اسلامی طرز تعمیر۔۔۔ مسجد قرطبہ سے مسجد نیوجیہ تک

MHTمستنصر حسین تارڑ

آرکیالوجی اور فن تعمیر میرے شروع سے ہی بے حد پسندیدہ موضوع رہے ہیں اور یہ دلچسپی کسی حد تک خاندانی اس لئے ہو گئی کہ میرے دونوں بیٹوں نے آرکی ٹیکچر یا فن تعمیر میں ڈگریاں حاصل کیں بلکہ چھوٹے بیٹے سمیر کو نیشنل کالج آرٹس کی جانب سے ’’بھائی رام سنگھ ایوارڈ‘‘ دیا گیا جو اس شعبے کے طلبا کے لئے بلند ترین ایوارڈ ہے۔۔۔ یاد رہے کہ بھائی رام سنگھ نے لاہور کی بیشتر تاریخی عمارتوں۔۔۔ ایچی سن کالج، جی پی او، عجائب گھر وغیرہ کو ڈیزائن کیا بلکہ ملکہ وکٹوریہ کے لئے انگلستان کے شہر برائٹن میں ایک پیولین تعمیر کیا۔۔۔ کبھی کبھار کسی سرکاری یا مذہبی عمارت کی تعمیر کے دوران بحث چھڑ جاتی ہے کہ آیا اس کا فن تعمیر اسلامی ہے یا نہیں۔۔۔ فن تعمیر کے بارے میں میرا علم خاصا محدود ہے لیکن ذاتی مشاہدہ میرا مددگار ثابت ہو کر مجھے ایک نتیجے پر پہنچاتا ہے۔۔۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کل عالم کے لئے اسلام موزوں ترین مذہب ہے، یہ محدود نہیں لامحدود ہے اسی طور اس کا فن تعمیر بھی محدود نہیں لامحدود ہے۔۔۔ دیگر مذاہب اور تہذیبوں پر کسی ایک خطے کی آب و ہوا اور ثقافت کی چھاپ ہے اور ان کا فن تعمیر بھی اس کی نمائندگی کرتا ہے جب کہ اسلامی طرز تعمیر دنیاکے ہر خطے میں اُس کی آب و ہوا، طرز زندگی اور ثقافت کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے رہائش اور عبادت کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے چنانچہ کسی ایک طرز تعمیر پر چھاپ نہیں لگائی جا سکتی کہ صرف یہی اسلام کی نمائندگی کرتا ہے، علاوہ ازیں وقت گزرنے سے اس میں مختلف جمالیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔۔۔ مثلاً اسلام کی ابتدائی تاریخ میں مسجد کے ساتھ مینار کا کوئی تصور نہ تھا۔۔۔ مسجد نبوی کا کوئی مینار نہ تھا، پھر ایک سو برس بعد خلیفہ مالک نے اس کی عمارت میں میناروں کا اضافہ کیا۔۔۔ میناروں کی تعداد بھی مسجد کے ڈیزائن اور مقامی رواج کے مطابق ایک سے لے کر سات تک ہو سکتی ہے جو کہ مسجد الحرام کے میناروں کی تعداد ہے۔۔۔ یہ پہلے چھ تھے لیکن ترکوں نے ایک اور مینار کا اضافہ کیوں کیا، اس کی تفصیل کسی اور کالم میں بیان کروں گا۔ ترکی کی مساجد کی خوش نظری اور زیبائش کا دنیا بھر میں کوئی اور ثانی نہیں ہے لیکن یہ طرز تعمیر بھی آیا صوفیہ کے عظیم کلیسا سے مستعار لیا گیا سوائے اس فرق کے کہ ان کے ہمراہ مینار تعمیر کر دیئے گئے۔ اس لئے کہ یہ طرز تعمیر ہی ترکی کے موسموں اور قدیم ثقافتی رویوں کے لئے موزوں ترین تھا۔۔۔ یعنی جہاں جہاں اسلام کا پیغام پہنچا وہاں کے طرز تعمیر کو معمولی ردوبدل کے ساتھ اپنا لیا گیا۔ مثلاً چین کی سب سے قدیم ساڑھے چھ سو برس پرانی بیجنگ کی مسجد نوجیہ ہماری آنکھوں کو ایک بدھ مندر کی عمارت نظر آتی ہے، یہاں تک کہ اس کی ڈھلوان سُرخ چھت کے چاروں کناروں پر اژدھوں، عفریتوں اور جانوروں کے مجسمے نصب ہیں۔۔۔ مسجد کے اندرون میں دیواروں پر جو آیات قرآنی نقش ہیں وہ چینی خطاطی کے شاہکار ہیں، اس مسجد کا کوئی مینار نہیں، صرف صحن میں ایک پستہ قد چوکور تعمیر ہے جہاں اذان دی جاتی ہے۔۔۔ بلکہ وہاں چینی مترجم سے ایک دلچسپ گفتگو ہوئی، ادیبوں کا وفد تھا تو کسی باریش ادیب نے اعتراض کیا کہ آپ نے ایک مسجد کی چھت کے کناروں پر عجیب و غریب مجسمے کیوں نصب کر رکھے ہیں تو مترجم نے کہا کہ ہمیشہ پاکستانی دوست یہ اعتراض کرتے ہیں، ایک تو یہ مجسمے آج سے ساڑھے چھ سو برس پیشتر یہاں ایستادہ کئے گئے تھے اور ہمارے ہاں رواج ہے کہ ہم کسی عمارت کو بلاؤں اور آفتوں سے محفوظ کرنے کے لئے ایسے مجسمے نصب کرتے ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ درست لیکن بھئی یہ تو ایک مسجد ہے تو مترجم کہنے لگا کہ ایک مسجد کو تو ہر صورت بلاؤں سے بچاناچاہئے۔۔۔ ویسے یہ مسجد ہمارا مذہب ہے اور یہ مجسمے ہماری ثقافت ہیں۔۔۔ اب چینیوں سے کون بحث کرتا۔
اس نوعیت کا ایک تجربہ مجھے نانگا پربت کے دامن میں واقع گاؤں ترشنگ میں ہوا جہاں ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان میں ہمیں ایک پگوڈا نما عمارت نظر آئی، معلوم ہوا کہ مسجد ہے۔۔۔ یہ لداخ کی قربت کے آثار تھے اور وہاں میں نے اور سمیر نے جو نفل ادا کئے ان کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ میں کسی کالم میں مسجد نبوی کے بعد عالم اسلام کی سب سے بڑی مسجد جامع اُمیہ دمشق کا تذکرہ کر چکا ہوں جو عیسائی دنیا کا ایک اہم کلیسا ہوا کرتی تھی اور جب حضرت عمر فاروقؓ نے ادائیگی کر کے اسے حاصل کیا تو اسے دوبارہ تعمیر نہیں کیا۔ کلیسا کی اُس عمارت کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔۔۔ اور ہاں جامع اُمیہ میں ایک اور کانوں کوبھلی لگنے والی روایت کا تجربہ ہوا۔۔۔ ایک تو مؤذن کسی ایک مقام پر کھڑے ہو کر اذان نہیں دیتے۔۔۔ پوزیشن بدل کر چلتے ہوئے چاروں سمتوں میں اذان بلند کرتے ہیں، علاوہ ازیں وہاں کورس میں اذان دی جاتی ہے۔۔۔ یعنی مؤذن کے پیچھے چوغے پہنے کچھ لوگ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور وہ اذان دوہراتے چلے جاتے ہیں۔
مسجد قرطبہ کے بارے میں نہایت تفصیل سے اس کی تاریخ اور فن تعمیر کے حوالے سے میں اپنے سفرنامے ’’اُندلس میں اجنبی‘‘ میں آج سے چالیس برس پیشتر لکھ چکا ہوں۔۔۔ شام کے صحراؤں میں ایک ہجوم نخیل۔۔۔ یہ مسجد سینکڑوں قدیم ستونوں پر قائم ہے۔۔۔ اور یہ سب ستون ایک ہی قامت کے اس لئے نہیں ہیں کہ انہیں قدیم کھنڈر ہو چکے رومی اور یونانی معبدوں سے لایا گیا۔۔۔ چنانچہ انہیں توازن میں رکھنے کے لئے ان کے اوپر قوس دار محرابیں تشکیل دی گئیں۔۔۔ ان محرابوں کی تشکیل نو آپ مسجد نبوی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس مسجد کا بھی کوئی مینار نہیں۔ جسے علامہ اقبال نے حضرت جبرائیل کے مینار بلند کے طور پر اپنی شہرہ آفاق نظم میں بیان کیا ہے وہ دراصل اس مسجد کے داخلے کا مینار ہے جس کے بعد آپ ’’صحن نارنجستان‘‘ میں داخل ہوتے ہیں اور پھر اُسے پار کر کے مسجد قرطبہ کے پرُفسوں سکوت میں اترتے ہیں۔
ہمارے ہاں برصغیر میں جتنی مساجد تعمیر کی گئیں وہ سب کھلے اور وسیع صحنوں والی تھیں تاکہ نمازی کھلی فضا میں نماز ادا کر سکیں اور یہاں بھی آپ دیکھئے کہ بادشاہی مسجد کے گنبدوں پر جو سنہری آرائش ہے اُس کی صورت ایک کلس کی سی ہے بلکہ ایک سٹوپا کی جو سات منزلیں ہوتی ہیں اُس سے مشابہ ہے۔۔۔ مقامی ثقافت اگر وہ آپ کے عقیدے سے متصادم نہیں ہوتی اُسے طرز تعمیر میں اپنا لینے میں کچھ حرج نہیں سمجھا گیا۔ جب کہ ایران کے گنبدوں پر اس نوعیت کی کوئی سنہری کلغی نہیں ہے۔
امریکہ، کینیڈا اور خاص طور پر انگلستان میں مسلمانوں نے کئی کلیسا حاصل کئے اور انہیں مسجد میں بدل دیا بغیر کسی ردوبدل کے۔
غرض کہ اسلام ایک آفاقی دین ہے اور اس میں طرز تعمیر اور عبادت گاہ کی شکل کی کوئی قید نہیں، آپ کی جبین نیاز میں مسجد کی تڑپ ہو تو آپ جہاں جھک جائیں، جہاں سجدہ ریز ہو جائیں بس وہی مسجد ہے، بس وہی لامحدود آفاق ہے جو کہ اسلام ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *