شیخ رشید کی ڈائری

صابر نذر

Illustration by Sabir Nazar

ڈئیر ڈائری۔۔۔

کل میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جو کچھ عرصہ قبل ترکی میں ہوا وہ پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ ایمپائر نے ہماری اپیل پر انگلی کھڑی کر دی ہے۔ اسلام آباد میں ٹینک کے سامنے لیٹنے کی بجائے میں ٹینک کے اندر لیٹا ہوں۔ عمران یہ ٹینک چلا رہے ہیں  اور وہ کرپشن کے تمام اداروں کو اکھاڑ رہے ہیں   جن میں قومی اسمبلی اور میرج رجسٹرار کے دفاتر بھی شامل ہیں۔

میں نے دیکھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن چکا ہے۔ ہر گھنٹے ملک میں لوڈ شیڈنگ اور مڈٹرم الیکشن  کے لیے ریلیاں نکلتی ہیں۔ میں نے دیکھا کہ پاکستان دنیا کا سپر پاور بن گیا ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ پاکستان کی کرنسی پر میرا فوٹو لگایا گیا ہے۔ ہم امریکہ میں ڈرون اڑا رہے ہیں  اور بش اور اوبامہ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ بلاول میرے پاس آئے اور پوچھا کہ  اپنی والدہ کی میراث بچانے کا کیا مناسب طریقہ ہوگا۔ یہ بھی دریافت کیا کہ  کیا وہ مجھے اپنا لے پالک باپ بنا سکتے ہیں؟  ہم نے  اننگز سے شکست دیتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت لی ہے۔ تب مجھے جگا دیا گیا اور کہا گیا کہ میں عوامی مسلم لیگ کانفرنس کے اختتامی کلمات کہیں۔ یہ خطاب کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ ایک  بہت بڑا ہجوم میری تقریر سن رہا تھا۔ تینوں کرسیوں پر عوام بیٹھے تھے اور ایک کرسی بھی خالی نہیں تھی۔

میں نے اختتامی کلمات میں کہا کہ اگر آرمی یہاں اقتدار میں آ گئی تو  لوگ بانٹیں یا نہ بانٹیں میں مٹھائی ضرور بانٹوں گا۔ میرے جیسے سیاستدانوں کے لیے وزارت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے آزادی کاروان کو کشمیر کی طرف روانہ  کیا ہے تا کہ مودی کے خلاف احتجاج کیا جا سکے  اور اب ہم اس کاروان کو نواز شریف کے خلاف احتجاج کے لیے اسلام آباد روانہ کر دیں گے۔ تاریخوں کے معاملے میں اختلاف نظر آیا۔ مجھے تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور جماعت اسلامی کے رہنماوں کو فون کرنا پڑا ۔ یہ سب رہنما اگست میں نوازشریف کے خلاف ریلیاں نکالنے  پر مصر ہیں ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کن تاریخوں اور جگہوں پر ریلیاں نکالنے کے خواہاں ہیں۔

 مجھے 13 اگست کا ویک اینڈ زیادہ بہتر لگتا تھا کیونکہ آزادی کے جشن کے قریب آزادی کاروان زیادہ مناسب رہے گا۔ عمران نے کہا کہ وہ 7 اگست کو ریلی نکالیں گے۔ وہ ہمیشہ سب سے پہلے نکلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاریخ کا فیصلہ کرنے کے بعد مجھے اعلان کرنا تھا اور پمفلٹ پرنٹ کر کے تقسیم کرنے تھے۔ میں عوامی مسلم لیگ کا چئیر مین ہونے کے ساتھ ساتھ جنرل سیکرٹری، سٹینو گرافر اور یوتھ ونگ لیڈر  بھی ہوں۔ پاکستان کی حقیقی سیاسی جماعت عوامی مسلم لیگ ہی ہے۔ یہ جماعت ہمیشہ مارشل لا کی حمایت میں کھڑی ہوتی ہے۔ اس کا کام جمہوریت کو الیکشن سے بچانا ہے۔ میں نے ہمیشہ دو باتیں کہی ہیں۔ پاکستان میں دھاندلی کے بغیر الیکشن ممکن نہیں ہیں   اور دوسری یہ کہ میں نے اپنے حلقے میں سات بار کامیابی حاصل کی ہے۔

 لوگ چینج کا مطالبہ کر رہے ہیں  اور میں سکوں کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ دھرنا اب پرانی ٹیکنیک بن چکی ہے۔ اب کچھ نیا کرنا ہو گا۔ جیسا میں اکثر کہتا ہوں کہ یہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ آرمی اقتدار میں آئے۔ آپ فرض کریں کہ پاکستان کا بیٹا جسے کے گلے میں سکارف ہو، منہ میں سگار ہو،  عمارت کے اندر بھی دھوپ کا چشمہ پہنتا ہو،  اور پریزیڈنٹ راحیل شریف کی جگہ یونائیٹڈ نیشن  کی اسمبلی سے خطاب کررہا ہو۔ میں نے اتنی عزت کمائی ہے کہ مودی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ کشمیر صرف شیخ رشید کو ہی دے گا۔

لوگ جانتے ہیں کہ شیخ رشید ہمیشہ سچ بولتا ہے  چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ بول رہا ہو۔ میں نے لاکھوں سیاسی پیشین گوئیاں کی ہیں  اور اللہ کے فضل سے سب غلط نکلی ہیں۔ قوم کی رہنمائی میرا فرض ہے۔ میں بے یارو مددگار لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں اسی لیے میں عمران خان کے ساتھ ہوتا ہوں۔ میں اور عمران اکٹھے بیٹھ کر اکثر اپنی جوانی کے دن یاد کرتے ہیں جب ہم دونوں پلئیرز ہوتے تھے۔ عمران خان کرکٹ کھیلتے تھے اور میں بھینسیں چراتا تھا۔ میں نے پورے کیریر میں عمران خان کی کوچنگ کی ہے ۔ بہت سے پہلوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 1992 کا ولڈکپ عمران نے نہیں بلکہ میں نے جیتا تھا۔ لیکن میرے مشورے ہمیشہ صحیح ثابت نہیں ہوتے۔

 عمران خان کو جب دوسری بار طلاق ہوئی تو انہیں معلوم ہوا کہ شادی کے معاملے میں مجھ سے مشورہ نہ کرنا بہتر ہے ۔ میں آج بھی پاکستان کا سب سے بہترین بیچلر ہوں۔ میرا، وینا اور انجلینا جولی تک نے مجھ سےشادی کی خواہش کی ہے۔ وہ مجھے لیڈی کلر کہتی تھیں۔ وہ مجھے سیاست کا وحید مراد کہتی تھیں اور عمران کو میرا شبنم سمجھتی تھیں۔ میں ٹیلیویژن ریٹنگ کا مقناطیس ہوں۔ میں یوفون کی ایڈورٹائزمینٹ سے زیادہ بار ٹی وی پر نظر آتا ہوں۔ میں کسی بھی اینکر کو سٹار بنا سکتا ہوں۔ لوگ ایسے شو کو ضرور دیکھتے ہیں جس میں میں شامل ہوں۔ مجھے نیلسن منڈیلا اور گاندھی جیسے لوگوں سے لائیک ملے ہیں۔ انہوں نے اپنی اموات کے بعد بھی لکھا کہ شیخ رشید ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے  ہمیں قید و بند کی مصیبتوں سے نمٹنا سکھایا۔

 لال حویلی نے  بہت سے فریڈم فائٹرز جن میں میر واعظ عمر فاروق، شی گیوارا اور عمران خان شامل ہیں کو پناہ دی ہے۔ میں ایک سیاسی دوست بنانے والا شخص ہوں۔ میری تصاویر ہر شخص کے ساتھ ہیں جن میں نواز شریف، پرویز مشرف، چوہدری شجاعت  شامل ہیں۔ حال ہی میں نواز شریف نے مجھے اپنی تصاویر سے ٹیگ ختم کر دیا ہے۔ میں نے پچھلے 20 سال سے ہر انٹرویو میں ایک ہی سگار استعمال کیا ہے جو مجھے جنرل مشرف نے گفٹ کیا تھا۔ جب وہ کارگل میں اپنی شکست کا مشاہدہ کر رہے تھے تو ان کے منہ میں بھی یہی سگارتھا۔ ایک دن میں بھی ایسا کروں گا یہ میرا اپنے آپس سے وعدہ ہے۔

آپ کا  حریفانہ دوست

فرزند راولپنڈی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *