رائے گلکرسٹ، دنیا کا خطرناک ترین فاسٹ بالر (حمزہ ارشد)

Roy_Gilchrist_300یہ 1959 کی ایک روشن صبح تھی ۔ کیربین سمندر کے نیلے پانیوں سے ٹکراکر آنے والی ہوا ماحول کو مزید خوشگوار بنا رہی تھی جبکہ بہت سے غیر ملکی سیاحوں کی آمدنے ان جزیروں کی رونق کو دوبالا کر دیا تھا۔ بے شک اُ س وقت وہاں ایسی سہولیات نہیں تھیں جیسے آج کل میسر ہیں لیکن یہ علاقہ اپنے قدرتی حسن کی بدولت دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔ اس ماحول میں جبکہ صاف آسمان پر روشن سورج چمک رہا ہو، کرکٹ کھیلنے کا اپنا ہی لطف ہے۔اُس دن مسٹر سینگ(Sang) ، جو کہ ایک اٹھارہ سالہ بے خوف اور جارحانہ انداز میں کھیلنے والا بلے باز تھا، کو ایک میچ میں شرکت کرنی تھی۔ مسٹر سینگ کی ٹیم نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ وہ اننگز اوپن کرنے کے کریز پر آگیا۔ اُس وقت آج کی طرح ہیلمٹ ، آرم ، چیسٹ اور ایلبو گارڈز استعمال نہیں کرنے کا رواج نہیں تھا۔
سینگ ایک نڈر نوجوان تھا لیکن جب اُس نے مخالف ٹیم کے فاسٹ بالر کو دیکھا تو اُس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ فاسٹ بالر کوئی اور نہیں رائے گلکرسٹ تھا جسے اُس وقت ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اُس وقت سپیڈ گن ایجاد نہیں ہوئی تھی، تاہم اُسے اپنے وقت کا تیز ترین بالر سمجھا جاتا تھا۔ جب اُس نے کریز کی طرف بھاگنا شروع کیا تو سینگ کا جسم پسینے میں نہا چکا تھا، تاہم پہلی گیند جو اُس کی طرف آئی وہ اتنی تیز نہیں تھی جتنی وہ توقع کر رہا تھا۔ شاید گلکرسٹ نے پہلی بال جان بوجھ کر آہستہ پھینکی تھی۔ یہ گیند وکٹ پر پڑنے کے بعد تھوڑی سی اندر کی طرف آئی اور وہ اتنی دیر میں اپنے قدموں کو درست پوزیشن میں لا چکا تھا ۔ اُس نے عمدہ بیک لفٹ سے بلے کو گھماتے ہوئے آف سائیڈ پر گیند کو کٹ کیا۔ آؤٹ فیلڈ تیز ہونے کی وجہ سے چشم زدن میں گیند باؤنڈری پار کر گئی۔
چوکا لگانے کے ساتھ ہی اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ مزید تشویش ناک احسا س اُسے قریبی فیلڈرزنے دلایا کہ اُس نے بھڑکیلی طبیعت کے بالر کو پہلی ہی گیند پر چوکا مار کر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال لیا ہے ۔ بہر حال اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا، تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ سینگ نے سوچا کہ وہ وکٹ سے ہٹ کر لیگ امپائر کی طرف چلا جائے تاکہ گلکرسٹ خالی وکٹیں اُڑا کر اُسے آؤٹ کردے۔ دوسری گیند پر وہ وکٹ سے ہٹ گیا لیکن اُسے گیند نظر نہیں آئی۔ کچھ دیر بعد اُس نے دیکھا کہ وکٹ کیپر سائٹ سکرین کے پاس سے گیند کو اٹھا کر لا رہا ہے۔ اُسے بعد میں بتایا گیا کہ وہ گیند وکٹ پر پڑنے کے بعد نہایت تیز ی سے اٹھی اور زمین پر باؤنس ہوئے بغیر سائٹ سکرین سے جا کر ٹکرائی تھی۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں، گلکرسٹ، جس کا قد دیگر ویسٹ انڈین فاسٹ بالرز کی طرح دراز نہیں مگر وہ اپنے غیر معمولی لمبے بازوں کی انتہائی تیز حرکت سے ناقابلِ یقین حد تک تیز گیند بازی کر سکتا تھا اور وہ اسٹریلوی فاسٹ بالر جیف تھامسن کی طرح اُن چند ایک بالرز میں سے تھا جن کی گیندیں کبھی کبھار تیز باؤنس کی وجہ سے وکٹ کیپر کے سر کے اوپر سے گزرتی ہوئی زمین پر پڑے بغیر سائٹ سکرین سے جا ٹکراتی تھیں۔ بہرحال سینگ نے اُس دن جسم کو بچاتے ہوئے بیس کے قریب رنز سکور کیے۔ اس دوران اُس نے خیال رکھا کہ رنز دیگر بالرز کی گیندوں پر سکور کیے جائیں اور یہ کہ کسی کو بھی چوکا لگانے سے گریز کیا جائے۔
آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ صورتِ حال ناقابلِ یقین ہو گی کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ آج کے بلے باز تیز ترین بالرز کی بھی اس طرح پٹائی کردیتے ہیں جیسے وہ ٹینس بال سے کھیل رہے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج حفاظتی سازو سامان نے اُنہیں مہلک چوٹ لگنے سے محفوظ بنا دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ آج کے کرکٹ قوانین جارحانہ بالنگ کرنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ ایک اوور میں دو سے زیادہ باؤنسر نہیں پھینکے جا سکتے جبکہ بیمر (فل ٹاس بال جو بلے باز کے سر کا نشانہ لے کر پھینکی گئی ہو) کو نو بال قرار دے دیا جاتا ہے۔ تاہم نوے کی دھائی تک کرکٹ کے میدان فاسٹ بالرز کی جنت ہوا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مائیکل ہولڈنگ کو ’’موت کی سرگوشی ‘‘ کہا جاتا تھا۔
جمیکا میں پیدا ہونے والے رائے گلکرسٹ کے بارے میں سر گیری سوبرز کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ویزلے ھال اور ڈینس للی کا سامنا کیا ہے لیکن گلکرسٹ اُن سے بھی تیز تھا۔ پاکستان کے عظیم بلے باز حنیف محمد نے تسلیم کیا ہے کہ گلکرسٹ کا سامنا کرتے ہوئے اکثر خوف آتا تھا۔ یاد رہے کہ جب حنیف محمدنے ویسٹ انڈیز کے خلاف337کی زبردست اننگز کھیلی تھی تو اُس ٹیم میں رائے گلکرسٹ بھی شامل تھے۔ برباڈوس مین کنگسٹن کی تیز بچ پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے نو وکٹوں کے نقصان پر 579رنز بناکر پاکستان کو کھیلنے کی دعوت دی تو رائے گلکرسٹ نے چار وکٹیں لیتے ہوئے پاکستانی ٹیم کو 106 پر آؤٹ کرکے فالوآن پر مجبور کر دیا۔ اس اننگز میں سب سے زیادہ سکور 20رنز تھا جو امتیاز احمد نے بنایا تھا۔ حنیف اس اننگز میں سترہ رنز بناکر Atkinson کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے تھے۔ پاکستانی ٹیم پر شکست کے سائے منڈلا رہے تھے مگر پھر فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں حنیف محمد نے 970منٹ تک بہت جرات کے ساتھ برق رفتار بالرز کا مقابلہ کیا۔ اس اننگر کو کرکٹ کے ناقدین اس لیے بھی کھیلی گئی عظیم ترین اننگزمیں شمار کرتے ہیں کہ حنیف محمد کا سامنا سپنرز یا میڈیم پیس بالرز سے نہیں بلکہ رائے گلکرسٹ سے تھا اور اس کی دھشت سے ایک جہاں کانپتا تھا۔
رائے گلکرسٹ نے ویسٹ انڈیز کی طرف سے صرف تیرہ ٹیسٹ میچ کھیلے اور ستاون وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ٹیسٹ کیرئیر طویل ہو سکتا تھا مگر ان کی صلاحتیں ان کی تنک مزاجی کی نذرہوگئیں۔ رائے گلکرسٹ بلے باز کو زخمی کرنے کے لیے بالنگ کریز سے سے آگے آکر نہایت خطرناک انداز میں بیمر پھینکتے تھے۔ امپائر زیادہ سے زیادہ نو بال دے دیتالیکن بلے باز کی جان پر بن جاتی تھی۔ جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 1958-59 میں گیری الیگزینڈر کی قیادت میں بھارت کا دورہ کیا تو گلکرسٹ ٹیم میں شامل تھے لیکن یہ دورہ ان کی ٹیسٹ زندگی کا آخری دورہ ثابت ہوا۔ ہوا یوں کہ سیریز کے چوتھے میچ ،جو ناگ پور میں کھیلا جارہا تھا، بھارتی بلے باز اے جی کرپال سنگھ نے گلکرسٹ کو لگاتار تین چوکے لگادیے اور ان کی طرف کوئی طنزیہ جملہ بھی اچھالا۔ گلکرسٹ نے اگلی بال بالنگ کریز سے چھے میٹر آگے آکر پھینکی۔ یہ کرپال سنگھ کے سر پر لگی اور اُسے زخمی کردیا۔ اگلے میچ میں ، جو کہ نارتھ زون کے خلاف ہو رہا تھا، گلکرسٹ نے سورن جیت سنگھ کو یکے بعد دیگر ے کئی بیمر مارے۔ سورن جیت سنگھ الیگزینڈر کے ساتھ کیمرج میں پڑھ چکے تھے۔ الیگزینڈرنے گلکرسٹ کو وارننگ دی کہ وہ ایسی بالنگ نہ کرے مگر اُنھوں نے ایک نہ سنی اور کریز سے آگے آتے ہوئے ایسی ہی بالنگ کرتے رہے۔ چناچہ لنچ کے وقفے کے دوران الیگزینڈر نے اُنہیں ٹیم سے نکال دیا اور اُسی وقت واپس وطن بھیج دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے پر گلکرسٹ نے اپنے کپتان پر چاقو بھی نکال لیا تھا۔اس کے بعد ویسٹ انڈین ٹیم پاکستان آئی اور سیریز ہار گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر گلکرسٹ ، جو کہ اپنے بھرپور جوبن پر تھے، بھی ٹیم کا حصہ ہوتے تو اس کے نتائج مختلف ہوتے۔
اس کے بعد گلکرسٹ لنکاشائر کی طرف سے کھیلتے رہے لیکن یہاں بھی وہ اپنی غصیلی طبیعت پر قابو نہ پاسکے۔ ایک میچ میں اُنھوں نے سٹمپ اکھاڑکر مخالف بلے باز کے سر پر دے ماری۔ میدان سے باہر بھی وہ ایسا ہی رویہ دکھاتے۔ 1967 میں اُنہیں اپنی بیوی کی پٹائی کرنے پر تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ خطرناک بالر اٹھارہ جولائی 2001 کو اس دنیا سے چلا گیا۔ کرکٹ کے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر وہ اپنے طبیعت پر قابو پا لیتے تو دنیا اُنہیں ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ اور وقار یونس کے درمیان پاتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *