مسئلہ عورت ہونا نہیں تها‎

shakeela sher ali

بالکل ابهی جب میں یہ سطور احاطہءتحریر میں لارہی ہوں تو یہ بالآخر واضح ہو چکا ہے کہ"کاخ سفید"(وائٹ ہائوس)کا نیا مکین 'سفید فامیت' کو اجاگر بلکہ ابهار کر اور اسی ایشو پر زیادہ انحصار کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلانے والا ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہے -
یہ نتیجہ آنے کے بعد ہمارے ہاں کئی زاویوں سے اس پر تبصرہ آرائی ہو رہی جو اپنی نوعیت میں ایک مثبت علامت ہے لیکن پهر بهی کچهه تجزیے نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ بے سروپا اس لیئے ہیں کہ انکی بنیاد pre-conceived notions پر ہے(یعنی کسی کے بارے میں آپ نے اپنی نامکمل اور تعصب پر مبنی معلومات کی بنا پر جو ہیولا تشکیل دیا ہو،اسی کو سامنے رکهتے ہوئے بغیر اصل حقائق کو جانچے پرکهے اپنا تجزیہ پیش کر دینا)
مثلا" امریکی صدارتی الیکشن کے اس سارے عمل پر ہمارے اکثر تجزیہ نگاروں نے مندرجہ ذیل عوامل کو سامنے رکهه کر تجزیہ کیا :
(1) : پاکستانی تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی  جبکہ ایک عام امریکی اس حوالے سے الیکشن کے لیئے اپنی تر جیحات طے نہیں کرتا بلکہ اس کے داخلی مسائل اس کے لیئے زیادہ اہم ہیں جیسا کہ ہر جگہ ہوتا ہے اور ووٹرز کے ایک خاص طبقے اور دونوں امیدواروں نے اندرونی تناظر سے ہٹ کر اگر خارجہ پالیسی پر کچهه لب کشائی کی بهی تو اس میں پاکستان کا ذکر کہیں بہت پیچهے تها جبکہ ہمارے ہاں لوگ ہیلری کو شاید اس لیئے بهی زیادہ فوکس کر رہے تهے کہ وہ پاکستان کے لیئے ایک جانا پہچانا اور نسبتا" ذرا سا سوفٹ عامل تها ورنہ تو یہ ہی ہیلری تهیں جو ہمیں ببانگ دہل کہہ گئی تهیں کہ،
"There are snakes in your  backyard" سو اس حولے سے میں نہیں سمجهتی کہ ہیلیری اور ٹرمپ میں کوئی بہت زیادہ فرق ہے
(2) : بہت زیادہ تعجب تو مجهے اس وقت ہوا جب حتمی نتیجہ آنے کے فورا"بعد چند ایک جغادری اور طرم خاں ٹائپ تجزیہ نگار یہ فرماتے نظر آئے کہ امریکی معاشرہ شاید ابهی بهی ایک عورت کے ہاتهه میں زمام اقتدار دینے کو تیار نہیں ہے - میرا خیال اس کے بالکل برعکس ہے - اگر ایسا ہوتا تو امریکی سسٹم ایک عورت کو 19 ماہ کی طویل اور پیچیدہ انتخابی مہم کے پہلے مرحلے پر ہی رد کر دیتا اور برنی سینڈرس ڈیموکریٹس کے نامزد صدارتی امیدوار ہوتے ویسے بهی ہیلری بہت کم ووٹوں کے فرق سے ہاری ہیں -اور ہاں امریکی ایوان نمائندگان میں 108 منتخب خواتین ہیں اور یاد رہے وہاں خواتین کی نشستیں کسی کوٹہ سسٹم کے تحت نہیں ہوتیں -
اب آتے ہیں اصل وجوہات کی طرف جو ٹرمپ کی جیت کا باعث بنیں :
(1) : ٹرمپ نے اصل میں اس وقت سفید فاموں کی جینیئوئن نوجوان نسل کی نبض پہ یا دکهتی رگ پہ ہاتھ رکها جب اس نے یہ کہنا شروع کیا کہ میکسیکو کے هسپانوی نژاد باشندوں،عرب اور ایشین جو زیادہ تر مسلم ہیں،کی بے دهڑک آمد پر قدغن عائد ہونی چاهیئے -اور یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کے سفید فاموں کو اب یہ خطرہ محسوس ہونے لگا ہے کہ امریکی آبادی کا تناسب مستقبل قریب میں الٹ پلٹ نہ ہو جائے یعنی سفید فام اقلیت میں نہ ہو جائیں - ٹرمپ کی کامیابی یہ ہے کہ اس نے لائوڈ مائوتهه کے ساتهه یہ باتیں کہیں جبکہ ہیلری نے وکٹ کے دونوں طرف کهیلنے کی کوشس کی کہ وہ اپنے برائون اور مہاجر ووٹوں کو بهی اپنے سا رکهنا چاہتی تهیں
(2) : دوسرا کاری وار ٹرمپ نے اس وقت کیا جب اس نے ایک عام امریکی کی ان معاشی مشکلات پر دو ٹوک بات کی جن میں اوباما ایڈمنسٹریشن کی پالیسیوں کی بدولت کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ ہیلری کو لوگ تبدیلی کے طور پر نہیں بلکہ اوبامہ کی ایکسٹینشن کے طور پر دیکهه رہے تهے - میرے خیال میں تو اگر ڈیموکریٹس برنی سینڈرس کو نامزد کرتے تو انکی ہیلری کے مقابلے میں جیت کے بہتر مواقع شاید اس لیئے بهی ہوتے کہ سینڈرس ڈیموکریٹ ہوتے ہوئے بهی اوبامہ کی پالیسیئوں میں تسلسل نہیں بلکہ تبدیلی کے حق میں تهے -
(3) : تیسری بات یہ کہ پری پول سرویز میں اگر ٹرمپ کو انکی بہودہ حرکات کیوجہ سے رد کیا جا رہا تها تو ہیلری ایسی کونسی دوددهه کی دهلی اور گنگا نہائی ہوئی تهیں؛ بمشکل تمام ہی وہ اپنے ای میلز سکینڈل سے نکل پائیں وہ بهی پوری طرح نہیں.یہ چیز ظاہر کر رہی ہے کہ امریکہ میں بهی قیادت کا فقدان اور قحط الرجال بدرجہءاتم موجود ہے -
(4) : امریکی ریاستوں کے اپنے اپنے اندرونی و لوکل مسائل نے بهی اپنا کردار ادا کیا ہے- ٹرمپ کی پالیسی ہر ریاست کے حوالے سے الگ اور واضح تهی جبکہ ہیلری نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جیسا کہ بعض ریاستوں میں گن کنٹرول اور ماحولیاتی تحفظ جیسےایشو بہت اہم تهے جنہیں ٹرمپ نے زیادہ صحیح طریق پر ہینڈل و ایڈریس کیا
(5) : اور سب سے بڑهه کر یہ کہ اوبامہ کی ناقص پالیسیوں کا ڈهنڈورا پیٹتے ہوئے،خود اپنے پاس ایک پائیدار حل اور ٹهوس لائحہ عمل کی کمی کو ٹرمپ صاحب نے اپنے بڑبولے پن اور کهری کهری سنا کر چهپایا -اب تو یوں لگتا ہے کہ انکا یہ ڈرامائی انداز ہی انکی فتح کا سبب بن گیا ہے - دیکهیں ناں ساری پیشینگوئیاں اور سارے دعوے/سروے دهرے کے دهرے رہ گئے؛ کہاں تو یہ کہا جا رہا تها کہ
" He is unfit to hold an office which requires immense sense of responsibility,knowledge & vision."
لہذا ٹرمپ کی فتح کو عورت اور مرد کے مابین تعصب کی عینک سے نہیں بلکہ حقائق کی درست جانچ کے حوالے سے دیکها جائے کیونکہ election gimmicks اور realpolitik میں بعدالمشرقین ہوتا ہے -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *