احتساب

محمد طاہرM tahir

جی ہاں ! احتجاجِ غیر نہیں احتسابِ خویش ہی بقا کا راستہ ہے۔تمدنی عسکری تعلقات کے باب میں بھی یہی صورت موثر ہے۔ جنرل(ر) مشرف کی 12؍ اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت نے پاکستان کو عملاً بدل کر رکھ دیا اور اب ماہِ اکتوبر کو محض اِسی غور وفکر میں صرف کرنا چاہئے کہ امکانات سے آباد ،تمام موسموں کا یہ خوب صورت ملک آخر پھلتا پھولتا کیوں نہیں ؟ اس کی بنیادوں میں بھونچال کس نے بو دیئے اور اب ہمارے پاس آخری راستہ کیا ہے؟ کیا ہم تعصبات کے جوہڑ میں جتھے بندی کے کیڑے بنے رہیں گے یا اپنی سیاہ کاریوں سے پیدا ہونے والے سوالات پر غور کے لئے تیار ہو ں گے؟
سماج ریاست کے مقابلے میں ایک نہایت وسیع تر تصور ہے۔ ریاست کے برتن میں سماج نہیں سماتا بلکہ سماج کے برتن میں ریاستیں سماتی ہیں ۔یہاں فوج کے بارے میں ایک نہایت نظری مغالطہ سیاست اور ریاستی ڈھانچے میں در آیا ہے۔جس کے تحت فوج کو سماج کا محافظ ادارہ سمجھ لیا گیا ہے۔ فوج سماج کا نہیں ریاست کا عضو (Organ)ہوتی ہے۔ اور اُس کی ذمہ داری ریاستی سرحدوں کی حفاظت ہوتی ہے۔ ایک زبردست فکری مغالطے کے نتیجے میں ہمارے ہاں ایک غیر آئینی فقرہ خطرناک طریقے سے رائج ہو گیا ہے کہ ’’فوج ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے۔‘‘ اس فقرے میں نظریاتی سرحدوں سے مراد کیا ہے؟اگر یہ پوچھ لیا جائے تو اس کی کوئی تسلی بخش وضاحت سرے سے نہیں ہو سکے گی۔ فوج کی طرف سے’’ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا کردار ‘‘ تسلیم کر لیا جائے تو یہ جدید ریاستی علم کے برخلاف فکری سطح پر ایک بہت بڑا مغالطہ ہوگا۔ واضح رہے کہ نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا مسئلہ صرف پاکستان کا ہی ہے۔ دنیا کی کسی بھی نظریاتی ریاست میں اور کسی بھی اُسلوبِ حکومت میں فوج کا یہ کردار تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی نظریاتی ریاست میں بھی فوج ریاست کا ادارہ ہے اور نظری کاروبار کا بوجھ تمدنی (سویلین )حکومت اور صیہونی سماج نے اپنے مختلف دیگر اداروں کے ذریعے اُٹھا رکھا ہے۔ صیہونی سماج اپنے نظریاتی مقاصد کو ریاستی سرحدوں میں بھی رکھنے کو تیار نہیں مگر اُس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا بوجھ فوج کے ذمے نہیں ہوتا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی مزید وضاحت ضروری ہے۔
فوج دراصل ایک ’’عیاں قوت‘‘ ہوتی ہے۔کوئی بھی ’’عیاں قوت‘‘تعمیر وتخریب کے محرکات پر مشتمل ہوتی ہے۔قوت صرف مثبت نہیں ہو سکتی یہ اپنے ظاہر وباطن میں منفی عوامل بھی رکھتی ہے۔ لہذا عیاں قوت پر کسی بھی سماجی یہاں تک کہ ریاستی ڈھانچے کی تعمیر بھی خلافِ فطرت ہے۔ یہ معاملہ اُصول کی سطح پر طے شدہ ہے۔سماج تو کیا وہ ریاست بھی اپنی بقا کا جواز کھونے لگتی ہے جہاں قوت سیاسی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار میں مرکزی حیثیت اختیار کر لے۔ایک مضبوط سماج ہی نہیں ریاست میں بھی سوچنے کاکام دماغ کرتا ہے۔ مگر سوچنے کا یہی کام دماغ کے بجائے ہاتھوں کے ہاتھ میں چلا جائے تو ریاست اور سماج دونوں کی ابتری کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔پاکستان اِسی المئے سے دوچار ہے اور چار وناچار ریاست اور سماج کی پوری بُنت وبناوٹ میں عیاں قوت کو مرکزی حیثیت دے چکا ہے۔یہاں عملاً ذہن نہیں ہاتھ حکمران ہیں اور وہی ذہن کے ترجمان بھی ہیں۔ہم اسی لئے ہر معاملے میں ایک نادیدہ ہاتھ کی تلاش میں رہتے ہیں۔بدقسمتی سے جمہوریت کا جیسا تصور جمہور میں قائم ہونا چاہئے اور جمہوریت پر جیسا اعتماد عامتہ الناس میں ہونا چاہئے ، وہ یہاں پنپ ہی نہیں سکا۔ ہمارے یقینوں کے دیوتا مختلف تھے اس لئے ہماری ریاضتِ نیم شب کی صبحیں بھی تیرہ وتار ہی رہیں۔آج ہم اپنے شب وروز کی امتیاز کرتی روشنیوں کو پرکھنے کے بھی قابل نہیں رہے۔ ہماری جیسی راتیں ویسے ہی دن اور جیسا ہاتھ ہے ویسا ہی ذہن بھی ہے۔چنانچہ یہاں ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا تصور ہی نہیں اُس کی نظریاتی سرحدوں کا تصور بھی بدلتا رہتا ہے۔ہم نے ایک بدلی ہوئی دنیا میں ریاست کے لئے خطرات بھی بدل لئے ہیں۔ اب ہمارے بدلے ہوئے تصور میں ریاست کو بیرونی سے زیادہ اندرونی خطرات ہیں۔ ہماری ’’تزویراتی گہرائی‘‘ کا تصور بھی تغیر آشنا ہوچکا ہے۔ اب افغانستان اور بھارت کے حوالے سے ہمارے حب الوطنی کے تصورات بھی اپنامحور کھو چکے ہیں۔یہ سب کچھ ہمیں دستیاب راستوں کے ختم ہونے کے بعد طوعاً وکرھاً اور قوت کے ریاست میں رائج کج رو نمونے کے باعث ہوا ہے۔
پاکستان میں سب سے پہلے’’ قوت کی اکائی ‘‘ریاست کی سیاسی،معاشرتی، اخلاقی اور تہذیبی اقدار میں مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔ظاہر ہے کہ کسی سماج تو درکنار ریاست کے مرکزی دھاروں کو بھی یہ اکائی نہ تو سنبھال سکتی ہے اور نہ ہی اُسے غذا فراہم کر سکتی ہے۔ اور یہ پاکستان کے ساتھ مخصوص نہیں ۔ کسی بھی معاشرے میں یہ کام مکمل طور پر فوج یا اُس کی نمائندہ قوت نہیں کر سکتی۔چنانچہ پاکستان میں بھی یہ نہیں ہوسکا۔ مگر عسکری کردار پرجاری اصرار نے آج پاکستان کا نقشہ یہ بنا دیا ہے کہ یہاں ہر طرح کی طبقہ بندی کی تشکیل طاقت کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ بہت چھوٹی سطح پر لیاری گینگ وار کو لیجئے اور ذرا بڑی سطح پر طالبان کی مثال پیشِ نظر رکھیں۔ سیاست میں بھی اب نظیر ، دلیل، اپیل اور وکیل کے ہتھیار موثر نہیں رہے۔ جو گروہ یا جماعت جس سطح پر بھی منفی طاقت کی جتنی صلاحیت رکھتی ہے وہ ریاست سے اُتنا ہی زیادہ فیض یاب ہونے کے قابل ہے۔تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک اپنی منفی طاقت کی بنیاد پر حکومت کے لئے خطرہ بنے ہیں۔ جب ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر طاقت کی بنیاد پر کھڑا کیا جائے گا تو اُسے جو بھی چیلینج آئے گا وہ طاقت سے ہی مملو ہوگا۔ یہ پورا مضمون ایک بہت ہی سادہ مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ لندن پولیس اپنے ساتھ کبھی بھی بندوق نہیں رکھتی۔ اُس کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہوتا ہے۔ جرائم کے باوجود لندن پولیس کے اس اسلوبِ کار پر ایک نہایت سادہ موقف ہے کہ جب پولیس ہتھیار بند ہو گی تو مجرم بھی مسلح ہوجائے گا۔ ریاست کی پوری ساخت میں بھی یہی چیلنج ہوتا ہے۔ جب ریاست کے معاملات اصولی، قانونی اور اخلاقی بنیاد پر استوار نہیں رہتے اور یہاں طاقت مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہے تو اُسے چیلینج بھی اُسی نوعیت اور حجم کے درپیش رہتے ہیں۔ پاکستان کو یہ مسئلہ درپیش ہے اور ہم ابھی تک اس کا ادراک تک نہیں کر سکے۔
درحقیقت 12؍اکتوبر 1999 کو جنرل مشرف کی طرف سے منظم طاقت کے ذریعے ایک حکومت کی تبدیلی کا عمل ہمیں طاقت کے اس پورے فلسفے پر غور کی دعوت دیتا ہے۔ آخر ہم اپنی ریاست کی تشکیل کیسے کرنا چاہتے ہیں اور سماجی و ریاستی علوم ہماری کیا رہنمائی کر رہے ہیں؟ اگر جتھے بندی کی نفسیات کے بجائے اس پورے عمل کا دیانت داری اور اپنا آج بدلنے کی خواہش کے ساتھ محاکمہ و محاسبہ کیا جائے تو ایک روشن صبح کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ قوت کے اس فلسفے کے عملی تناظر میں اگر تمدنی وعسکری تعلقات کی تہہ داریوں پر غور کیا جائے تو یہ پورا منظر پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔ احتجاجِ غیر کے بجائے احتسابِ خویش کا ارادہ اس مساوات کے تحت اُبھرنے والے بہت سے واقعات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔جس پر مزید غور وفکر اگلی تحریر پر اُٹھا رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *