لاہوری مہمانوں کی آمد

رابعہ احمد

rabia-ahmed

کبھی کبھار ایسا ہوتا  ہے کہ لکھنے کا بہت دل  چاہتا ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھٹ جانے کا دل  چاہتا ہے جو زیادہ مشکل کام ہے۔ چونکہ ریلی کے لوگ  آج ہی آئے ہیں،  ایک ایسے وقت میں جب میں بہت اچھے موڈ میں فیس بک پر سکریبل گیم کھیل رہی ہوں۔ کبھی آپ نے سکریبل کھیلی ہے؟ یہ مزیدار گیم ہے لیکن تھوڑی آہستہ چلتی ہے۔ میں نے ابھی ابھی 'قی' گیم کھیلی تھی جو ایک چھوٹی گیم ہے اور 30 پوائنٹس تک جاتی ہے۔ میں 22 پوائنٹ پر پہنچ پائی تھی۔ تب میرے آسٹریلین مخالف نے 'ہِک' کھیلی جس سے اسے 18 پوائنٹ ملے ۔

صاف ظاہر ہے یہ اس کے لیے بھی اچھا دن نہیں تھا۔ تب میں نے 'کوئی' شارٹ کھیلی اور اس نے'اکاکاک' کھیلی۔ یہ اس کے الفاظ نہیں تھے۔ یہ تو ریلی کی شہر میں داخلے کی آوازیں تھیں۔ رشتہ دار بہت مزیدار لوگ ہوتے ہیں۔ یہ خاندان کے لوگ ہوتے ہیں جو ایک وقت میں مختلف لوگ بولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ بہت تیز، اونچی اور زیادہ بولتے ہیں۔ ایسے وقت میں آپ ان کو ان کی ہی آواز میں جواب دیں تو یہ بری بات نہیں ہوتی ۔ یہ خاندان کی ایک ایسی برانچ ہوتی ہے جس میں ہر شخص اس بات کو باعث عزت سمجھتا ہے  کہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ  دوسرا زیادہ بیمار 'ILLER'یا کمزور شخص ہے۔

میرے خیال میں 'iller' تو کوئی لفظ بھی نہیں ہے لیکن آپ حالات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مہمان کچھ دیر کے لیے رکتے ہیں لیکن ریلی والے جلدی جان نہیں چھوڑتے۔ وہ آئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ ہیلو ہائے کے بعد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ان میں زیادہ برا کون ہے۔ سب کو شوگر کی بیماری تھی اس لیے کسی کے پاس برینر نہیں تھا۔ لیکن ایک کے پاس  400 لیول کی وجہ سے دوسرے 350 لیول والے پر برتری تھی۔ تیسری عورت نے دن جیت لیا اور جب 30 لیول تک نیچے آئی تو اپنی تکلیف بھی بیان کی۔ انہوں نے اس ماہ کو ناجائز ایڈوانٹیج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرا باوٹ  گوڈے اور گٹے میں فرق کرنے سے متعلق تھا۔ وہاں کل چھ آدمی تھے اس لیے بارہ گوڈے اور اتنے ہی گٹے بنے۔ اگر آپ کراچی کے ہیں تو شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ گوڈا اور گِٹا کیا چیزیں ہیں۔

 مجھے بھی لاہور آنے سے قبل معلوم نہیں تھا۔ دس سال لاہوریوں کے ساتھ گزارنے کے بعد میں نے ان لوگوں کی عزت کرنا سیکھ لیا ہے اور اب میں ان کے ساتھ  کوئی مسئلہ چھیڑنے سے قبل سوچ لیتی ہوں کہ کہیں اپنی درگت نہ بن جائے۔ اس لیے آج بھی میں نے گفتگو شروع نہیں کی۔ یہ تو بس فطری بات تھی کہ میں حال احوال پوچھتی۔ میں نے ابھی بتایا نہیں کہ گوڈے اور گٹے ہوتے کیا ہیں۔ ہر کسی کے گوڈے اور گٹے ہوتے ہیں۔ گوڈے گٹے کو ہمیشہ اکٹھا ہی بولا جاتا ہے اور بیچ میں 'اور' لفظ بھی نہیں استعمال کیا جاتا۔ یہ گھٹنے اور پاون کے نچلے حصے کے پنجابی نام ہیں۔ لیکن لاہور  کے لوگوں کے گوڈے گٹوں کی اپنی ہی زبان ہوتی ہے۔  یہ سرخ ہو جاتے ہیں، سوجھ جاتے ہیں، تکلیف محسوس کرتے ہیں  اور اگر انہیں پراٹھا نہ ملے تو چیخ بھی مارتے ہیں۔ میں مذاق کر رہی تھی ۔

 یہی وجہ ہے کہ لاہوری پیدل چلنے سے گھبراتے ہیں۔ اسی وجہ سے پانچ پانچ ڈاکٹرز انہیں نہ چلنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تکلیف پہلے ہوتی ہے یا چلنا پہلے بند ہوتا ہے۔ میرے کچھ شکوک ہیں لیکن میں انہیں اپنے آپ تک رکھنا پسند کرتی ہوں۔ یہ سب باتیں معلوم کر لینے کے بعد ریلی کے شرکا آرام سے بیٹھ گئے۔ انہوں نے مختلف قسم کے کباب، کیک، سموسے  او ر بسکٹ کھائے۔ ان کے جانے کے بعد ایک دو گھنٹے بیت چکے ہیں  لیکن میں اب بھی سکریبل نہیں کھیل پا رہی لیکن جیسے ہی میں اپنی جگہ سے اٹھی میں نے تراخ کی آواز سنی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *