گیس کی تقسیم کا فارمولہ تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی... . خورشید شاہ

اسلام آباد: پی پی پی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ چھوٹے صوبوں کو ان کے قدرتی وسائل کے حق، جو اُن کو آئینِ پاکستان دیتا ہے، سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش سے خبردار رہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کوشش کی سختی سے مزاحمت کی جائے گی۔
اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی، جو وزیر برائے تیل و قدرتی وسائل ہیں،نے کہا تھا کہ صوبوں کے درمیان گیس کی تقسیم کے فارمولے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 158 ملک کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے، چناچہ اسے تبدیل کرنا چاہیے۔ اس آرٹیکل کے مطابق ملک کے جس صوبے میں گیس کا کنواں ہو، وہاں سے پہلے اُس صوبے کی ضروریات پوری کی جائیں گی، پھر باقی ملک کوگیس سپلائی کی جائے گی۔اُنھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن صوبوں میں گیس پیدا ہوتی ہے ، وہاں اس کی بہتات ہے اور اسے بطور سی این جی گاڑیوں میں اُڑایا جارہا ہے، جبکہ باقی ملک میں اس کی کمی کی وجہ سے کھاد کی فیکٹریاں بند ہورہی ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت کا خدشہ ہے۔
اس پر خورشیدشاہ کی طرف سے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے ایسی فیکٹری لگانی ہے جس میں قدرتی گیس استعمال ہوتی ہو تو وہاں لگائے جہاں سے گیس نکلتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چھوٹے صوبے پوری طاقت سے اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے اور اس ضمن میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ صاحب نے مسٹر عباسی کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس معاملے پر پی پی پی قومی اسمبلی میں ایک تحریکِ التواجمع کرائے گی تاکہ اس پر بات کی جاسکے اور فاضل اراکین وزیرِ موصوف سے وضاحت طلب کریں کہ اُنھوں نے صوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی بات کیوں کی۔ اُنھوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی بہت نازک حالات سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ مزید مشکلات کھڑی نہ کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *