شادی کا خبط

ایازا میرAyaz Amir

ہماری قانون سازی کی تاریخ میں جو واحد ترقی پسندانہ اقدام دیکھنے میں آیا وہ ایوب خان کے دور ، 1963ء ، میں بننے والے عائلی قوانین تھے۔ ایسا نہیں کہ ان سے خواتین کی زندگی میں کوئی انقلابی تبدیلی آگئی لیکن کسی حد تک آدمی کی طرف سے طلاق دینے اور ایک سے زائد شادیاںکرنے کے راستے میںکوئی رکاوٹ ضرور دیکھنے میں آئی۔ طلاق کو موثر کرنے کے لئے آدمی کے لئے ضروری تھا کہ وہ متعلقہ یونین کونسل کو آگاہ کرنے کے علاوہ تین ماہ تک انتظار کرے۔ اس دوران فریقین کو موقع دیا جاتا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو صلح کرلیں۔ ایسی صورت میں دی گئی طلاق غیر موثر ہوجاتی۔ ان قوانین کے ذریعے آدمی سے طلاق دینے کا حق نہیں چھیناگیا تھا بلکہ اسے قدرے بہتر بنادیا گیا۔ دوسری شادی کرنے کے لئے آدمی کے لئے ضروری تھا کہ پہلی بیوی سے تحریری طور پر اجازت نامہ لے ۔ اگر کوئی شخص ایسا نہ کرتا تو دوسری شادی تو ہوجاتی لیکن اُسے ایک ماہ تک جیل میں رہنا پڑتا(اگر میں قانون کو درست سمجھ رہاہوں)۔ دیکھا جاسکتاہے کہ ان قوانین کے ذریعے خانگی زندگی میں مرد کی مطلق حاکمیت کو معقول حد تک لانے کی کوشش کی گئی ، تاہم بعض علماء کو یہ بھی برداشت نہیں تھا۔ اُنھوں نے مشتعل ہوتے ہوئے کہا کہ یہ فیملی قوانین اسلام کے احکام کی خلاف ورزی ہیں۔ آج بھی یہ قوانین ان کو نہیںبھاتے۔
اس ضمن میں پاکستان کی مختلف حکومتوں کو کریڈٹ دیا جانا چاہئے کہ اُنھوںنے یہ دبائو برداشت کرتے ہوئے ان قوانین کو تبدیل نہیں ہونے دیا اور قوم کی مائوں اور بہنوں کے سرپر تحفظ کی چادر تانے رکھی۔ تاہم ایک مذہبی سیاسی جماعت کے، جس کے قائد پاکستانی سیاست کے مبینہ طور پرسب سے بڑے قلاباز ہیں، سے تعلق رکھنے والے مولانا محمود خان شیرانی کی سربراہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کیلئے ان قوانین سے زیادہ قابل ِ تشویش اور کوئی معاملہ نہیں۔ اس سال کے آغاز میں کافی سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کے بعد اس نے رائے دی کہ ایک نو سالہ لڑ کی کی بھی شادی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس میںبلوغت کے آثار پائے جائیں۔ عائلی قوانین کے مطابق سولہ سال سے کم عمر لڑکی کی شادی نہیں کی جاسکتی، تاہم فاضل عالم دین کی اپنی تو ضیح کے مطابق یہ پابندی غیر اسلامی ہے۔
اس سال مارچ میں کونسل کے ایک اورا جلاس میں مولانا شیرانی نے رائے دی....’’ شریعت مرد کو ایک سے زائد شادیاں کرنے کی اجازت دیتی ہے، اس لئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عائلی قوانین میں ترمیم کی جائے کیونکہ ان کے مطابق آدمی کو شادی کرنے کے لئے پہلی بیوی کی تحریری اجازت درکارہوتی ہے۔ ‘‘اس ہفتے مولانانے تازہ ترین حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرد کی دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کسی بھی عورت کے لئے طلاق مانگنے کا جواز نہیں۔ وہ صر ف اُس صورت میں طلاق مانگ سکتی ہے جب اُس پر تشدد کیا جائے لیکن شوہر کی طرف سے متعدد شادیاں کرنا طلاق کا جواز ہرگز نہیں بن سکتا۔
مولانا کی رائے میں بچپن کی شادی بھی درست ہے بشرطیکہ اسے لڑکی کا باپ اور دادا اچھی نیت سے کردیں اور اس میںکوئی اور رسم ملوث نہ ہو۔ تاہم اس شادی میں رخصتی اُس وقت ہوگی جب لڑکی بالغ ہوجائے گی۔ ایسے نازک معاملات پر جدید اسلامی قوانین اور دنیا کے نامور علمائے دین کیا کہتے ہیں،یہ ان کا سردرد نہیں۔ دوسری اقوام اور نسلیں ستاروں اور کہکشائوں کا کھوج لگارہی ہیں لیکن ہم ابھی شادی ’’ہال‘‘ سے ہی نہیں نکلے۔ سائنس اور علم کے دروازے ہم پر بند اور کوئی جدید سائنسی پیش رفت ہمارے کریڈٹ پر نہ سہی لیکن شادیوں کے ذریعے ہم عظیم تخلیق کاروں میں شامل ہوسکتے ہیں.... اور ملکی آبادی دیکھیں تو ۔ بے شک مولانا شیرانی اور ان کے ہم خیال گروہ کے نزدیک دوسری، تیسری اور چوتھی شادی اتنا اہم معاملہ ہے کہ بیرونی دنیا کے بے خبر لوگ یہ تاثر لے سکتے ہیںکہ کہیں شادی کی اہمیت مذہب کے ارکان جتنی تونہیں؟اس سے زیادہ اسلام جیسے روشن خیال اور جدید مذہب کی بے توقیری اور کیا ہوسکتی ہے؟جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو وہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت کے لئے کڑی شرط لگاتا ہے کہ شادیاں کرنے والا مرد تمام بیویوںسے یکساں سلوک کرے۔ یہ بات کہنا آسان ہے، کرنا مشکل۔ اس معاملے میں حجت کے لئے کس کی مثال ہم گناہ گار انسانوں کے سامنے ہے؟ میرے ذہن میں تو ملک غلام مصطفیٰ کھر ، سابق شیر ِ پنجاب، کا نام ہی آرہا ہے۔پوچھ کے دیکھ لیں کہ کیا ایک سے زائد عورتوں کو مطمئن رکھا جاسکتا ہے کہ جبکہ تمام ایک جیسی جذباتی خوشی محسوس کریں؟فی زمانہ تو ایک عورت کو خوش رکھنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لازمی طور پر عورتیں یہی بات آدمیوںکے بارے میں بھی کہیں گی کہ ایک کے ساتھ نباہ کرنا بھی فل ٹائم بزنس ہے۔ اس نباہ کا مطلب سب بیویوں کو مساوی حصے کے دیناربانٹ دینا نہیں۔
ہر مغل بادشاہ کے حرم میں سینکڑوں کنیزیں ہوتی تھیں اور ان کی کئی ایک بیویاں بھی تھیں لیکن ایک وقت میں کوئی نہ کوئی ان کے دل کی ملکہ ضرورہوتی تھی۔۔۔ جیسے نورجہاں یا ممتاز محل یا لال کنور(ایک رقاصہ جو جہاندار شاہ کی ملکہ بنی)۔ بادشاہ کی تمام بیویاں اور کنیزیں محل میں رہتی تھیں لیکن کیا سب سے یکساں سلوک ہوتا تھا؟محبت میں رقابت نہ ہوتو یہ نری محنت رہ جاتی ہے۔ یہ وہ سلطنت ہے جس کے حصے نہیں بانٹے جاسکتے۔ اس لئے اسلامی احکامات اتنے سادہ نہیں جتنے مولانا کو دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں یکساں سلوک کا حکم دے کر معاملہ دوٹوک کردیا ہے.... اگر ایسا نہ کرسکے تو دوسری شادی کی اجازت نہیں۔ ہے کوئی دعویدار کہ وہ فی زمانہ یکساں سلوک کرسکتا ہے؟ہم اس رعایت سے مستفید ہونے کے لئے تو بے تاب ہیںلیکن اس کی کڑی شرط کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اسلامی احکامات میں زنا کی سزا کے لئے گواہی دینے کے لئے بھی راست باز اور دیانت دار افراد درکار ہیں جن کی نیکوکاری پر کوئی حرف زنی نہ کرسکے۔ اس کے بعد رجم کی سزا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پتھر مار مار کرکسی کوہلاک کرد ینا وحشیانہ سزا دکھائی دے لیکن آپ اس کی شرط تو دیکھیں۔ آپ چار نیک اور متقی گواہ کہاں سے لائیںگے جو چشم دید واقعہ ، نہ کہ سنی سنائی بات، بیان کریں جو اُنھوںنے شروع سے آخر تک اپنی آنکھوںسے ملاحظہ کیاہو۔ اس کے علاوہ کسی کو پتھر مار کر ہلاک کردینا جرم کے زمرے میںآئے گا کیونکہ اسلام کی شرط پوری نہیںہوتی۔ا سلام کے سنہرے دور میں ،جب بغداد میں عباسی خلافت کا راج تھاتو اسلامی تہذیب علم اور آگاہی کی نقیب تھی۔ یہ کلچر کو پروان چڑھاتی تھی اور گلوکاری یا رقص کے بھی خلاف نہیں تھی۔ تاہم جب ہم موجودہ دور میں اسلام کی تشریحات سنتے ہیںتو گمان ہوتا ہے کہ اسلام صرف مرد کی حاکمیت کی ضمانت اور عورتوں کی حق تلفی اور وحشیانہ سزاوں کے ذریعے سماج میں خوف کی فضا قائم کرتا ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں اگر سوات میں عقیدے کے مجاہدین کو صرف ایک چھوٹی سی لڑکی،ملالہ یوسف زئی برداشت نہ ہوئی اور اُنھوں نے اُسے ختم کرنے کے لئے جنگجووں کی ٹیم بھیج دی۔ ایسا لگتا ہے کہ تعلیم یافتہ عورتوں کے خوف سے انتہا پسند تھر تھر کانپتے ہیں، اسی لئے وہ انہیں ختم کردینا چاہتے ہیں۔
وہ عقیدہ جو مولانا شیرانی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے سامنے آتا ہے، وہ صرف اسلام کی من پسند تشریح ہے۔یہ کسی فلاحی ریاست کا مذہب نہیںہوسکتاجس کا مقصد غربت کا خاتمہ اور علم کا پھیلائو ہو۔ کیا ہمارے پیغمبر ﷺ کا فرمان نہیں کہ علم حاصل کرنے کے لئے اگر دوردراز کا سفر بھی اختیار کرنا پڑے تو گریز نہ کرو؟آج کے پاکستان میں عورتیں اپنے بچوں سمیت غربت کے باعث نہر میںکود کر خود کشی کرلیتی ہیں۔ کیا اسلامی کونسل نے اس معاملے پر کبھی سوچا ہے؟دراصل اسلام کی نشاۃ ثانیہ اس وقت شروع ہو گی جب یہ ذہنیت ، جو اسلامی نظریاتی کونسل پر قابض ہے، ختم ہوگی اور جدید ترقی پسنداسلام کا خاکہ ابھرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *