گردے کی پتھری بغیر آپریشن ایسے بھی نکل سکتی ہے، آپ کو یقین نہیں آئے گا

rollar

اگر آپ کے گردے میں چھوٹی پتھریاں ہیں تو رولر کوسٹر کی سواری کیجئے؛ یہ پتھریاں ایک ایک کرکے خود بخود نکل جائیں گی۔
یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں امراضِ گردہ کے ماہر، ڈاکٹر ڈیوڈ وارٹنگر کی تازہ دریافت ہے جس کی تفصیلات گزشتہ دنوں انہوں نے ’’جرنل آف دی امریکن آسٹیوپیتھک ایسوسی ایشن‘‘ میں شائع کروائی ہیں۔ البتہ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ طریقہ گردے کی صرف چھوٹی پتھریوں کے علاج ہی میں مؤثر ہے اور اسے گردے کی بڑی پتھریوں کےلئے ہرگز نہ آزمایا جائے۔ علاوہ ازیں اگر آپ بلڈ پریشر یا دل کے مریض ہیں تب بھی آپ کو یہ طریقہ آزمانے سے باز رہنا چاہئے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ درمیانی شدت (اوسط رفتار) والی رولر کوسٹر پر دس سے بیس مرتبہ سواری کرنے کے نتیجے میں گردے کی چھوٹی پتھریاں خارج کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔

بتاتے چلیں کہ ’’رولر کوسٹر‘‘ چکردار پٹریوں کی شکل والے جھولے ہوتے ہیں جن پر ریل گاڑی کے ڈبوں جیسی، پہیوں والی نشستیں ہوتی ہیں۔ لوگوں کے بیٹھ جانے کے بعد یہ ڈبے تیزی سے چکر دار پٹریوں پر چلنا شروع کردیتے ہیں جس میں مزا تو آتا ہے لیکن پیچ در پیچ پٹریوں پر بار بار چکر کھانے کی وجہ سے جسم پر دباؤ بھی بہت زیادہ پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلڈ پریشر یا دل کے مریضوں کو رولر کوسٹر پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
وارٹنگر کا کہنا ہے کہ رولر کوسٹر کی سواری سے گردوں کی پتھری خارج ہونے والی بات انہیں اپنے ایک مریض سے پتا چلی جس کی تصدیق کےلئے وہ سلیکون (silicone) سے بنے ہوئے گردے کا ماڈل لے کر خود ہی رولر کوسٹر پر سوار ہوگئے۔ اس میں بھی تین چھوٹی مصنوعی پتھریاں رکھی گئی تھیں جیسے کسی اصلی اور قدرتی گردے میں ہوتی ہیں۔
ایک ہی رولر کوسٹر میں بیس مرتبہ سواری کرنے کے بعد ثابت ہوگیا کہ ان کے مریض کا خیال درست تھا کیونکہ گردے کے ماڈل سے وہ پتھریاں ایک ایک کرکے خارج ہوگئی تھیں۔
اس کے باوجود وارٹنگر صاحب نے خبردار کیا ہے کہ اس تدبیر کو صرف وہی لوگ آزمائیں جو اوّل تو بلڈ پریشر یا دل کے مریض نہ ہوں؛ اور دوسرے یہ کہ انہیں گردے میں چھوٹی پتھریوں کی شکایت ہو۔ بڑی پتھریوں کےلئے یہ طریقہ کسی طور پر مناسب نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *