ہم تو یہ سمجھے تھے....

author_1339960552(ناصر زیدی)

قارئینِ کرام! ایک مشہورِ زمانہ ضرب المثل شعر ہے

شمع نے آگ رکھی سر پہ قسم کھانے کو

بخدا مَیں نے جلایا نہیں پروانے کو

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مَیں غلطیاں اور غلط بخشیاں پکڑنے کے لئے ہمہ وقت ”نک چیونٹی“ قسم کا کوئی آلہ پکڑے بیٹھا رہتا ہوں اور بڑے اہتمام سے جان بوجھ کر اس قسم کی کاوش کرتا ہوں۔ بخدا! آپ جیسی چاہے قسم لے لیجئے، معاملہ یہ نہیں ہے۔ مَیں تو حسبِ عادت روزانہ اخبارات، رسائل و جرائد اور نئی موصولہ یا خرید کردہ کتب کا مطالعہ کرتا ہوں۔ غلطی خود بخود سامنے آجاتی ہے تو لال پنسل سے نشان زدہ کر دیتا ہوں جیسے:

شعر خود خواہش آں کرد کہ گردو فنِ ما

اکثر اوقات شعر خود خواہش کرتا ہے کہ وہ میرا فن بن جائے۔ اسی طرح غلطی، غلط بخشی اور خصوصاً غلطی ہائے اشعار پکڑ میں آجاتی ہیں۔ مَیں کیا کروں؟ کیسے اس عادت کو یعنی مسلسل مطالعے کی عادت کو ترک کر دوں؟ یا پھر اس طرح مطالعہ کروں کہ کاغذ قلم پاس نہ ہو.... غلطی کو نشان زد ہی نہ کر سکوں۔ کہئے کیا حکم ہے؟

بہرحال! پھر کچھ نئی ادبی وارداتوں، غلطی، غلط بخشی اور غلطی ہائے اشعار کے ساتھ میں حاضرِ خدمت ہوں!

”لِونگ لیجنڈ“ سیاسی و سماجی شخصیت رانا نذرالرحمن نے اپنے مضمون”ہارون رشید افسانہ نویس ہیں“ مطبوعہ روزنامہ ”پاکستان“ لاہور15 جولائی 2013ءمیں ایک مشہور زمانہ شعر نوابزادہ نصر اللہ خان کے حوالے سے درج کیا ہے کہ انہوں نے ہارون رشید کے بارے میں ایک بار کہا تھا:

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانہءہستی

 کچھ اصل ہے، کچھ خواب ہے، کچھ طرز بیاں ہے

متذکرہ شعر میں پہلا مصرع تو درست شکل میں ہے۔ دوسرے میں بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے اور خاصا کام رفو کا نکل آیا ہے۔یہ ضرب المثل شعر دراصل یوں ہے:

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانہءہستی

کچھ خواب ہے، کچھ اصل ہے، کچھ طرزِ ادا ہے

اور یار لوگ یہ گمان نہ کر لیں کہ یہ نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر کا اپنا ذاتی شعر ہے۔ بتاتا چلوں کہ شعر اصغر گونڈوی کا ہے۔

ایک تازہ موصولہ کتاب ”بہت کام رفو کا نکلا“ کے عنوان سے پیشِ نظر ہے۔عنوان پڑھ کر غلام ہمدانی مصحفی کا یہ شعر صحیحو سالم ذہن میں درآتا ہے کہ :

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

کتاب کیا ہے نوید چودھری ایڈیٹر روزنامہ”سٹی 42“ کے اخباری کالموں کا مختصر سا مجموعہ ہے....جسے ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، رﺅف طاہر اور عبداللہ طارق سہیل کی جانب سے تحریری پذیرائی حاصل ہے۔ہم نے فی الحال کتاب پر جستہ جستہ نظر ڈالی ہے۔ایک تعزیتی کالم ”عباس اطہر بے مثال تھے“ پڑھا جس میں صفحہ 139پر احمد فراز کا ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح درج ملا:

ہم نہ ہوں گے تو کسی اور کے چرچے ہوں گے

خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

جبکہ متذکرہ شعر کا پہلا مصرعہ احمد فراز نے ہر گز اس شکل میں نہیں کہا تھا۔ان کا صحیح شعر اس طرح ہے:

ہم نہ ہوتے تو کسی اور کا چرچا ہوتا

خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے

ماہنامہ”کشمیر الیوم“ راولپنڈی کے شمارہ جون 2013ءمیں ایک فاضل مضمون نویس محترمہ مریم جمیلہ (کوٹلی) نے اپنے مضمون ”بادِ بہار“ میں ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح بغیر شاعر کے نام کے شامل اشاعت کیا ہے:

غم سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے غم

مشکلیں مجھ پہ اتنی پڑی کہ آساں ہو گئیں

جبکہ ہر عہد پر غالب، مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ ضرب المثل شعر متذکرہ شکل میں کسی بھی زاویے سے ہر گز درست نہیں۔صحیح شعر یوں ہے:

رنج سے خُوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

روزنامہ”نوائے وقت“لاہور جمعرات 13جون 2013ء”فرنٹ پیج“ کی ایک تفصیلی خبر میں درج ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی فرمائش پر عطا مانیکا نے بھی شعر سنایا۔شعر تھا:

محسن ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا

ہم رہ گئے سارا زمانہ چلا گیا

دوسرے مصرعے کی تحریف شدہ کم مائیگی سے قطع نظر پہلے مصرعے میں تخلص محسن اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ گویا یہ شعر محسن نقوی، محسن بھوپالی یا محسن احسان کا ہوگا،جبکہ تینوں محسنوں کا اس شعر پر کوئی احسان نہیں ۔یہ شعر ہے دراصل شوکت واسطی کا اور بالکل درست یوں ہے:

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا

ہم رہ گئے ، ہمارا زمانہ چلا گیا

روزنامہ ”دنیا“ منگل25 جون2013ءکی اشاعت میں ممتازشاعر، کالم نویس محمد اظہار الحق نے اپنے کالم ”تلخ نوائی“ کے ذیلی عنوان ”اندھیرا کمرہ اور سوئی“ کے تحت ایک مشہورِ زمانہ شعر بغیر شاعر کے نام کے یوں درج کیا ہے:

مَیں نے جو آشیانہ چمن سے اُٹھا لیا

میری بلا سے بوم رہے یا ہمار بسے

جبکہ غلام ہمدانی مصحفی کا یہ ضرب المثل شعر بالکل صحیح اس طرح ہے:

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھا لیا

پھر اس چمن میں بُوم بسے یا ہُما بسے

مشہور بزرگ سیاستدان اور انجمن شہریانِ لاہور کے صدر رانا نذر الرحمن نے اپنی سرگزشت ”صبح کرنا شام کا“ میں ایک دلچسپ حقیقت بیان کی ہے کہ مشہور مسلم لیگی سیاستدان محمد حسین چٹھہ کہا کرتے تھے کہ ”وہ روزانہ اخبارات میں سے اچھے اچھے جملے، اشعار اور بہت سی کام کی باتیں ایک رجسٹر پر نقل کرلیتے ہیں اور پھر بوقت ضرورت اپنی تقریر میں جڑ دیتے ہیں“۔

اس سے معلوم ہوا کہ سیاستدانوں کا مبلغ علم کتابوں کے بجائے محض اخبارات تک محدود ہوتا ہے۔ اگر اخبار میں کوئی شعر یا جملہ غلط سلط رائج ہو جائے تو پھر اسی غلطی کو پھیلانے میں یہ سیاستدان صف اول میں ہوتے ہیں۔ خَیر سے شہبازشریف صاحب نے تو حبیب جالب کو پڑھ رکھا ہے اور عطاءالحق قاسمی کو سن رکھا ہے، اس لئے ان دونوں شعراءکے اشعار اکثر اوقات سنا کر وہ عوام کو محظوظ کرتے رہتے ہیں۔عطاءمانیکا نے البتہ کسی اخبار میں غلط سلط شعر ہوگا،اسی طرح انہوں نے اُگل دیا۔

ڈاکٹر محمد آصف اعوان کی منفرد نوعیت کی ایک عظیم و ضخیم کتاب ”دیدئہ معنی کشا“ کے عنوان سے اظہارسنز لاہور نے بڑے سائز پر، خوبصورت انداز میں شائع کی ہے۔450صفحات پر مشتمل اس تحقیقی کاوش میں کلامِ فیض کے الفاظ، ترکیبات اور اردو محاورات کی مکمل فرہنگ شامل ہے۔کتاب کے صفحہ 436پر ایک مشہور زمانہ بلکہ ضرب المثل شعر کو غالب کا شعر کہہ کر درج کیا گیا ہے:

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!

چھین لے مجھ سے حافظ میرا

اس شعر کے دعویدار راولپنڈی میں مقیم ایک بزرگ شاعر حبیب امروہوی مرحوم بھی تھے جبکہ ہماری تحقیق کے مطابق دراصل یہ شعرپروفیسر اختر انصاری [دہلوی] ”خوں ناب“ والے ) کا ہے.... یہ تفصیلی نام یوں لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایک اختر انصاری ہمارے ہاں حیدرآباد سندھ میں بھی تھے،مگر وہ تھے اختر انصاری اکبر آبادی۔جن کے بارے میں یار لوگوں نے شعر گھڑ رکھا تھا کہ :

ملک جب ہوا تقسیم اپنے ہاتھ کیا آیا

ایک اختر انصاری وہ بھی اکبر آبادی

روزنامہ ”نئی بات“ لاہور پیر 22 جولائی2013ءمیں ایک کالم نویس مشتاق سہیل نے اپنے کالم ”بات سے بات“ کے ذیلی عنوان:

”کرپشن کی بہتی گنگا میں غسل فرمانے والے لیڈر“ میں ایک بہت ہی مشہور شعر ”بقول شخصے“ لکھ کر یوں درج کیا ہے:

ہاتھوں پہ کوئی چھینٹ نہ دامن پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

یہ شعر کسی ”عام شخص“ کا نہیں کہ بقول شخصے لکھا جاتا، بقول شاعر لکھا جاسکتا تھا جبکہ اس شعر کے خالق ڈاکٹر کلیم احمد عاجز مرحوم تھے، صحیح، شکل و صورت میں شعریوں ہے:

دامن پہ کوئی چھینٹ ، نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ماہنامہ ”نخل ڈائجسٹ“ کراچی کے شمارہ جولائی 2013ءمیں ایک مضمون ”لوٹ کے بدھو گھر کو آئے“ شائع ہوا ہے۔فہرست میں مضمون نگار کا نام حسین احمد شیرازی درج ہے ،مگر صفحہ 126پر مضمون کے عنوان کے ساتھ لکھنے والے کا نام ”شیراز حسین“ کردیا گیا ہے، جبکہ درحقیقت یہ مشہور کتاب ”بابو نگر“ کے مصنف حسین احمد شیرازی ہی کا مضمون ہے....!

مضمون میں ایک مشہور زمانہ شعر اس طرح میر تخلص کے ساتھ مقطع بنا کر رقم کیا گیا ہے:

احباب جمع ہیں میر ، حالِ دل کہہ لے!

پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے

جبکہ یہ شعر خدائے سخن میر تقی میر کا مقطع ہر گز نہیں، بلکہ حضرتِ امیر مینائی کا مقطع ہے اور امیر تخلص کے ساتھ صحیح اس طرح ہے:

امیر جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے

پھر التفاتِ دل و دوستاں رہے نہ رہے

معاصر روزنامہ”نوائے وقت“ کے مستقل کالم ”سرِ راہے“ میں فاضل کالم نویس نے ہفتہ 27جولائی 2013ءکی اشاعت میں ایک بہت مشہور شعر اس طرح تحریر کیا ہے:

جھوٹ بولا ہے تو اس پر قائم بھی رہو ظفر

انسان کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے

جبکہ جناب ظفر اقبال کا یہ مقطع صحیح شکل میں یوں ہے:

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر!

آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے

کالم کے آخر میں اپنا ایک شعر قارئین کی نذر :

لفظ اُڑ جائیں تو کاغذ کی حقیقت معلوم

میرے لفظوں کی حرارت سے ہے زندہ کاغذ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *