شہزادے اچھی طرح سمجھ لیں

syed arif mustafa ،

16 اکتوبر کو جیسے اس عروس البلاد کی تذلیل کا دن تھا ۔۔۔ کراچی کے پڑھے لکھے شہریوں کے ساتھ جانوروں سے بد تر سلوک ہورہا تھا اور وہ شاہرہ قائدین سے شاہراہ فیصل تک کے طویل رستے پہ جگہ جگہ دھتکارے جارہے تھے کیونکہ ہر جگہ کنٹینروں نے دیواریں کھڑی ہوئی تھیں ۔۔۔ خود پی پی پی کے جیالے و رہنماء اپنے ہی شہدا کے اس یوم شہادت کو ایک مست و رنگین شام رقص و سرود میں تبدیل کرچکے تھے اور اک طرح سے یہ ان شہداء کے سوگ کی بھی شہادت کے مترادف تھا کیونکہ ریلی والے تو عملاً اس سانحے کا مذاق اڑانے کا باعث بنے ہوئے تھے اور اگر کوئی ایرا غیر اسکے دسویں حصے کے برابر بھی ایسی کچھ 'مستی' کرگزرتا تو مار مار کے بھرکس نکال دیا جانا یقینی تھا ۔۔۔ لیکن یہاں تو شہید بھی اپنے 'چنگل' میں تھے اور انکے لواحقین بھی ۔۔۔ لیکن بیچارے بے بس عوام اس طوفان بدتمیزی کا خمیازہ بھگتنے پہ بری طرح مجبور تھے کیونکہ محصور تھے ۔۔۔ یوں ادھر ایک ریلی کنٹیروں کے اس پار جاری تھی کہ جو پیپلز پارٹی کے مست و بیخود شہزادے نکال رہے تھے تو ادھر ، رستہ روکے کھڑے کنٹینروں کے دوسری طرف محصور و لاچار عوام کے لبوں پہ اس جماعت اور اسکے رہنماؤں کے لیئے بدترین مغلظات اور بد دعاؤں کی ریلی بلکہ ریلے جاری تھے ۔۔۔ یہاں سوال یہ ہے کہ عوام کی اس بدترین توہین کا حاصل وصول کیا ہوا ،،، یہی نا کہ حکمرانوں سے اور انکے ہالی موالیوں سے عوام کی نفرت پہلے سے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ۔۔۔ رہی انتظامیہ تو وہ تو ہمیشہ سے عادی ہے اور عوام اور حکمرانوں ، دونوں ہی کے جوتے اور گالیاں کھاکے بھی کبھی بے مزہ نہیں ہوتی
کراچی کے اس طویل رستے پہ دونوں جانب لاکھوں لوگ بستے ہیں اور ہزاروں اس سڑک پہ متحرک رہتے ہیں اور یہ شاہراہ تو گویا شہر کی اعصابی ڈور کی مانند ہے کہ جسکے ایک سرے پہ گورنر اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے 'حرام مغز' موجود ہیں تو دوسرے سرے پہ اشرافیہ کی نکاسی کی نالی یعنی ائرپورٹ موجود ہے لیکن شہزادہ بلاول کی سواری باد بہاری کے گزرنے کی وجہ سے اسے جیل کی بیرکوں کے درمیانی رستے کی مانند کردیا گیا تھا کہ جسکے دونوں جانب بے بس و محصور قیدیوں کے انبوہ کھڑے رہنے پہ مجبور تھے - بلاول نے بھی اپنے نہایت غافلانہ و خود سرانہ طرزعمل سے یہ ثابت کردیا کہ وہ باہر پڑھ لکھ کے بھی نرے جاہل کے جاہل ہی رہے کیونکہ لندن میں طویل عرصے تک انکے قیام اور وہاں کی اعلٰی تعلیم نے بھی انہیں عوام کی اہمیت اور قدرو قیمت سے باخبر نہیں کیا جبکہ وہ بخوبی جانتےہیں کہ مغرب میں عوام کی تکریم و دلجوئی کی ضمن میں وہاں کے حکمران معمولی سی بھی کوتاہی روا رکھنے کی جسارت تک نہیں کرسکتے بلکہ عوام سے ایسا ذلت آمیز سلوک تو بادشاہی نظام والے معاشروں میں بھی روا رکھنے کے زمانے کبھی کے لد گئے ،، لیکن شہزادہ بلاول کی یہ جاہ و حشمت انہی روایات کا تسلسل ہے کہ جو ماضی میں انکے بڑوں کا وطیرہ رہی ہیں اور عوامیت کے نام پہ بدترین فرعونیت جنکی شناخت رہی ہے
میں اس شہر کے باعزت و متمدن شہریوں کی جانب سے پی پی پی قیادت کو واضح الفاظ میں یہ کہ دینا چاہتا ہوں کہ بس کیجیئے بہت ہو چکی اور اب کراچی کے شہریوں کی یوں تذلیل اور توہین کا سلسلہ قطعی طور پہ روک دیجیئے کیونکہ یہاں کے رہنے والے کوئی بے زبان جانور نہیں ، وہ شعور رکھتے ہیں اور اپنی توہین کا بدلہ لینا بخوبی جانتے ہیں ،،، آپکے اسی 'وڈیرانہ' طرز عمل اور نخوت و تکبر کے مظاہروں کی وجہ سے یہ شہر پہلےبھی کبھی آپ کا نہ ہوسکا تھا اوراب 16 اکتوبر کے اس توہین آمیز رویئے کے بعد تو جو تھوڑا بہت امکان تھا وہ بھی باقی نہیں رہا ۔۔۔ شہزادے بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ انہیں اب سنبھلنا ہوگا کہ یہ شہر اب انکے پروٹوکول مزید نہیں جھیل سکتا لہٰذا اب شاہی رتھوں کے گزرنے پہ رستے بند کرڈالنے کی ٹھرک ختم کیجیئے اور رستے کے دونوں طرف کھڑے عوام کی لاچاری کا مزہ لینا بند کیجیئے ،، کیونکہ یہ لوگ اتنے لا چار بھی نہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے ہاتھوں میں پتھر اٹھا لیں ۔۔۔ اور یہ تو واضح ہے کہ جب ابابیلوں کی چونچ میں دبے کنکر ابرہہ کے لشکر کو بھس بنا سکتے ہیں تو یہ پتھر ان کنکروں سے تو بہت زیادہ بڑے ہونگے اور ایسے میں نہ کانچ محل سلامت رہیں گے اور ان کے جھروکوں سے جھانکتے شاہی منہ کیونکہ دونوں کو توڑنے کے لیئے ایک پتھر بھی کافی ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *