چین نے معروف پاکستانی صحافی کو سی پیک منصوبے کا دشمن قرار دے دیا

55

اسلام آباد - پاک چین اقتصادی راہداری سمیت متعدد اہم منصوبوں کے لئے چین کی جانب سے اربوں ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور ان منصوبوں پر کام بھی غیر معمولی رفتار سے جاری ہے۔ یہ تمام منصوبے اور خصوصاً پاک چین اقتصادی راہداری پاکستان کے لئے بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان اہم منصوبوں اور چینی سرمایہ کاری کے بارے میں کچھ تشویشناک اور حیران کن باتیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ چینی سرمایہ کاری کے بارے میں کچھ خبریں حال ہی میں سامنے آئیں تو بالآخر چینی سفارتخانے کے اہلکار محمد لی ہیان یاﺅ خود حرکت میں آ گئے اور معاملے کی چھان بین کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر نہ صرف ان خبروں کو جھوٹ قرار دیا ہے بلکہ انہیں شائع کرنے صحافی کو بھی عوام کو گمراہ کرنے والا شخص قرار دیا ہے۔مقامی انگیریزی اخبار کے صحافی ظفر بھٹہ کی جانب سے یہ خبر دی گئی کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ کے پاکستانی حصے کی پائپ لائن تعمیر کرنے کے لئے چین اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ چائنہ پٹرولیم پائپ لائن بیورو نامی کمپنی پائپ لائن کی گوادر سے ایران کی سرحد تک تعمیر کے لئے دلچسپی کا اظہار بھی کر چکی ہے۔چینی سفارتخانے کے اہلکار محمد لی ہیان یاﺅ کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعلقہ کمپنی سے چھان بین کی ہے اور انہیں پتہ چلا ہے کہ یہ بے بنیاد خبر ہے۔ انہوں نے ناصرف خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے بلکہ یہ درخواست بھی کی کہ اس نوعیت کے اہم معاملات پر رپورٹنگ سے پہلے حقائق کو ضرور جان لیا جائے۔اسی اخبار نے یہ خبر بھی شائع کی کہ چین نے گوادر کی بندرگاہ پر ایل این جی ٹرمینل بی او پی بنیادوں پر تعمیر کرنے کی پیشکش واپس لے لی ہے اور ای پی سی کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ محمد لی ہئیان یاﺅ کا کہنا ہے کہ انہوںنے اس سلسلے میں بھی متعلقہ چینی کمپنی سے رابطہ کیا اور پتہ چلا کہ یہ خبر بھی بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”یہ وہی رپورٹر ہے جس نے ہمیں چین کی ایران پاکستان پائپ لائن پراجیکٹ میں شمولیت کے معاملے پر گمراہ کیا۔“اسی طرح انہوں نے اخبار دی نیشن میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین خبر کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ چینی کنسورشیم پاکستان میں ایک نئی ائیرلائن لانچ کرے گا۔ محمد لی ہیان یاﺅ کا کہنا ہے کہ یہ خبر بھی درست نہیں ہے کیونکہ چینی کمپنی نے محض ہانگ کانگ اور پاکستان کے درمیان پرواز کے امکانات کا جائزہ لیا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *