا قابل یقین ہےکہ پاکستان میں عقل و فہم کا اتنا فقدان پایا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *