بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد

Shahid Sattar

بنگلہ دیش میں ڈھاکہ ہائیکورٹ نے جماعت اسلامی کو جمہوری حق سے روکتے ہوئے اسکے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ۔ عدالت نے الیکشن کمیشن میں جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو بھی غیر قانونی قرار دیدیا ہے ۔ ڈھاکہ ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے جماعت اسلامی کے خلاف یہ فیصلہ ساڑھے چار سال قبل دائر کی گئی درخواست پر سنایا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جماعت اسلامی بنیادی طور پر ایک مذہبی سیاسی جماعت ہے جو بنگلہ دیش کی خودمختاری اور آزادی پر یقین نہیں رکھتی اور اس کی رجسٹریشن آئین کے خلاف ہے ۔ فاضل بینچ کے تین میں سے ایک جج نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔درخواست دہندہ کے وکیل شیخ رفیق الاسلام نے کہا کہ جماعت اسلامی کا منشور 2010ء سے نافذ سیکولر ریاستی آئین کی نفی کرتا ہے کیونکہ اس منشور میں اللہ کی حکمرانی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ وکیل صفائی تاج الاسلام نے موقف اختیار کیاکہ مذہبی نظریات کی حامل سیاسی جماعت کے منشور کی کوئی بھی شق بنگلہ دیشی آئین سے متصادم نہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی تو 28دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی خود بخود اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ فیصلے کے بعد مظا ہروں کے خدشہ پر دارالحکومت سمیت دیگر بڑے شہروں میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے ۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جماعت اسلامی کے 150 کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری ہے جہاں نام نہاد وار کرائم ٹربیونل کے ذریعے جماعت اسلامی کے کئی رہنماؤں کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *