امرت کور: اسّی برس کی عمر میں ارب پتی بنیں

karachi-liyari_400

چندی گڑھ کی ایک پرسکون کالونی میں سفید رنگ کے خوبصورت تین منزلہ گھر کے سامنے دو چھوٹی کاریں، جن میں سے ایک ہایونڈائی سانترو اور دوسری ماروتی 800 ہے، پارک کی ہوئی ہیں۔ یہاں اڑوس پڑوس میں زیادہ تر ریٹائرڈ ججز، بیوروکریٹس اور وکلاء رہائش پذیر ہیں۔

چندی گڑھ شہر کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ وفاق کے زیرانتظام شہر ہے، اور ہندوستان کی دو ریاستوں ہریانہ اور پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ چندی گڑھ کے معنی ہیں چندی کا قلعہ، اور یہ نام ہندوؤں کے دیوتا چندی کے نام سے منسوب چندی کے مندر کی وجہ سے پڑا۔

ہندوستان کی 1947ء میں آزادی کے بعد چندی گڑھ وہ واحد شہر ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بسایا گیا۔ یہ دنیا بھر میں اپنے فن تعمیر اور شہری ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہے۔

یہ شہر ملک کے امیر شہروں کی فہرست میں اوپری درجے پر ہے، اس کے علاوہ 2010ء میں اس شہر کو ہندوستان کا سب سے صاف ستھرا شہر قرار دیا گیا تھا۔

چندی گڑھ کی امرت کور، جن کی عمر اسّی برس ہوگی، اب ہندوستان کے ارب پتی لوگوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی جریدے اکنامکس ٹائمز کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد فرید کوٹ کے حکمران تھے، اور انہوں دو دہائیوں پر محیط طویل قانونی جنگ کے بعد اپنے والد کے نصف اثاثوں کی ملکیت حاصل کی ہے، جن کی مالیت 3.5 بلین ڈالرز یا بائیس ہزار کروڑ ہندوستانی روپے کے برابر ہے۔

امرت کور نے کہا ”میں جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن میں یہ مقدمہ جیت ہی جاؤں گی۔ مجھے اس بارے میں ذرا بھی شک نہیں تھا۔“

اگر وہ عدالت کے اس فیصلے سے واقف تھیں جس نے انہیں راتوں رات ارب پتی بنادیا ہے، اس کا  آپ اُن کے اطوار سے انداز نہیں کرسکتے۔amrit-kaur-indias-newest-billionaire4-306

وہ انگلش میں بات کر رہی تھیں، زیادہ تر ان کا جواب ایک یا دو لائنوں کا تھا اور جب ان سے ان کے پوتے یا ان کے بچپن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراہٹ پر ہی اکتفا کیا۔

رقم کے حوالے سے کیے گئے سوال یا اس سوال پر کہ ان کی اپنے شوہر سے کیسے ملاقات ہوئی تو وہ اپنی بے کلی کو چھپا نہ سکیں۔ انہوں نے اپنے والد کی خواہش کے خلاف 1952ء میں شادی کی تھی۔اسی نکتے کو دفاعی وکلاء نے مقدمے کی سماعت کے دوران زور دیتے ہوئے بحث کے لیے پیش کیا تھا کہ راجہ نے اپنی وصیت میں امرت کو کیوں نہیں شامل کیا۔

جہاں تک جائیداد کا تعلق ہے تو وہ بہت زیادہ ہے۔ اس میں سے بڑی جائیدادیں پانچ شہروں میں ہیں، جن میں دو بڑے بنگلے دہلی میں لیوٹینز کے علاقے میں ہیں، اس کے علاوہ قلعے، محلات، ایک نجی ملکیت کا جنگل اور ہمالیہ میں پہاڑی کے دامن، نجی ہوائی اڈّے اور زرعی زمینیں، اسلحہ، نوادرات اور بنک کے لاکرز میں رکھے ہوئے زیوارت کے بکس، جنہیں دہائیوں سے نہیں کھولا گیا ہے۔

جائیداد کی مالیت کا درست اندازہ لگانا تو مشکل ہے، اور اس خاندان کے لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ کئی سالوں کے دوران جائیداد سے بہت سی قیمتی چیزیں غائب ہوگئی ہیں۔ ان کو یہ بھی شبہ ہے کہ بہت سی جائیداد جو ٹرسٹ کی طرف سے فروخت کی گئی تھیں، ان پر ریاست نے اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔

امرت کور اس سوچ کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں کہ 1989ء میں ان کے والد کے انتقال کے بعد، 24 برس کے عرصے سے انہیں دھوکہ دیا جارہا تھا۔ amrit-kaur-indias-newest-billionaire3-306

اس لیے کہ جب وصیت سامنے آئی تو ان کے والد کی جائیداد کا کنٹرول امرت کور کی دو چھوٹی بہنوں کے زیراتنظام ایک ٹرسٹ کو دے دیا گیا، اس کا موثر کنٹرول ان کے والد کے مشیروں اور ملازمین کے ایک چھوٹے سے گروپ کے پاس تھا۔

امرت کور نے کہا ”میرے والد بہت محبت کرنے والے اور ہم میں سے ہرایک کا خیال رکھنے والے انسان تھے۔ میں جانتی ہوں کہ وہ کبھی ایسی احمقانہ وصیت نہیں تحریر کرسکتے۔“

ان کے بچپن کی دلکش یادوں میں فرید کوٹ کے محل میں گزارے گئے دن  اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ شملہ کے قصبے ”مشہوربا“میں گزاری گئی گرمیوں کی چھٹیاں شامل ہیں۔ ان کے والد اپنے دو سیٹوں والے جہاز میں انہیں بٹھا کر دہلی لے کر گئے تھے۔

امرت کور بتارہی تھیں ”انہیں  ہوابازی کا بہت شوق تھا اور ایک وقت میں ان کے پاس  چھ ذاتی طیارے تھے اور نجی ہوائی اڈّے۔ انہوں نے مجھے برج کھیلنا سکھایا، انہوں نے مجھے بال روم ڈانس سکھایا اور انہوں نے مجھے سکھایا کہ ڈرائیو کیسے کرتے ہیں۔ میں نے دو سیٹوں والی بینٹم کار سے گاڑی چلانا سیکھا۔انہیں برج کھیلنے کا بہت شوق تھا، اور سیر و تفریح سے بہت لگاؤ تھا اور انہوں نے بہت زیادہ اس پر وقت صرف کیا۔“

ان کے والد نے انہیں ایک پولیس آفیسر ہرپال سنگھ جو مہاراجہ کے پاس ملازم تھے، سے شادی کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ ان کا کہنا ہے  کہ وہ بعد میں ہمارے نزدیک آگئے تھے۔

ہرپال سنگھ نے بعد میں انڈین پولیس سروس میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور ترقی کرتے کرتے وہ ہریانہ کے ڈی آئی جی کے عہدے پر پہنچے اور ایک پُرکشش  آفیسر بنے، انہوں نے اپنی نمایاں خدمات پر صدارتی پولیس میڈل بھی حاصل کیا۔

ہرپال سنگھ جو اب نوّے برس کے ہوچکے ہیں، نے کہا ”میں سمجھتا ہوں کہ مہاراجہ اپنی بیٹی کی عام آدمی کے ساتھ شادی پر خوش نہیں تھے، لیکن کیا آپ مہربانی کرکے ذاتی سوالات سے گریز نہیں کرسکتے؟“

یہ ضعیف جوڑا جن کی شادی کو اب 61 برس گزرچکے ہیں، ان کے تین بچے اور تین پوتے ہیں، اس طرز کی بات کرنے سے انکاری تھے کہ ان کی کیسے ملاقات ہوئی اور مہاراجہ کی کڑی نظروں سے بچ کر کیسے انہوں نے ایک دوسرے کو محبت کا پیغام دیا۔

بعد کے سالوں کے دوران راجہ کی طرف سے اپنی بیٹی اور داماد کو لکھے گئے بہت سے خطوط سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے  اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرلی تھی۔ اسی لیے سماعت کے دوران جج نے ان خط وکتابت پر انحصار کرتے ہوئے دفاعی وکیل کی یہ دلیل کہ راجہ امرت کور کی ایک ملازم کے ساتھ شادی پر سخت ناراض تھے ، کو مسترد کردیا۔

ان خطوط سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ راجہ اپنے پسندیدہ مشروب سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ بہت سے خطوط جو ہرپال سنگھ کو اس وقت لکھے گئے جب کہ وہ ہندوستانی سرحد پر سیکیورٹی فورس میں خدمات انجام دے رہے تھے، اُن خطوط کے آخر میں راجہ نے رم کی بوتلوں کے لیے فرمائش کی گئی تھی۔

ان خطوط میں راجہ ہمیشہ اپنی بیٹی کو ”میری سب سے عزیز سارجنٹ“ یا ”میری پیاری کوئل“ جبکہ اپنے داماد کو ”میرے پیارے سردار ہرپال سنگھ“ سے مخاطب کرتے تھے۔

راجہ کے انتقال کے بعد ان کی  آخری رسومات کی تقریب کے موقع پر ایک وکیل نے ان کی وصیت کی موجودگی کا اعلان کیا تھا۔

امرت کور نے کہا کہ انہیں فوراً شبہ ہوگیا تھا کہ کوئی گندہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس وصیت میں بورڈ آف ٹرسٹیز اور بورڈ آف ایگزیکیوٹرز کے نام دیئے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈوائزروں اور وکلاء پر مشتمل بورڈ آف ایگزیکیوٹرز  کو ٹرسٹیز کے اہم فیصلوں پر مکمل کنٹرول حاصل تھا، یہاں تک کہ ٹرسٹیز کی تقرری پر بھی۔

راجہ کی منجھلی بیٹی دیپندر کورکو چیئرمین اور ان کی چھوٹی بیٹی مہیپندر کور کو وائس چیئرمین نامزد کیا گیا تھا۔ ان دونوں کی تنخواہ بالترتیب بارہ سو روپے ماہانہ اور ایک ہزار روپے ماہانہ تھی۔ امرت کور نے اس وصیت کو ماننے سے انکار کردیا۔ دیپندر کور نے راجہ کی مرضی سے کلکتہ کے ایک دولت مند اور صاحبِ جائیداد گھرانے مہتاب آف بردوان میں شادی کی تھی۔amrit-kaur-indias-newest-billionaire2-670

امرت کور نے کہا کہ ان کی چھوٹی بہن دیپندر کور ان کے والد کے ملازمین کے تیار کیے گئے ایک بڑے گیم کا مہرہ بن گئی، جو انہیں ان کے والد کی جائیداد سے بے دخل کرنے کی سازش کررہے تھے۔کیا وہ اب اپنی بہن کے لیے سخت جذبات رکھتی ہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”اب میں اپنے دل میں سختی محسوس کررہی ہوں۔“

امرت کور اپنی بہن، ٹرسٹ اور اس کے منتظمین کے خلاف 1992ء میں عدالت پہنچ گئیں، انہوں نے دلیل دی کہ ان کے والد کی وصیت جعلی ہے اور وہ ایک حقیقی وصیت کی غیرموجودگی میں اپنے والد کی جائیداد کی وارث ہیں۔

راجہ کے اکلوتے بیٹے ٹکا ہرمہیندر سنگھ بیماری کی وجہ سے 1981ء میں انتقال کرگئے تھے، اپنے بیٹے کی موت کی صدمے سے راجہ پر ڈپریشن طاری ہوگیا تھا۔

مہیپندر کور جنہیں ٹرسٹ کا وائس چیئرمین نامزد کیا گیا تھا، وہ بھی اس انتظام کے خلاف ہوگئیں اور اس دلیل کے ساتھ عدالت جاپہنچیں کہ یہ وصیت جعلی ہے۔

انہیں شملہ کی ریاست مشہوربا میں دو کمروں کے ایک گھر میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ امرت کور کے خاندان کا کہنا ہے کہ مہیپندر کور کے ساتھ ٹرسٹ کی انتظامیہ نے بُرا سلوک کیا۔ جب امرت کور کی بیٹی گوروین ایچ سنگھ ”مشہوربا“ میں اپنی خالہ سے ملنے کے لیے گئیں تو انہیں ملاقات کی اجازت  نہیں دی گئی۔

ان کا مقدمہ عدالت میں ٹرسٹ کے خلاف دائر تھا، اور 2011ء میں اُس دن جب انہیں سماعت میں  پیش ہونا تھا، تو وہ انتقال کرگئیں۔ وہ مقدمہ ان کی غیر حاضری کی وجہ سے خارج کردیا گیا۔ امرت کور کے گھرانے کا کہنا ہے کہ مہیپندر کی موت جن حالات میں ہوئی وہ بہت پُراسرار تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔

راجہ کی ریاست میں مشہوربا کے پانچ بنگلوں میں سے تین میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے تھے۔ امرت کور نے بتایا کہ ان گھروں  کی تمام قیمتی اشیاءجن میں لائبریریاں اور پینٹنگز شامل ہیں، غائب ہوگئیں۔ انہیں یہ بھی شبہ ہے کہ یہ آتشزدگی کے واقعات محض حادثہ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا ”میرے لیے یہ حیران کرنے والی بات نہیں، یہ لوگ لوٹ مار کرنے کے لیے وہاں موجود تھے، ریاست کی ترقی کے لیے نہیں۔“

ایک طویل مقدمے کے بعد ایڈیشنل سول جج رجنیش کے شرما نے امرت کور کی دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے وصیت کو مسترد کردیا اور اپنے فیصلے میں ٹرسٹ کے وجود کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

ٹرست کے ترجمان واہنی وال نے کہا کہ ٹرسٹ کی طرف سے کوئی بھی جائیداد فروخت نہیں کی گئی ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔انہوں نے کہا ”ہم انصاف کو رد نہیں کرسکتے۔ یہ فیصلہ قانون کے خلاف ہے۔ ہم اپیل کریں گے۔“

دیپندر کور سے رابطہ نہیں ہوسکا، لیکن ٹرسٹ کے حکام نے کہا کہ واہنی وال انہی کی طرف سے بات کررہے ہیں۔

دیپندر کور کو بھی اس فیصلہ سے کافی بڑا فائدہ حاصل ہوا ہے۔جس کے مطابق ہندو سکسیشن ایکٹ کے تحت راجہ کی دو باقی رہ جانے والی بیٹیوں میں تمام جائیداد تقسیم کی جائے گی۔ اب یہ مقدمہ یا تو اپیل کے پھندے میں پھنس کر مزید طوالت اختیار کرجائے گا یا پھر دونوں بہنیں اس بات پر رضامند ہوجائیں گی کہ جائیداد کو کیسے تقسیم کیا جائے۔

جج نے وصیت میں اسپیلنگ کی بہت سی غلطیاں بھی پائیں، اس سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وصیت اس نے ہی تیار کی ہے جس کو اس سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سی وجوہات نے ثابت کردیا کہ یہ وصیت جعلی ہے۔

امرت کور نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ نہیں کیا کہ وہ اس دولت کاکیا کریں گی۔انہوں نے کہا ”جب میرے ہاتھ میں یہ دولت آئے گی، تب میں اس کے بارے میں سوچوں گی۔“ انہوں نے کہا اُن کی زندگی میں ایسا کچھ مختلف نہیں ہوتا، اگر ان کے پاس یہ دولت پہلے سے ہوتی۔ ”میرے پاس وہ سب کچھ تھا، جس کی میں نے خواہش کی، میرے بچوں نے بہترین اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کی۔ میں نے دنیا کا سفر کیا۔میں نے بہت آرام کے ساتھ وقت گزارا۔“

انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزیں اس وقت پریشان کردیتی ہیں، جب ان کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔

امرت کور اب قانونی طور پر اب اربوں کی دولت کی مالک بن گئی ہیں، لیکن ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی، اس وقت بھی جب یہ دولت حقیقی معنوں میں ان کے اختیار میں آجائے گی۔ ان کا چندی گڑھ سے منتقل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ اسی گھر میں رہیں گی جو ان کے شوہر نے 1968ء میں تعمیر کروایا تھا اور جہاں یہ دونوں میاں بیوی ریٹائرمنٹ کے بعد 1980ء سے رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ”میں اپنے والد کی تمام جائیداد کا وزٹ کروں گی، جہاں پہلے مجھے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن میں یہاں سے رہائش کے لیے کہیں اور منتقل نہیں ہوں گی۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *