معنی

محمد طاہرM tahir

پاکستانی سماج میں چپقلش اور باہمی آویزش نے ہر شے سے اُس کی حقیقت چھین لی ہے۔ الفاظ اپنے معانی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہر شے کا ظاہر ایک دھوکا اور مغالطہ بن گیا ہے۔ چیزیں اپنی اصل تاثیر سے نہیں بلکہ اپنے عمومی تاثر سے پہچانی جانے لگی ہیں۔ شکست اور فتح کے الفاظ بھی اب ایسے ہی ہیں۔ ملتان کے ضمنی انتخابات نے اس مسئلے کو ایک اور طرح سے اُجاگر کر دیا ہے۔کیا جاوید ہاشمی کو شکست اور عامر ڈوگر کو فتح ہوئی؟آخر یہ ضمنی انتخابات کیا تھے؟ کیا یہ کسی کے مستقبل پر ایک حتمی فیصلہ ہے؟ کیا جاوید ہاشمی اب تاریخ میں کھیت رہا؟ خود تاریخ کا سبق کیا ہے؟
سماج میں اُبھرنے والے رجحانات کے حقیقی اداراک کے بجائے سماج کو اپنے خیالات کی تہہ داریوں میں لپیٹتے ہوئے ہمارے بالشتئے دانشور ہر روز اپنے فیصلے سناتے رہتے ہیں۔ کیا ہار جیت انتخابات میں کسی بھی شخصیت کے تعین کا حقیقی معیار ہوتی ہے؟ تاریخ نے اُس کے لئے اپنی بانہیں وارکھی تھی مگر پھر بھی خود ترحمی کے ایک موقع پر چرچل نے کہا تھا کہ
’’مجھے دیکھو! میں تیس سال تک برطانوی دارالعوام کا رکن رہا۔ مملکت کے اعلیٰ
ترین مناصب پر فائز رہا۔اور آج مجھے دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر باہر پھینک دیا
گیا۔ میں راندۂ درگاہ ہوں، ردشدہ ہوں، تنہا چھوڑ دیا گیا ہوں، غیر مقبول ہوں۔‘‘
عروج وزوال کی تاثیر میں تاریخ کو سمجھنے والے اِسی چرچل کو یہ زیباتھا کہ وہ یہ الفاظ بھی کہتا کہ
’’کسی شخص پر تاریخ کے فیصلے کاانحصار اس کی فتح و شکست پر نہیں بلکہ ان
کے نتائج پر ہوتا ہے۔‘‘
جاوید ہاشمی کے باب میں بھی مضمون واحد ہے۔ تاریخ کے ہاتھ میں ہی وہ میزان ہے جو شخصیات کو تولتی ،ٹٹولتی، کھولتی، کھنگالتی ہے۔یہ فیصلہ وہ بالشتیا’’ دانشور ‘‘ نہیں کر سکتا جو نشے میں دھت ٹیلی ویژ ن پر گالیاں بکتا ہے۔ اور جسے ٹیلی ویژن انتظامیہ نظر انداز کرنے کو تیار نہیں۔ سیاست دانوں کو مسترد کرنے کا اختیار تو اِن دانشوروں اور لال بجھکڑ قسم کے ٹیلی ویژن میزبانوں نے خوداپنے ہاتھ میں لے لیا۔مگر اِنہیں مسترد کرنے کا اختیار بھی تو کسی کے پاس ہونا چاہئے۔
یہ درست ہے کہ ہاشمی نے جماعتیں تبدیل کیں اور اس کا ایک اثر ضمنی انتخاب پر بھی پڑا۔ مسلم لیگ نون کے کارکن یہ فراموش کرنے کوتیار نہ ہوئے کہ اُنہوں نے تحریکِ انصاف کا رخ کرنے سے پہلے کارکنوں کے جوڑے ہوئے ہاتھ نظر انداز کر دیئے تھے،تب ہاشمی اُن کے راستے پر لیٹ جانے والے کارکنوں کو پھلانگ کر پی ٹی آئی کی منڈیر پر جابیٹھے تھے۔ پھر تحریکِ انصاف کے کارکنوں نے عامر ڈوگر سے محبت میں کم اور ہاشمی کی نئی بغاوت پر اپنا غصہ زیادہ نکالا۔ تو کیا ہوا؟ کیا یہ تاریخ کا کوئی فیصلہ کن عامل ہوتا ہے۔ آج چرچل کو کتنے لوگ ایک ’’لوٹے‘‘ کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔کیاکسی کو یاد ہے کہ چرچل 1901 میں پہلی بار دارالعوام میں پہنچا تو وہ قدامت پسند پارٹی کا حصہ تھا۔ پھر اُس نے اپنی جماعت کے سرکاری موقف کی مخالفت کرتے ہوئے آزادانہ تجارت کی حمایت شروع کردی اور صرف تین سال بعد 1904 میں ’’فلور کراسنگ‘‘ کرتے ہوئے لبرل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔وہ 1906 میں پہلی لبرل حکومت کی کابینہ میں جگہہ بنانے میں کامیاب ہوا۔یہ 1922 کا سال تھا جب 22 ہی برسوں میں پہلی بار ہوا کہ وہ شکست کھا گیا۔لبرل پارٹی گہنا رہی تھی ۔ تب ایک بار پھر چرچل نے اپنی جماعت بدل لی۔ اور قدامت پارٹی کا دوبارہ حصہ بن گیا۔اور پارلیمنٹ کی رکنیت بھی حاصل کر لی۔یہاں تک کہ اُسے چانسلر تک بنا دیا گیا۔ جو برطانیا میں وزیر اعظم کے بعد سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے۔چرچل کو جب مئی 1940 میں وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش کی گئی تو اُس کی عمر پینسٹھ برس تھی۔
تجزیہ کار کی آنکھیں صرف اتنا ہی دیکھتی ہیں کہ چرچل کو جنگِ عظیم دوم کے بعد عوام نے 1945 میں شکست کا جام تھما دیاکلیمنٹ ایٹلی برطانیا کا اگلا وزیر اعظم بن گیا ۔ اور یوں مغربی دنیا میں جنگ کا یہ مفتخر کردارچرچل گھر چلا گیا۔ مگر مورخ کا فیصلہ مجموعی زندگی کی تمام حرکیات پر محیط ہوتا ہے۔ کیا اس شکست کے بعد چرچل گھر بیٹھ گیا تھا؟ سیاست کا اپنا ایک فیصلہ ہوتا ہے اور وہ بدلتا رہتا ہے۔ بالشت بھر کے نشئی تجزیہ کاروں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیجئے۔ چرچل پھر اُبھرا ۔قدامت پسند اکتوبر 1951 میں پھر اقتدار میں پلٹ آئے۔ چھ برس تک قائدِ حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرنے والا چرچل ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان تھا۔تب چرچل کی عمر چِھَہتَّر(76)بر س تھی۔کیا تاریخ کا حتمی فیصلہ کسی کو معلوم ہے ۔ چرچل کو عوام بھی گھر نہیں بھیج سکے تھے ۔ وہ سیاست میں گرتا سنبھلتا رہا ۔ اُس نے کبھی بھی جلد بازی کا مظاہر ہ نہیں کیا اور کسی بھی ہار کو اپنی سیاسی زندگی کا خاتمہ نہیں سمجھا ۔ چنانچہ اپریل 1955 میں اَسّی (80)برس کی عمر میں چرچل نے خود وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دیا۔
جاوید ہاشمی کی بھی اپنی سیاسی زندگی ہے۔ اُٹھا پٹخ ہے۔ ہار جیت ہے۔ گرناسنبھلنا ہے۔ ابھی اُن کی مجموعی زندگی پر ایک حتمی فیصلہ آنا ہے۔ وہ بھی کسی کامیاب سیاست دان کی طرح ایک انتخابی سیاست کی تاریخ رکھتے ہیں۔وہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں ملتان کے حلقہ 114 سے رکن منتخب ہوئے تھے۔ اُن کے پاس 1988 کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کا ٹکٹ تھا مگر ناکام رہے تھے۔ مگر 1990 کے انتخابات میں وہ پھر اُبھر ے اور نہ صرف ملتان سے ظفریاب ہوئے بلکہ وفاقی کابینہ کا حصہ بھی بن گئے۔ملتان میں 1993 کے انتخابات میں اُنہیں شکست ہوئی تھی مگر اُسی انتخاب میں وہ لاہور سے نون لیگ کی ٹکٹ پر کامیاب رہے تھے۔اور 1997 کے انتخابات میں تو وہ لاہور اور ملتان کے دونوں ہی حلقوں سے کامیاب رہے تھے۔2002 کے انتخابات میں بھی وہ 1993 کی طرح ملتان سے ناکام مگر لاہور سے کامیاب رہے۔جب کہ 2008 کے انتخابات میں ہاشمی چار حلقوں سے امیدوار تھے۔ اُنہوں نے تب پنڈی، لاہور اور ملتان کے اسی شہری حلقے 149 سے کامیابی پائی تھی۔ البتہ وہ ملتان کے ہی ایک دوسرے حلقے 148 سے ناکام ہو ئے تھے۔وہ موجودہ اسمبلی میں جس حلقے سے تحریکِ انصاف کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اپنے جائز اختلافات کے باعث اُس نشست کو چھوڑ کر اپنے حلقے کے عوام کے پاس پہنچ گئے ۔ اب اہم بات یہ نہیں ہے کہ حلقے کے عوام نے کیا فیصلہ دیا۔ اہم بات یہ ہے کہ جاوید ہاشمی نے کیا فیصلہ کیا؟ کیا ہماری سیاسی ثقافت میں کوئی اپنے موقف کے لئے اس طرح کے فیصلے کرتا ہے؟ کیا تحریکِ انصاف پارلیمنٹ سے نکلنے کے جس ’’اُصولی‘‘ فیصلے کا اعلان کر چکی ہے، اُسے پورا کرنے کے عملی تقاضوں کو خوش دلی سے پورا کرنے کے لئے تیار دکھائی دیتی ہے؟ اہم بات یہ نہیں کہ کوئی اپنے اُصولی فیصلوں کی کیا جزا پاتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کوئی اپنے فیصلوں کی کتنی قیمت دینے کے لئے تیار رہتا ہے؟ جاوید ہاشمی نظری طور پر اس امتحان میں کامیاب رہے ۔ چنانچہ ملتان کا ضمنی انتخاب اُن کی سیاست کا فیصلہ کن موڑ نہیں۔ وہ نہ اس ہار سے ہارے ہیں اور نہ اس جیت سے جیت پاتے۔ اُن کی ہار اور جیت کا حتمی فیصلہ تاریخ کی میزان پر ہو گا۔ تب تک نشئی تجزیہ کاروں کو ٹی وی کے جگمگاتے پردوں پر گالیاں دینے دیجئے۔
مگر ٹہر جایئے! اور سیاست کا ایک اور نتیجہ اٹھارویں صدی کے فرانسیسی بشپ اور سیاست دان ٹیلی رینڈ کی زبان سے بھی سن لیجئے۔
’’جنگ میں تو آدمی کا ایک بار ہی خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن سیاست میں آدمی
دوبارہ جی اُٹھنے کے لئے مرتا ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *