اسلامی ریاست کاطرزِ حکومت

Muhammad Asif

(یہ تحریر دو نکات پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے بات کی گئی ہے اور دوسرے حصے میں اس طرف اعادہ کیا گیا ہے کہ ریاست کا طرزِ حکومت کیا ہو)
اس بارے میں قرآن خاموش ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وصلم کی زات میں مدینہ کی نئی ریاست کے امام اور سربراہ کی حیثیت سے مجتہد سیاسی راہنما منصف اور سپہ سالار کےسب کرداروفرائض مجتمع ہوگئے تھے۔
مدینہ میں جس ریاست کی بنیاد ڈالی اس میں سلمانوں کے علاوہ یہودی اعسائی اور کفارقبائل کی بستیاں بھی آباد تھیں۔ریاست کی سالمیت اور آزادی برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ تمام شہریوں میں مساوات قائم کی جائےتا کہ وہ اپنے مشترکہ علاقوں میں دفاع کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرسکیں۔اس ضمن میں ایک میثاقِ مدینہ لکھا گیا جو دنیا کے پہلے تحریری دستوروں میں سے ایک ہے۔
یہ دستور 47 دفعات پر مشتمل ہے۔ پہلی 23 دفعات شہریوں کے باہمی تعلق کے متعلق ہیں جس میں مسلمانو کے حقوق و فرائض شامل ہیں۔ ان دفعات نے مہاجر اور انصار کے درمیان اخوت و بھائی چارے کی فضاپیدا کی۔میثاق کا دوسرا حصہ 24 دفعات پر مشتمل ہے جو یہودیوں اور دوسرے غیر مسلم باشندوں سے مسلمانوں کے تعلقات کو واضح کرتا ہے۔ اس حصے میں ان کو مذہب کی آزادی اور املاک کے تحفظ وغیرہ کی یقین دھانی کرائئ گئی ہے۔ائنی دستاویز کے اس حصے نے غیرمسلمانوں کو امتِ مسلمہ کے منسلک کر دیا۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ مسلمانوں کی قومیت تو مشترکہ روحانی آرزو ہوئی مگر ریاست کی غیر مسلم اقوام کے ساتھ ان کا رشتہ حب الوطنی، انسان دوستی اور مشترکہ علاقے کے دفاع پر ہوتا ہے۔
مدینے کی ریاست وفاقی تھی اور دوسرے قبائل اپنے اپنے علاقوں میں اپنے مذاہب اور رسوم ورواج کی آزادی کے ساتھ رہتے تھے۔
یہ تمام احکامات وقت کی ضرورت تھے اور آپ نے ایک امام، سربراہ اور سیاسی راہنما ہونے کی حیثیت سے ان کو نافذکیا۔ اگرچہ انکی کوئی صورت قرآن میں نہیں ملتی۔
اسی طرح جب ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جن میں قرآنی حکم تو واضح تھا مگرزمینی حقائق مختلف توجہ مانگ رہے تھے، آپ نے ایک تقلیدی امام ہونے کی بجائے مجتہد کا کردار ادا کرتے ہوئے قرآنی حکم کو تعویق میں ڈال دیا اور اجتہادی تصور کو فروغ دیا۔ اخیتارات کا یہ استعمال صوابدیدی اخیتار کہلاتا ہے۔
اسکی ایک مثال صلح حدیبیہ ہے۔جوریاستِ مدینہ کے سربراہ کی حیثیت سے آپکے اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہوئی۔ جس میں آپ کو دوسرے فریق نے تحریری معاہدے میں رسول اللہ لکھنے سے منع کیا اور آپ نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کے باوجود محمد بن عبداللہ لکھوایا۔ گویا صلح حدیبیہ کے وقت آپ نے رسول اللہ کا منصب عارضی طور پر تعویق میں ڈال دیا اور مدینہ کے ریاست کے ایک سیاسی سربراہ ہونے کی حیثیت سے صوابدیدی اخیتار استعمال کیا۔ کیوں کہ یہ اخیتار ریاست اور اس کے شہریوں کے مفاد میں تھا۔۔
فقہ اسلامی ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے اس اختیار کوتسلیم کرتی ہے کہ بوقتِ ضرورت قرآنی حکم کو تعویق میں ڈالا جاسکتا ہے جس کو اصطلاح میں حیلہ کہا جاتا ہے۔
دوسرا حصہ۔
(جز اول) اس میں ہم ریاست کے امام یا سربراہ کے چناو کے طریقے کو دیکھیں گے۔
جمہوری خلافت کا نمونہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحلت مبارک کے وقت فوری طور پر جانشینی کا مسئلہ اٹھ کھڑاہوا۔ ایک بالکل نئی معاشرتی و سیاسی ہئیت کے لیے سیاسی راہنماو سربراہ کی ضرورت آن پڑی تھی۔ آپ جب بھی کبھی شہر سے باہر جاتے تو شہر کے معاملات کی نگرانی کے لیے اپنا قائم مقام مقررکرکے جاتے۔البتہ تاریخ میں سُنی اور شعیہ روایات میں اختلاف ہے۔ لیکن تاریخ یہ کہتی ہے کہ آپ نے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔ ظاہر ہے اگر آپ اپنا جانشین مقرر کرجاتے تو آئیندہ امام یا سربراہ ہمیشہ کے لیے اُسی طریق پر نامزد کیا جاتا اور صرف اور صرف وہی طریقہ اخیتار کیا جاتا جو کہ قطعی غیر مناسب تھا۔ اور ایسا کرنا ریاست کے ارتقاء میں دشواری کی وجہ بنتا۔نبی کریم نے کوئی خاص طریقہ وضح نہ کر کے قرآن کے عین مطابق عمل کیا کیوں کہ اسلام میں سیاسی نظام کا تعلق دنیاوی معاملات سےہے جو ارتقاء پزیر ہوتے رہتے ہیں،سیاسی نظام بذاتِ خود کوئی سیاسی یا مذہبی اہمیت نہیں رکھتا۔ کسی بھی قسم کا سیاسی نظام قابلِ قبول ہے بشرطیکہ اس میں سلام کا قانونی نظام نافذالعمل ہو اور جو مسلمانوں کی عبادات میں حارج نہ ہو۔
قرآن کا بنیادی تعلق صحیح اور غلط یا خیرو شر جیسے اخلاقی معاملات سے ہے، منصوبہ سازی سےنہیں۔۔

پہلے حصے میں یہ عرض کی گئی تھی کہ قرآن کے پیشِ نظر کوئی خاص سیاسی نظام نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی نظام چل سکتا ہے جس میں اخلاقی اقدار اور قانونی نظام نافذالعمل ہو۔
آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانشینی کے حوالے سے خاموشی گویا دانستہ تھی۔ کیوں کہ ایسے فنی نوعیت کے طریقِ کار وضع کرنے کا کام امت کی خوش نیتی اور خوش تدبیری پر چھوڑدیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ طریقِ کار مستقل نوعیت کے نہیں تھےبلکہ ان میں وقتاٰ فوقتاٰ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق امہ کو ترمیم واضافہ کرنا تھا۔ اسلام کا مقصد ایسی باعقیدہ امہ قائم کرنا ہے، جس کا نظامِ حکومت شریعت کے مطابق چلایا جائے۔ چنانچہ شریعت کی متواتر تشریح وتنفیذ کے لیےاجتہادی ثقافت پر مبنی ریاست کے قیام کی ضرورت ہے اور یہ کہ اُمہ کوئی بھی ایسا آئنی نظام یا طرزِحکومت اخیتار کرنے میں آزاد ہے جو اس کی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو۔
ابنِ اسحاق نےآنحضور ٖکی حیاتِ طیبہ پر پوری صحت کے ساتھ لکھا ہے کہ آپؐ کے پہلے جانشین حضرت ابو بکر صدیق کا انتخاب کیسے ہوا۔آپؐ کی رحلت پر مدینے کے مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔مہاجرین،انصار اور بنو ہاشم(آپؐ کے اہلِ بیت کے حامی)مہاجرین کی قیادت حضرت ابوبکر اور عمررضی کررہے تھے، انصار سعد بن عبیدہ کی حمایت میں جبکہ بنو ہاشم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں پرجوش اور سرگرم تھے۔
انصار مدعی تھےکہ السلام کی فوج زیادہ انصارپر مشتمل ہے انھوں نے اسلام کی خدمت اپنے خون سے بجا لائی ہے، اس لیے خلافت کا حق ان کا ہے۔ انصار نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ حکومت کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جائے، جبکہ مہاجرین اتحادِ امہ کے لیے اٹھ کھڑےہوئے۔ حضرت ابوبکر نے اس موقع پر مہاجرین کا تقدم فی الاسلام اور آنحضرت کے ساتھ خاندانی قرابت کی بنیاد پر جانشینی کے حق میں بیان دیا اور فرمایا کہ یہ ابوعبیدہ اور عمر بن الخطاب ہیں۔ ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہے بیعت کر لو۔ یہ سنتے ہی حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا اور فرمایا کہ آپ ہم میں سب سے بزرگ اور رسول اللہ کے سب سے مقرب ہیں، اس لیے ہم آپکے ہاتھ پر بیعت کرتےہیں۔
حضرت ابو بکر نے اپنے آخری ایام میں اکابر صحابہ کوبلایا اور آنے والے خلیفہ کے لیے مشورہ کیا اور اپنی طرف سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کانام دیا۔ لیکن چونکہ نامزدگی کی کوئی قانونی نظیرموجود نہ تھی لہذا یہ محض ایک سفارش تھی۔ تاہم مسلمانوں کو خلیفہ پر مکمل اعتماد تھا، لہذا سفارش پرعمل کیا گیا۔استصواب رائے سے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی نامزدگی منطورہوئی۔
حضرت عمر کی شہادت سے پہلے آپ نے چھ اشخاص کو نامزد کیاجن کی اسلام کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے ہوجائے اسے خلیفہ بنادینا۔ حتی کہ آپ نے فرمایاکہ اگر رائے برابر آجائے تو فیصلہ کن ووٹ عبداللہ بن عمر دیں گے لیکن انھیں خلافت کی امیدواری کا حق نہیں ہوگا۔آپکی وصیت کے مطابق چھ آدمیوں کو نامزدکیاگیامگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔ بعد میں تعداد کو کم کردیا گیا اور جو شخص دوسرے کو اہل سمجھتا ہو وہ اس کے حق میں نام دے کر بیٹھ جائے حتی کہ حضرت علی اور عثمان رضی اللہ کا نام باقی رہ گیا۔ آپ دونوں اشخاص سے الگ الگ دریافت کیا گیا کہ اگر خلیفہ منتخت ہوتےہیں تو ریاستی نظم و نسق کیسے چلائیں گے۔ پھر مسجد نبوی میں ایک موثر تقریر کی اور خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا وقت آیا اور بعض اکابرصحابہ نے حاضرہوکر عرض کیا کہ خلیفہ کا انتخاب ضروری ہے۔ آپ اشارہ سمجھ گئے اور فرمایا مجھے حاجت نہیں، جسے تم منتخب کروگے میں بھی اسے قبول کرلوں گا۔ آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی۔ غرض اکابرین کے اصرار سے مجبور ہوکر امت کے مفاد کے پیشِ نظر آپ نے اسے قبول فرمایا لیکن نجی محفل میں بیعت لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ مسجدِ نبوی میں اجتماع میں آپ کے ہاتھ پر عام مسلمانوں نے بیعت کر لی۔
اس مختصر سے جائزے سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ خلفائے راشدین کے عہد میں تقرری کے مختلف طریقے اختیار کئے گئے۔ان طریقوں کی صراحت نہ تو قرآن میں ملتی ہے اور نہ سُنتِ رسول سے ان کی کوئی شہادت یا سفارش ملتی ہے۔ یہ طریقے خلفائے راشدین نے حسبِ ضرورت وقت کے لیے اخیتارکرلیے۔ خلافت کے امیدوار کا تقرر یا تو انتخاب کے زریعے ہوا یا سابق خلیفہ کی "نامزدگی" سےیا ایک "مجلسِ انتخاب" یا اہلِ مدینہ کے "براہ راست استصواب" سے۔ خواتین کو رائے سے محروم نہیں رکھا گیا مگر انھوں نے خود تقریب میں حصہ نہیں لیا۔ اور
عرب کے اپنے سیاسی اور موروثی طریقہِ انتخاب کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *