محکمہ صحت کا وزیر کہاں ہے؟

Muhammad Umair

پنجاب حکومت اور ڈاکٹرز کا جھگڑا ایک اور بچی دم توڑ گئی اب تک بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث 3 مریض دم توڑ چکے ہیں۔ڈاکٹرز کا احتجاجی دھرنا تیسرے روز میں داخل ہوچکا ہے مگر اب تک کسی حکومت نمائندے کی طرف سے ڈاکٹرز سے مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔محکمہ صحت کے مشیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ غنڈوں سے مذاکرات نہیں ہونگے۔شہریوں کی ہلاکت کے باعث شہر کی مصروف ترین شاہراہ مال روڈ پر تین دن سے ٹریفک جام کا مسئلہ بھی جاری ہے جس سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
2008 جب سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا وجود عمل میں آیا ہے،احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے،پنجاب حکومت 9سال میں ڈاکٹرز کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے،پہلے حکومت کی طرف سے اعتراض کیا جاتا تھا کہ یہ چائنہ اور روس سے پڑھے ہوئے ڈاکٹرز ہیں،جو قابلیت کے معیار پر پورا نہیں اترے اور احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منگواتے ہیں،اس کے بعد کہا گیا کہ ڈاکٹرز کے پیچھے پاکستان مسلم لیگ (ق) ہے جو پنجاب حکومت کے خلاف ڈاکٹرز کے ذریعے سازش کررہی ہے۔احتجاجی ڈاکٹرز کو گرفتار کیا گیا،پاک فوج کے ڈاکٹرز کو ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا مگر مسئلہ حل نہ ہوا اور آخر کار حکومت کو ڈاکٹرز سے مذاکرات کرکے ہی مسئلے کو حل کرنا پڑا۔مگر اس کے بعد ڈاکٹرز کے کیرئیر سٹرکچر اور سینٹرل انڈکشن پالیسی کے باعث بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
کچھ عرصہ قبل میو ہسپتال میں ڈاکٹرز اور مریض کے ورثاء میں جھگڑا ہوا،ڈاکٹرز کی طرف سے مریض کے ساتھ موجود درجن سے زائد افراد پر اعتراض کیا گیا تو مریض کے ورثاء جو ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر کے جاننے والے تھے نرس سے بدتمیزی کی،ڈاکٹرز نے معاملہ سے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر شہریار کو آگاہ کیا۔ڈاکٹر شہریار وائے ڈی اے کے عہدیدار بھی ہیں۔جب ڈاکٹر شہریار سے ان افراد کو بدتمیزی سے منع کیا تو انہوں نے ڈاکٹر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ڈاکٹرز کے اکھٹے ہونے تک یہ افراد ہسپتال سے بھاگ گئے،اگلے روز جب ڈاکٹرز معاملہ کے حوالے سے درخواست لیکر اے ایم ایس کے پاس گئے تو وہی افراد اے ایم ایس کے دفتر میں موجود تھے جس پر ڈاکٹرز مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ان افراد کو مارا پیٹا۔جس کے بعد دونوں پارٹیوں میں صلح ہوگئی اور ہسپتال کی پولیس چوکی میں صلح نامہ طے پاگیا۔

Image result for doctors protest on mall road

صلح نامہ کے بعد اتوار کے روز ڈاکٹر شہریار سمیت دو ڈاکٹرز اور ایک نرس کو اسی لڑائی جھگڑے کے باعث معطل کردیا گیا۔معطلی کا حکم نامہ اتوار کے روز سیکرٹریٹ سے جاری کیا گیا۔ڈاکٹرز کی معطلی کے خلاف ڈاکٹرز نے پہلے میو ہسپتال میں کمیپ لگا کراحتجاج کیا،ڈاکٹرز کا مطالبہ تھا کہ کہ ڈاکٹرز اور نرس کو بحال کیا جائے اور ہسپتال میں ڈاکٹرز کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسا واقعہ رونما نہ ہو،مگر ڈاکٹرز کے احتجاج کا نوٹس نہیں لیا گیا جس پر ڈاکٹرز نے میو ہسپتال میں او پی ڈی بند کردی اور وزیراعلی ہاوس کے باہر دھرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔اس دھرنے کو آج تین روز ہوگئے ہیں مگر حکومت کی طرف سے تاحال ڈاکٹرز سے مذاکرات شروع نہیں کئیے گئے۔
سوال یہ ہے کہ اب ان ڈاکٹرز کے پیچھے کونسی سیاسی پارٹی ہے؟یہ ڈاکٹرز تو کنگ ایڈورڈ سے پڑھے ہیں ان پر چائنہ میڈ ڈاکٹرز کا الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا،تین شہری اس جھگڑے کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔حکومت آخر کتنے افراد کی ہلاکت کے بعد مذاکرات شروع کریں گی؟حکومت معاملات کو اس نوبت تک کیوں آنے دیتی ہے کہ ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہو؟تحریک انصاف،کسان،ڈاکٹرز،ٹیچرز آخر ہر بار احتجاج کرنے والے ہی کیوں غلط ٹھہرائے جاتے ہیں؟ٓآخر وزیراعلی پنجاب آگے بڑھ کر معاملات حل کروانے میں کیوں تاخیر کررہے ہیں،کیونکہ محکمہ صحت کے وزیرتو وہ خود ہیں ذمہ داری تو ان ہی کی بنتی ہے۔شہری اپنے پیاروں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں ڈاکٹرز یا حکومت؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *