بچوّں کے ساتھ بد فعلی کے بڑھتے ہوئے واقعات

 مدیحہ ریاض

madeeha-riaz

بچےّ پیدا کر کے معاشرے کے حوالے لے کر دینا ناانصافی ہے۔بہترین تعلیم وتربیت ہر بچے کا شرعی اور قانونی حق ہے۔لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں بچے اس حق سے محروم ہیں۔پاکستان میں معاشی تنگدستی کی وجہ سے والدین اور بچوّں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے 150 والدین کی عدم توجہ کے باعث بچے باہر کی سرگرمیوں حصہّ لینا شروع کر دیتے ہیں اور پھر گھر کو ایک سرائے یا ہوٹل سمجھ لیتے ہیں جہاں صرف کھانا کھانے اور رات بسر کرنے آنا ہے۔آج کہ اس تیز رفتار دور میں بچوّں کے والدین کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ دو گھڑی بچوّں سے بات ہی کر لیں۔یا ان کی مصروفیت کے بارے میں جان لیں کہ وہ کیا کرتے پھر رہے ہیں۔مگر بے حد افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوّں کو مہنگے اسکولوں‘مدرسوں’اور اکیڈمیوں میں داخل کروا کر خودکو ہر قسم کے فرائض سے بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔
پاکستان میں روز بہ روز بڑھتے ہوئے جنسی تشدد جیسے واقعات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ان واقعات کا سب سے بڑا سبب والدین اور بچوّں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔اگر کوئی بچہ گھر سے باہر اپنے آپ کو اگر غیر محفوظ سمجھتا ہے تو وہ گھر آ کر اپنے احساسات کا اظہار نہیں کر پاتا جو وہ گھر سے باہر جا کر محسوس کرتا ہے۔پاکستان میں بچوّ ں کے ساتھ جنسی تشدد جیسا گھناؤنا فعل روز کا معمول بن چکا ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔مہذب معاشروں میں بچوّں کے ساتھ بد فعلی کرنے والوں کو کڑی سے کڑی سے سزا دی جاتی ہے مگر بدقسمتی سے سے پاکستان میں ایسیافراد جو جنسی تشدد جیسے گھناؤنے فعل میں مرتکب پائے جاتے ہیں سر عام دندناتے پھرتے ہیں۔پاکستان میں مظلوم کا چہرہ تو ساری دنیا دیکھتی ہے۔مگر ظالم کا چہرہ کبھی بے نقاب ہی نہیں ہوتا۔
پاکستان میں 90ء کی دہائی میں 100بچوّں کے ساتھ بد فعلی کرنے کا واقعہ سامنے آیا۔100بچوّں سے بدفعلی کرنے والا گھٹیا صفت جاوید اقبال نامی شخص لاہور کے مقامی اخبار کے دفتر سے پو لیس نے گرفتار کیا۔یہ گھٹیا شخص لاہور کے مقامی اخبار کے دفتر گیا اور وہاں کہنے لگاکہ میں ہوں جاوید اقبال جو 100 بچوّں کا قاتل ہے۔یہ گھٹیا انسان بچوّں کے کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے انھیں قتل کر دیتا اور پھر مقتول بچوّں کی لاشوں کو تیزاب سے تلف کرکے دریائے راوی میں بہا دیتا۔مارچ 2000ء میں لاہور کی عدالت نے گھٹیا صفت جاوید اقبال کو سزائے موت سنائی اور کہا کہ اسے مقتول بچوّں کے والدین کے سامنے پھانسی دی جائے اور اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے تیزاب سے تلف کر کے درائے راوی میں پھینک دیاجائے۔مگر اس دور کی حکومت وقت نے ایساکرنے سے روک دیا اور کہا کہ یہ خلاف قانون ہے۔ذرا سوچئے!کہ کیا پاکستان میں اس واقعہ کے بعد بھی کے ساتھ جنسی تشدد جیسا گھناؤنا فعل ہونا چاہئے؟ پاکستان میں کیوں اس قسم کے واقعات کی روک تھام نہیں ہو رہی؟ کیوں پاکستان میں جنسی تشدد جیسے واقعات کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے؟ پاکستان میں اس واقعہ کے 17 سالوں بعد بھی جنسی تشدد جیسے واقعات میں کمی نہیں آرہی۔پاکستان کی تاریخ میں بچوّ ں کے ساتھ بدفعلی کرنے کا دوسرا بڑا وا قعہ 2015ء میں قصور کے نواحی گاؤں حسین خانوال گاؤں میں پیش آیا  25 افراد پر مشتمل ایک گروہ نے تقریبا 250 بچوّں کو نہ صرف اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ دوران زیادتی ان معصوموں کی ویڈیوز بنا کر ان بچوّں کے والدین کو بلیک میل کیا اور ان سے لاکھوں رو پے وصول کئے۔اس کے علاوہ بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں جنسی تشدد کے واقعات منظر عام پر آئے۔مینگورہ سوات میں اورنگزیب نامی ایک شخص نے 14سالہ بچیّ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔فیصل آباد میں ایک کمسن دوشیزہ مسیحا کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا بیٹھی  بہاولپور میں ایک نامور مدرسے کے استاد نے معصوم طالب علم کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا یا۔گجرانوالہ میں ایک کمسن بچیّ کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا کر گرجاگھر کے احاطے میں تشویش ناک حالت میں چھوڑ کر فرار۔جنسی زیادتی کے خلاف سر گرم غیر سرکاری تنظیم کی رپوٹ کے مطابق‘‘روزانہ اوسطا 10بچوّ ں کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ساحل تنظیم کی رپوٹ کے مطابق پنجاب جنسی تشدد کے واقعات میں پہلے نمبر پر‘سندھ دوسرے نمبر پر‘ بلوچستان تیسرے نمبر پر جبکہ کہ خیبر پختون خواہ چوتھے نمبر پر ہے۔ساح تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارلحکومت میں بچوّ ں کے ساتھ زیادتی کی شرح 83% ہے۔ساحل تنظیم کی رپوٹ کے مطابق اکثر بچیّ اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں ہی جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ کچھ بچیّ پڑوسی’اجن‘مولوی’استاد اور پولیس کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں جنسی تشد د کے و اقعات بہت کم پولیس کے پاس درج ہوتے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے تھانہ سسٹم کا بہتر نہ ہو نا۔جس کی وجہ سے لوگ ایسے واقعات کی شکایت درج نہیں کروا پاتے۔زیادتی کے شکار بچوّ ں کے والدین کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ پولیس ان کی کسی بھی بات پر یقین نہیں کرے گی بلکہ الٹا انھیں ہی کیس میں بری طرح الجھائے گی۔کچھ لوگ بدنامی کے ڈر سے جنسی تشدد جیسے واقعات کے خلاف تھانہ میں رپوٹ درج ہیں کرواتے۔
جنسی تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے بے حد ضروری ہے کہ بچوّ ں کی تعلیم و تربیت اسلامی طریقے سے کی جائے۔ارشاد نبویؐہے! اپنے بچوّں کا اکرام کرواور انہیں اچھی تربیت دو۔ آپؐ ہمیشہ بچوّں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتے اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے کہ وہ بھی بچوّں کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں - بچوّں کو فارغ اوقات میں فارغ مت رہنے دیں انہیں کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں ، بچوّ ں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں۔
بچوّں کا 5 یا 6 سال کی عمر میں بستر اور ممکن ہو تو کمرہ الگ کر دیں تا کہ انکی معصومیت قائم رہ سکے۔
جنسی تشدد جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے بے حد ضروری ہے کہ بچوّں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں اور ان سے دوستی کریں تا کہ وہ آپ سے ہر بات ڈِسکس کریں۔
بچوّں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے مت دیں اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بھاگے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہو تو غیر محسوس طریقے سے وجہ معلوم کریں بچوّں کو عادی کریں کہ کسی کے پاس تنہائی میں مت جائیں چاہے کوئی رشتے دار ہو یا اجنبی اور نہ ہی کسی کو اعضائے مخصوصہ کو چھونے دیں۔
یاد رکھئے! بچوّں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش کے قبل ختم کرنا ہی قتل کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کر کے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *