کیا یہ مذاق نہیں ؟

roqaiya gazal

10دسمبر کوپاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا ہے جبکہ آج انسان سے انسانیت شر مندہ ہے حالانکہ انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے مگر افسوس اشرافیہ اور وڈیرہ شاہی نظام نے انسانوں سے جینے کا حق چھین رکھا ہے اور جیسے جیسے وقت کا پہیہ گھومتا گیا اس طبقاتی تقسیم کو عروج حاصل ہوتا گیا یہاں تک کہ اکسویں صدی میں بھی حکمران طبقہ یہ باور کروانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ گویاعوام کیڑے مکوڑے ہیں جبکہ حکمران آسمانی مخلوق ہیں بریں وجہ حکمران قانون کی پاسداری نہیں کرتا اور خود کو ہر قانون اور سزا سے بالا تر سمجھتا ہے ویسے بھی فی زمانہ اس طبقے کا احتساب نا ممکن ہو چکا ہے یہ غریب کوصرف اس لیے برداشت کرتے ہیں کہ اگر غریب نہیں ہوگا تو وہ امیر کیسے کہلائیں گے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ حقوق انسانی کے چارٹرکے مطابق انسانی حقوق ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں اوریہ حقوق ہر انسان کو بلا امتیاز رنگ و نسل و منصب فراہم ہونے چاہیئے مگر بد قسمتی سے اس کا نعرہ بلندہ کرنے والے ہی طبقاتی تقسیم کی زد میں ہیں انھیں حکمرانی اور آمرانہ طرز حکومت کا ایسا نشہ ہے جو چاہتا ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکمرانی کریں یہی وجہ ہے کہ مظالم کے خلاف اٹھنے والی سبھی آوازیں اقوام متحدہ سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ہیں مقام افسوس تو یہ ہے کہ آج جبکہ علم و آگاہی کا بول بالا ہے اور ہر انسان آگاہ ہے اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں اور ان حقوق کی دھجیاں کیسے اڑائی جارہی ہیں پھر بھی انسانی حقوق کے دعوے دار اپنے رویے تبدیل نہیں کرتے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی اور ظالمانہ سرشت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ کی اجارہ داری کو سہتے سہتے غریب طبقہ آواز اٹھانا بھلا چکا ہے اور اس کے لب خاموش ہیں اور آنکھوں میں یہ سوال لکھا ہے :
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
ویسے انسانی حقوق کا تصور اسلام نے چودہ سو سال پہلے دے دیا تھا لیکن متعصب اقوام کا وطیرہ رہاہے کہ انھوں نے اسلام کی اچھی چیزوں کو خود سے منسوب کر لیا جبکہ بعد کے اکثر مسلمان حکمرانوں نے بے مثل اور انسانوں کیلئے نفع بخش اچھی چیزوں کو بھلا دیا آپ ہندوؤں ،عیسائیوں اور یہودیوں کی کتب کو اٹھا کر دیکھ لیں قرآنی احکامات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر لکھا گیا ہے جسے اخلاقیات کا نام دے دیا گیا ہے جبکہ ہمارے پاس پورا د ستور حیات’’ قرآن پاک‘‘ اصلی شکل میں موجود ہے مگرکم فہم اور لبر ل ازم کے مارے اسے جدید تقاضوں کے مطابق ہی نہیں سمجھتے بریں سبب انسانی حقوق کے تصور کو میگناکارٹا سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن اس کی واضح شکل ہمیں اٹھارویں صدی میں امریکہ اور فرانس کے دستوروں اور اعلانات میں ملتی ہے مگر اس پر عمل داری کی کوئی مثال یا ٹھوس شواہد کہیں بھی نہیں ملتے بلکہ حالیہ بیشر ممالک کی روح فرسا صورتحال میں بھی کوئی قابل ذکر قراردادیں یا اعلانات دیکھنے میں نہیں آئے البتہ کئی جنگوں میں انسانیت سوز کاروائیوں میں ان چیمپئینز کی شمولیت کے انکشافات ہو چکے ہیں ۔
تاہم یہ دن پھر بھی ہمیشہ کی طرح بڑے ذوق و شوق اور جوش و خروش سے منایا گیا ہے کہ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہان کی مون نے اقوام عالم سے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے قدم آگے بڑھائیں انھوں نے امن ،پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کو اس عالمی ادارے کے تین اہم رکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں ارکان مل کر منظم معاشرے تشکیل دیتے ہیں ۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے ہمیشہ کی طرح اب بھی دوہرے معیار کا مظاہر ہ کیا ہے اور در پردہ حقائق تلخ ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہیں ۔فلسطین ،برما،شام ،عراق ،کشمیر ، افغانستان اور یمن میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ کس کی ایما پر ہو رہا ہے یہ بھی واضح ہے کہ چشم کشا نظریات اور حقائق سے چشم پوشی ممکن نہیں ہے کیا یہ سب انسانی حقوق کی تنظیموں کو نظر نہیں آتا اور اگر نہیں آتا تو کیوں نہیں آتا ؟ مسلم ممالک بارے اقوام متحدہ کی خاموشی بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ کشمیریوں پر ہندو مظالم اور لائین آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت بارے بارہا حکومت پاکستان نے اپنے مؤقف کو پیش بھی کیا ہے کہ بھارتی فوج نے گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں کو حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے مگر اس پر بھی کوئی ایکشن تاحال نظر نہیں آتا بلکہ امریکہ جو کہ انسانی حقوق کا چیمپئین کہلاتا ہے وہاں بھی طبقاتی فرق اور حقوق کی بانٹ عام ہے بلکہ اس کی پالیسیوں میں انتشار اور جنگ و جدل کو ہمیشہ سے فوقیت حاصل رہی ہے کیونکہ بیان بازی اور عملداری میں بہت فرق ہوتا ہے تاہم اس سے بھی انکار نہیں کہ ہماری خاموشی بھی مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم آج تک اپنا آوازہ ویسے بلند ہی نہیں کر سکے جیسے قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا تھا کہ دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا تھا تو یہ طے ہے کہ ہماری ترجیحات میں بھی ذاتی مفادات اورذاتی فیوچر پلاننگ شامل ہے مگر خدمت انسانی کا جذبہ مفقود ہے بریں سبب کشمیریوں پر مظالم اور بھارتی جارحیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ اگر انسانی حقوق کے مجموعی مطلب کو سامنے رکھ کربات کی جائے تو ہمارے ہاں بھی نعرے زیادہ ہیں جبکہ منصوبہ بندیاں اور عملداریاں ’’مک مکاؤ ‘‘ کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں کیونکہ ہمارا تو سارے کا سارا نظام ہی وڈیرہ شاہی اور افسر شاہی سے متاثر ہے ۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی اگر بات کی جائے تو یہاں کسی بھی زیادتی یا حق تلفی جیسے کسی بھی قسم کے سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت یا قابل قدر اقدام دیکھنے میں نہیں آیا ہے کہ پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اغوا کیا گیا اور پانچ سال تک لا پتہ رکھا گیا مگرتمام تنظیمیں خاموش ہی رہیں اور اس خاموشی کی داستانیں طویل ہیں کہ بنیادی آسائشوں کی فراہمی نہ ہونے کے سبب خود سوزی کے واقعات تشویشناک صورت اختیار کر چکے ہیں ، حقداروں کو حق نہیں ملتا اور لواحقین کو انصاف نہیں ملتا ،کہیں دہشت گردی ہے تو کہیں پولیس گردی ہے ،کہیں غربت ہے اور کہیں جہالت ہے ،کہیں وڈیروں کی لا قانونیت ہے اور کہیں زمینداروں کی بر بریت ہے ،کہیں بھوک ہے اور کہیں ہوس ہے ،کہیں بیماری ہے اور کہیں موت ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی یہیں پر بس نہیں ہوتی بلکہ ہمارے ملک کی تاریخ سیاہ ابواب سے بھری پڑی ہے کہ اسلام جو انسانی حقوق کا علمبردار ہے اور یہ وطن جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اس میں امن و عامہ ، شخصی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی کس حد تک فراہمی ہے میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتی کہ یہاں تو آزادی رائے کو بھی سلب کیا جا رہا ہے کہ میڈیا چینل کو بند کر دیا جاتا ہے اور صحافیوں پر حملے اور ان حملوں میں جانی نقصان بھی کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے اور اگر خواتین کے تحفظ اور حقوق کی بات کی جائے تو عورت کی حالت پہلے سے بھی ناگفتہ بہ ہے کہ اس کا قصہ تمام کر دیا جاتا ہے اور اس واقعہ کو بعد ازاں خود کشی کا رنگ دیکر اور بے راہروی کا ٹیکا لگا کر تہہ خاک کر دیا جاتا ہے کہ اب تو قبریں بھی پکارتی ہیں کہ
عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے ۔۔۔۔ہمارے قتل کو کہتے ہیں خود کشی کی ہے !
آپ بنگلہ دیش کی صورتحال کو ہی دیکھ لیں کہ حسینہ واجد کیسے انسانی حقوق کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہے مگر کسی کو یہ ابتر ی نظر نہیں آرہی اور سب تنظیموں نے چپ سادھ رکھی ہے ۔اگر اس پر بات کی جائے کہ انسانی حقوق پر منعقد کی جانے والی تقریبات ،سیمینارز اور جلسوں میں خاص طور پر آگاہی دی جاتی ہے اور بنیادی حقوق کے بارے بتایا جاتا ہے تو بھی یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان تقریبات میں آنے والے اور بیٹھنے والے وہی لوگ ہیں جو اپنے حقوق کا تحفظ کرنا جانتے ہیں کہ غریب کی کیا مجال کہ بد بودار کپڑوں اور پھٹے جوتوں کے ساتھ ان تقریبات میں بیٹھ سکے ۔ہاں ! وہ تقریب کے اختتام پر آپ کو چائے پیش کرتا ہوا یا وہ جگہ صاف کرتا ہوا ضرور نظر آئے گا مگر کسی محفل میں بیٹھا ہوا نظر نہیں آئے گا ۔ابھی ایک سال قبل ایک گدھا گاڑی چلانے والے کے بیٹے نے لاہورمیٹرک بورڈ میں تھرڈ ڈویژن حاصل کی تھی تو اسے پورے حال میں جگہ نہیں ملی تھی کہ اسے زمین پر سٹیج کے سامنے بٹھایا گیا تھا اور یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی تھی یعنی ہم نے اسے یہ احساس دلا دیا کہ تم کچھ بھی بن جاؤ تمہاری اوقات ہماری نظر میں یہی ہے اسی طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ حقوق جو حقیقی حاکم اعلیٰ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دئیے ہیں زمینی حکمران اپنی نفسا نفسی میں انھیں بھی چھیننے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ایسے میں مجھے تو ان دنوں کو منانے کی منطق سمجھ نہیں آتی لیکن اگر آپ اسے منانا چاہتے ہیں تو کم ازکم یوں منائیں کہ اب کہ مؤرخ آپ کا ذکر ان ہستیوں میں کرے کہ جنھوں نے عدل و انصا ف کو مخصوص طبقہ تک ہی محدود نہیں رکھا تھا تو انسانی حقوق کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کہ جب تک خلافت راشدہ کا دور رہا انسانی حقوق کا بول بالا رہاکہ حکمران تا عوام سب کو بلا امتیاز انکے حقوق حاصل تھے کہ قانون و انصاف کی نظر میں ہر کوئی برابر تھا اور ایسا اس لیے تھا کہ ان میں خوف الہی موجود تھا ۔جزا اور سزا پر حکمرانوں کا پختہ ایمان تھا آج اگر ایسا نہیں ہے تو اس کی وجہ خوف خدا کا فقدان ہے آخرت کا خوف جب تک ارباب اختیار کے دلوں میں تقویت نہیں پکڑ ے گا انسانی حقوق کے نعرے نعرے ہی رہیں گے
میری اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مؤدبانہ التجا ہے کہ آپ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کا دعوی اور نعرہ بلند کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں انسانی حقوق کی بحالی اور تحفظ کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے مگر دنیا کے بیشتر مسلم ممالک سمیت مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولیاں کھیلی جا رہی ہیں ،بلکتے کٹے پھٹے بچے ، بے آبرو مائیں بہنیں ، چیختی ،تڑپتی اور سسکتی عورتیں ،جوان لاشے ،بوڑھے نحیف مسخ جسم ،سنسان بازار ،قبرستان نما شہر اور لاشوں کے انبار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے پکار رہے ہیں کہ
دنیا کے منصفو ! سنو ۔۔کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو ۔۔ خدارا ! اب یہ پکار سن لیں اگر سننا ممکن نہیں ہے تو یہ نعرہ بلند کرنا چھوڑ دیں اور انسانی حقوق کا دن منانا بند کر دیں کہ اس سے نہ کل کچھ حاصل ہوا اور نہ ہی ا ب حاصل ہوگا کیونکہ اگر تبدیلی لانی ہے تو ہر سطح پر تمام برسر اقتدار طبقوں ، حکمرانوں اور منصفوں کو اخلاص اور خوف خدا سے کام لیتے ہوئے اپنے قول و فعل میں تضاد ختم کرنا ہوگا ۔جھوٹ کو چھوڑنا ہوگا ،زیادتی ،نا انصافی ،اقربا پروری ،اپنوں پر رحم اور دوسروں پر قہر کا رویہ ترک کرنا ہوگا ۔میرٹ کی پالیسی سچائی پر مبنی طریقہ ہائے کار کے مطابق اپنانا ہوگی ۔تب جا کر ایک عام آدمی کے حالات سنور سکیں گے تو ایسے میں کیا یہ مذاق نہیں کہ منافقت سے دن منائے جا رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *