شدید بارشوں نے کراچی میں تباہی مچا دی

Heavy Downpourموسلادھار بارش سے کراچی میں قیامتِ صغریٰ ہے۔ اس وقت شہر کے بیشتر علاقے اور سڑکیں زیرِ آب ہیں جبکہ پانی گھروں اور مارکیٹوں میں داخل ہو چکا ہے۔ بارش سے ہونے والے نقصان کا اندازہ تو پانی اترنے کے بعد ہی ہوگا، اس وقت تک تو انسانی زندگی بچانے کا مرحلہ درپیش ہے جبکہ شہر میں حکومت نامی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ شہر میں چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر مختلف حادثات میں چھے بچوں سمیت بارہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ بجلی بند ہونے کی وجہ سے نکاسیِ آب کا نظام مفلوج ہو گیا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ مصطفی کمال کو عارضی طور پر کراچی کا ناظم مقرر کر دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رہنما بابر خان غور ی کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدر آباد کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کی جائے اور فنڈز کا اجرا کیا جائے گا تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹا جاسکے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔
کراچی میں جب آسمان پر بادل جمع ہو رہے تھے تو شاید لوگ خوشی سے سرشار ہو رہے ہوں کہ ویک اینڈ اچھا گزرے گا اور وہ خوش گوار موسم کا لطف لیتے ہوئے روزہ رکھیں گے اور عید کے لیے شاپنگ بھی کریں گے۔ تاہم چند گھنٹوں کی بارش نے ان کے ارمانوں پر اوس گرادی۔ جب کچھ دیر بعد شہر کی گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں کا روپ دھار نے لگیں اور پانی کے ریلے گھروں اور نشیبی علاقوں میں داخل ہونے لگے تو خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھیں۔
صوبائی حکومت خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی کہ خراب صورتِ حال نے پانی کی چھینٹے کی طرح اُنہیں بھی جگادیا۔ ارے یہ کیا، کراچی میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا! کسی نے بتایا کہ حیدر آباد اورسندھ کے باقی شہری علاقوں کا یہی حال ہے تو پھر الزام تراشیاں شروع ہوگئیں۔ سٹی گورنمنٹ کے کچھ افسران کو معطل کیا اور سمجھا کہ اب پانی اتر جائے گا لیکن پانی کے ارادے کچھ اور تھے۔ اب لگے دوڑ دھوپ کرنے لیکن اس وقت تک صورتِ حال خاصی خراب ہو چکی تھی۔ اب تک نیوی کی کچھ ٹیمیں تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے پانی میں گھرے ہوئے لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں جبکہ پرانی عمارتیں ٹوٹ ٹوٹ کر گررہی ہیں۔ اس ے مزید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ بہت سے لوگ سڑکوں پر کھڑے ہیں اور اُنھوں نے رات وہیں بسر کی ہے کیونکہ ان کی گاڑیں کل شام پانی میں بند ہو گئی تھیں اور ان کاکوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ کراچی میں یہ مون سون کی پہلی بارش ہے اور اس نے انتظامیہ کے تمام دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ محکم�ۂ موسمیات نے خبردارکیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ ابھی مزید کچھ دن جاری رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *