ٹرمپ مخالف مظاہروں میں شدت، لوگ مشتعل صدر ماننے سے انکار

ٹرمپ

واشنگٹن -امریکا کے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ خلاف امریکا کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں مظاہرے جاری ہیںاور سینکڑوں افراد سڑکوں پر ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے کئی شہروں میں عوام ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں، 2روز سے شروع ہونے والے احتجاج کاسلسلہ تاحال جاری ہے اور آج بھی سینکڑوں لوگوں نے امریکی تاریخ کے متناز ع ترین نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دارالحکومت واشنگٹن، نیویارک ، اوکلینڈ ، شکاگو ، لاس انیجیلس ، سان فرانسسکو ، بوسٹن ، برکلے سمیت دیگر شہروں میں شدید نعرے  بازی کی اور ہائی ویز کو بلاک کر دیا۔ٹرمپ

مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے شیلنگ بھی کی گئی اور اب تک 124افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ پیشہ ور مظاہرین ہیں اور انہیں میڈیا نے بھڑکایا ہے۔ نیویارک میں ہزاروں افراد ٹرمپ ٹاور کے گرد جمع ہوئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات رہی، مظاہرین نے وائٹ ہاﺅس کے باہر بھی شدید احتجاج کیا اور ”ہم ٹرمپ کا اپنا صدر نہیں مانتے “ کے نعرے لگائے ۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرمپ کے خلاف نعرے در ج تھے۔ٹرمپ

مظاہرین کی جانب سے نعرے لگائے گئے کہ ’ٹرمپ ان کے صدر نہیں‘ جب کہ مظاہرین نے ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات پر بھی تنقید کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ٹرمپ تارکین وطن کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔ فلا ڈیلفیا میں مظاہرین سٹی ہال کے باہر جمع ہوئے اور ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی، ٹرمپ اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد میں غیرمقبول ہیں۔ واشنگٹن میں سیکٹروں افراد وائٹ ہاﺅس کے باہر جمع ہوئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تارکین وطن کا مخالف اورمتعصب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ سان فرانسسکو میں بھی طلبہ نے احتجاجاً کلاسوں کا بائیکاٹ کردیا اور سڑکوں پر آکر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی نذر آتش کیے :-ٹرمپ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *