احتجاج کی نئی لہر

ایازا میرAyaz Amir

یہ بہت بڑا جلسہ تھا... میرا خیال ہے کہ یہ اکتوبر 2011 کے رجحان ساز جلسے سے بھی بڑا تھا۔کیا شرکا پرجوش تھے؟ یقینی طور پر تھے ، لیکن ان کے جوش و جذبات کا صیحح اندازہ لگانے کے لئے آپ کو ٹی وی کے سامنے نہیں بلکہ جلسے میں موجود ہونے کی ضرورت تھی ۔ یہ خالص لاہوری تھے جو میوزک کی دھن پر مست ہو کر والہانہ انداز میں نیا مشہور ہونے والا نعرہ لگارہے تھے.... ’’گو نواز گو۔ ‘‘
دھرنوں نے کم ازکم قوم کو یہ نعرہ تو دیا۔ آج برق رفتاری سے پھیلنے والا یہ نعرہ زبان ِ زد ِ خاص و عام ہو چکا ہے۔ وزیر ِ اعظم نے اس کی چبھن نیویارک میں بھی محسوس کی جب خاصی بڑی تعداد میں پاکستانیوںنے یواین اسمبلی میں ان کی بے جان تقریر کے بعد نعرے لگائے ۔ اس کی وجہ سے شہزادہ ِ ذی وقار حمزہ شہباز کی بھی خاصی سبکی ہوچکی ۔ ما بدولت الحمرا میں ٹورازم کانفرنس سے خطاب کرنے آئے تھے کہ ناگفتنی تعاقب میں اور پھر بھاگتے ہی بنی۔ بہت سے روایتی سیاسی پنڈت ماضی سے باہر نکل کر ہوا کی چلنے والی موجودہ لہر میں سانس لینے کے لئے تیار نہیں۔ اب عمران اور قادری کی طرف سے چلائی گئی تحاریک صرف انتخاتی دھاندلی یا شریف برادران کی سیاست سے بے دخلی تک ہی محدود نہیں کہ ان کے ذریعے پاکستان میں روا رکھی جانے والی شہنشاہ نما حکمرانوں کی نااہلی اور اس کی وجہ سے پاکستانیوں کی بے چینی صدا بن کر نعرہ زن ہے۔ عوام کا یہ موڈ دھرنوں سے متحرک نہیں ہوا ، یہ جذبات پہلے ہی سینوں میں دفن تھے ، اب انہیں زبان مل گئی ہے۔ سیاسی طور پر ساکن اور جذباتی طور پر غیر متحرک لیکن معاشرے کا ایک بڑا حصہ تشکیل دینے والے طبقوںکو اپنی آواز بلند کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
عمران خان نے ہر کسی کو عزم و استقلال کا درس دے دیا ہے۔ ناممکن دکھائی دینے والی صورت ِحال سے اس نے ایک انقلابی تحریک برپا کردی ۔ جب لوگوں کی ایک کثیر تعداد کچھ چاہتی ہے....جیسا کہ انصاف، ترقی اور ماضی سے چھٹکارا.... اور جب لوگ مل کر بیک زبان ہوکر نعرے لگاتے ہوئے ہوا میں بازو لہراتے ہیں تو یہ منظر قابل ِ دید ہوتا ہے۔ اس کا حقیقی احساس وہاں موجودگی سے ہی آشکار ہوتا ہے ۔ یہ بات اب سیاست کے پیچ وخم سے نکل کر اس میدان میں داخل ہوگئی ہے جہاںداخل ہوتے ہوئے روایتی سوچ کے پر جلتے ہیں۔ ذرااس بات پر دھیان دیں کہ عمران صرف تاریخ دیتے ہیں کہ فلاں دن کراچی یا لاہور میں جلسہ ہوگا اور پھر بغیر کسی کنویسنگ کے،بغیر کسی تیار ی اور لائوڈسپیکروں کے استعمال کے، بغیر میڈیا تشہیر کے، عوام تک پیغام پہنچ جاتا ہے اور وہ لبیک کہتے ہوئے میدان میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب آپ کا پیغام لوگوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہو، جب آپ کی زبان عوام کی ترجمانی کررہی ہو اور جب سیاسی حرکیات کی دنیا سے ماورا ، عوامی جذبات کا پولنگ اسٹیشن فیصلہ سنارہاہو۔
جہاں تک علامہ قادری کا تعلق ہے توگفتار کے غازی طبقے، جو خود کو سیاست پر اتھارٹی سمجھتے ہیں، کے لئے ان کو برداشت کرنا بہت مشکل سہی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ علامہ صاحب اس وقت ملک بھر میں پھیلے ہوئے سامعین کو سیاسی اقدار کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ ایک فطری مقرر ہیں اور سامعین کو گھنٹوں تک سحرزدہ کرسکتے ہیں لیکن اپنے روزانہ کے ٹی وی خطاب کے لئے تیار ہوکر آتے ہیں۔ ان کے پاس ضروری نوٹس اور حوالہ جات موجود ہوتے ہیں۔ شروع میں بہت سے سیاسی مبصرین ان کا مذاق اُڑایا کرتے تھے لیکن قادری صاحب بہت الوالعزم نکلے اور ان کے پیروکار ان سے بھی بڑھ کر.... پنجاب پولیس کا بے جگری سے سامنا کرتے ہوئے وہ تاریخ رقم کرچکے ہیں۔ بے شک لکھاریوں کا ایک گروہ ابھی تک ’’سازش‘‘ کی بو سونگھنے پر تلا ہو اہے تاکہ وہ دھرنے اور احتجاج کی راہوں کا کھوج لگاسکے ، لیکن ان کی قوت ِ شامہ کو معاف کردینا چاہئے۔ مجھے اپنے دوست جاوید ہاشمی کے ساتھ بھی ہمدردی ہے۔ میں جس ہوٹل یا کلب میں لاہور قیام کے دوران ٹھہرتا ہوں، ان کے ویٹرز اور عام ملازمین ان کا نام سنتے ہی ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں۔
اس وقت تک آئی ایس آئی کی کہانیاں مدت ہوئی دم توڑ چکیں کیونکہ تحریک تقویت پکڑرہی ہے اور عمران عوام کے دلوں کو چھو لینے والی باتیںکررہے ہیں۔ آج کسی غیر مرئی ہاتھ کی طرف سے عوامی جذبات کو تحریک دینے کا خدشہ جوشیلے نعروں میں دم توڑ چکا کیونکہ جلسوں میں آتے ہی ’’آمد اور آورد ‘‘ کا فرق سمجھ میں آجاتا ہے۔ شمع کوئی بھی روشن کرے، فرزانگی کی ایک اپنی توانائی اور تابانی ہوتی ہے۔ اس وقت یہ معاملہ اسی نہج پر پہنچ چکا ہے۔ نواز شریف کے حامی کچھ صحافی میڈیا میں بہت ہی مضحکہ خیز کہانیاں لے کرآرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی اعلیٰ قیادت اورپانچ اہم جنرلوں کے ریٹائر ہونے کے بعد نواز شریف کی مشکلات میںکمی آنا شروع ہوجائے گی اور مصائب کے بادل چھٹ جائیںگے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی واقع ہوچکی ، لیکن پی ایم ایل (ن) کی قیادت حسب ِ معمول معاملات کو نہ سمجھنے کی تاریخ دہرارہی ہے۔
کیا خفیہ ادارے اپنی تما م تر صلاحیتوں کے باوجود حکومت کے قلعے لاہورمیں اتنا بڑا ہجوم اکٹھا کرسکتے تھے؟جنرل ضیا نے 1984 میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کیا تھالیکن جب اُس وقت پاکستان کے سفید وسیاہ کا مالک ’’تاریخی کامیابی‘‘ کے بعدٹی وی پر نمودار ہوا تو خود اپنی نظروں میں شرمسار۔ حسنی مبار ک ا سٹائل اپناتے ہوئے جنرل ضیا نے چھیانوے یا ستانوے فیصد ووٹ حاصل کرلئے تھے۔فتح پر خطاب کرتے ہوئے وہ تین یا چار مرتبہ اپنی ناک کوروما ل سے صاف کرتے دیکھے گئے اور ٹی وی اسکرین بتارہی تھی کہ فی الوقت اُنہیں نزلے یا زکام کی مطلق شکایت نہیں تھی۔پی ٹی وی کے پردہ پوش کیمرے بھی اس حرکت کونہ چھپا سکے۔جب جنرل مشرف نے اپریل 2002میں ریفرنڈم کا انعقاد کرایا تو بین ہی یہی صورت ِحال دکھائی دی۔ کتنا مضحکہ خیز تھا کہ ایک حاضر سروس جنرل پگڑی پہن کر فرنٹیر کے علاقوں میں خطاب کررہا تھا اور کبھی گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل خالد مقبول ان کے مینار ِ پاکستان پر ہونے والے ایک جلسے میں جیالوں کی طرح نعرے لگارہے تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان 1968 کے موسم ِخزاں تک سیاسی طور پر بے جان ہوچکے تھے ۔ جب مشرف اپنے عروج پر دکھائی دیتے تھے تو ان کے خلاف وکلا تحریک شروع ہوگئی۔
اس تاریخ سے ہم یہ آگاہی حاصل کرتے ہیں کہ اس وقت شریف برادران کا اقتدار، جسے بمشکل ایک سال پہلے ہی بھاری مینڈیٹ ملا تھا، ا ب تھکا ہوا خستہ حال دکھائی دیتا ہے۔ اگر چہ پی ایم ایل (ن) ایک بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن جب سے یہ بحران شروع ہوا ہے، اس کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں۔ اس کی سانسیں بحال ہوتی دکھائی نہیں دیتیں اور نہ ہی نعروںکے مقابلے میں اس کے حامی اپنی موجودگی کہیں ثابت کرنے کے موڈ میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں لیکن دکھائی یہی دیتا ہے اس وسطی پنجاب،ِ خاص طور پر اس کے سیاسی قلعے لاہورمیں کھیل اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ لوگ گزشتہ تیس سال سے باریاں لینے والے خاندان سے تنگ آچکے ہیں۔ ان کی نظروں میں حکمرانوں کے لئے اکتاہٹ اور تبدیلی کے لئے جذبات کا موجزن دریا کسی خفیہ ادارے کی شہ پر متحرک ہوہی نہیں سکتا۔ عقل اور چالاکی سے کھیلے جانے والے کھیل میں جذبات کی وارفتگی نہیں ہوتی۔ ابھی کل ہی کی بات ہے جب آصف زرداری ایوان میں تھے اور شریف برادران نئے پاکستان کے نعرے لگارہے تھے۔
اس کی فضا پیدا کرتے ہوئے اُنھوںنے 2013 کے انتخابات میں حصہ لیا ۔ تاہم کامیابی کے بعد وہ حقیقت کو بھول گئے کہ عوام کی یادداشت اور مسائل کو سیاسی وابستگی کے ترازو میں تولنے کا زمانہ لد چکا ۔ آج پی ٹی آئی تبدیلی کے نعرے ہی نہیں ٹھوس اشارے دے رہی ہے۔ حالات کے جبر نے پی ایم ایل (ن) کو ادھ موا کردیا ۔گزشتہ اٹھارہ ماہ حکمران جماعت کے لئے بہت بے رحم ثابت ہوئے ہیں۔ ان گزرتے ہوئے ماہ وسال نے شریف برادران کو بے نقاب کردیا ۔آج لاہور میں کرائی جانی والی تعمیرات یاد ِ ماضی کی طرح تکلیف دہ بن چکی ہیں۔ اب جب کہ ایک عہد کا خاتمہ ہونے جارہا ہے، کیا تازہ انتخابات ہوںگے یا کچھ اور ، یہ بتانافی الحال دشوار ہے۔ تاہم جس جمود کا شکار حکومت ِ پاکستان ا سوقت ہے، یہ صورت ِحال بہت دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ سکوت موت کی علامت ہے، اس لئے کچھ نہ کچھ حرکت ضرور ہوگی۔ اب یقینااقبال کی زبان میں....’جہاں ِ نو ہورہا ہے، پیدا ، وہ عالم ِ پیر مر رہاہے۔‘‘وہ عالم ِ پیر جسے روایتی سیاست دانوں نے مرقد مان کر سیاسی قبلہ بنایا ہوا تھا اور وہ اس کے گرد باری باری طواف کو انتخابات کا نام دیتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *