عمران خان کو رشتہ دینے کا فیصلہ ہوگیا؟

naeem-baloch1

ایک صاحب کو اپنے پیارے بیٹے کی شادی کرنی تھی۔ اس نے دوست کی بیٹی سے رشتہ مانگا لیکن اس نے بڑے روکھے پن سے انکار کردیا۔ ان صاحب نے متعلقہ دوست کے احباب سے مشورہ مانگا کہ ان کو کیسے آمادہ کی جائے ؟آخر ایک شخص سے گارنٹی سے اس کا طریقہ بتایا۔ پھر کیا تھا وہ صاحب ضرورت مند تھے ، فوراًان کے گھر پہنچے ،وہ اپنے حویلی میں بھینس کا دودھ دھو رہے تھے !( غور سے پڑھیے ، بھینس ہی لکھا اور یہی مراد ہے، یہ نہ ہو کہ شیخ رشید کا نام آنے پر آپ کسی اور کا دودھ سمجھنے پر مصر ہو جائیں !)خیر ، رشتہ مانگنے والے صاحب نے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ،آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اپنا تلے والا کھسہ اتار ا،اور اس کے سر پر جڑتے ہوئے کہا : ابے گدھے کی اولاد ، دھی کا رشتہ دیتے ہو کہ نہیں ؟اس عزت افزائی سے بے تحاشا متاثرہوتے ہوئے انھوں نے جواب دیا :الو کے کان پہلے اس طرح کیوں نہ بات کی ! چل میری طرف سے ’ہاں‘ ہی سمجھو!تو جناب تازہ ترین خبر ہے کہ بہت ساری کوششوں کے بعد شیخ رشید نے طاہر القادری کے منہ سے عمران خان کے لیے ہاں کہلوا ہی دی ہے !
اب اس ڈیل کے لیے کس گیدڑ سنگی کا استعمال ہوا ، اس کا راز تو بعد میں کھلے گا ، لیکن یقین جانیے ہمیں قادری صاحب کے انکار پر پہلے بھی بہت حیرت تھی اور اس انکار کا یہی مطلب سمجھے تھے، وہ اس مہم جوئی کو گھاٹے کا سوداسمجھتے ہو ں گے ، لیکن اب بھی ہمارے خیال کے مطابق انھوں نے’’ اصولی ہاں ‘‘ کی ہے اور ا س کی کوئی’ تگڑی‘ وجہ بھی ہو گی ۔ کیونکہ جو شخص اپنے چودہ جانثاروں کے خون کا سودا کر کے عین جنگ کے دوران محاذ چھوڑ جائے ، اس سے کچھ بعید نہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس دفعہ بھی گھر آئی بارات کو دولہا کے ساتھ روانہ کرنے سے انکار کر دے کہ پہلے مردانہ سرٹیفکیٹ لاؤ ، اور عمران خان بھی اپنے پٹھان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہیں کہ بھاڑ میں جاؤ ، تم نہیں تو اور سہی ،لیکن یہ تو بعد کی بات ہے ابھی تو آپ ذرا حکومت کا بلڈ پریشر چیک کریں جو خاصا’’ہائی‘‘ ہو گا۔اور ’دھرنا بزنس‘ کے شیئرز بھی خاصے اونچے جا چکے ہوں گے۔ایک رائے یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ سب کچھ ڈراما تھا ، بات پہلے ہی طے ہو چکی تھی لیکن اس کو ماننا اس لیے مشکل ہے کہ اس راز داری کا حکومت کو فائدہ ہی پہنچا ہے نقسان نہیں ،البتہ اب اس خبر کے بعد حکومت کے پاس پہلے سے زیادہ بڑی وجہ ہو گی کہ وہ اسلام آباد میں داخلے پر مکمل پابندی لگا دے کیونکہ دونوں ’ متوقع سمدھیوں ‘‘ کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے ۔ بہر کیف سرِ دست دھرنا شیئرز کا بھاؤ مزید اوپر جائے گا لیکن ہمارے خیال میں قادری صاحب اس دھرنے میں خود کبھی نہیں آئیں گے اور’’ قبلہ پی ٹی آئی اے ٹی ایم‘‘ کو گھر آئی بارات کو واپس بھیجنا بہت مہنگا پڑے گا ! اور اس بد مزگی سے مزید بدمزگیاں جنم لے سکتی ہیں جو عمران خان کی مزعومہ ’’ شیروانی ‘‘ کو داغ دار کر سکتی ہیں۔ مزید یہ کہ اگر ’’ مجاہد کشمیر‘‘ حافظ سعیدصاحب اور باقیاتِ لشکر جھنگوی نے قادری صاحب کو ماضی کی طرح ’’ پادری ‘‘ قرار دے کر اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا تو کیا تخت یا تختے والا عمران خانی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *