میرا گورا پتر اداس نہ ہو

razia syed

ہر سال کی طرح یہ سال بھی گذر گیا ماں اور اس سال کے آخری ماہ کی سولہ تاریخ بھی گذر گئی ،مجھے پتا ہے کہ تم دو سال سے میرا انتظار کر رہی ہو ، اگرچہ کہ تمھاری آنکھوں کے دئیے بجھ گئے ہیں ، میرے واپس آنے کی سب امیدیں بھی ٹوٹ گئی ہیں، تم نے میری لاش کو بھی اس دھرتی کے سپرد کر دیا ہے لیکن پھر بھی تمھیں کسی کل چین نہیں ہے اتنا سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی تم میری منتظر ہو۔

پوری قوم ہماری شہادت کا غم منا رہی ہے لیکن اس قوم کو کون بتائے کہ ماں ہمارے ملک کو شہیدوں کی نہیں غازیوں کی ضرورت ہے  ۔۔انھیں یہ علم نہیں کہ تم نے میری تعلیم کے حوالے سے کتنے سپنے دیکھ رکھے تھے ، کتنی محبت اور شفقت سے میری پرورش کی تھی ، میرے جوان ہونے کی حسرت ہر پل تمھارے من میں تھی ۔ لیکن اب  شاید سب میری شہادت کی تمھیں اس لئے مبارکباد دے رہے ہیں کہ ان کے بچے ابھی غازی ہیں ۔

ایک طرف ہمارے ملک کے حکمران ہیں ماں جن کے لئے ہماری جان بہت ارزاں ہے  ، جو ہمیں نہیں بچا سکے ، جو اپنی سیکورٹی کو مضبوط نہیں کر سکے ، ہمارے بستے ، کاپیاں اور کتابیں سب خون آلودہ ہو گئیں لیکن کسی نے ہماری تکلیف کی پروا نہیں کی ۔

اور ایک طرف یہ دہشتگرد تھے جن کے دل پتھر کے تھے اورشاید ان کے اپنے بچے نہیں تھے جو ان کے دل میں ذرا برابر بھی رحم ہوتا ۔ مجھ سمیت ایک سو بتیس طالب علموں کو شہید کر دیا ، میری فیورٹ ٹیچر کو بھی مار دیا افسوس اب میں کسی کو آئیڈلائز نہیں کر سکتا کیونکہ میری فیورٹ ٹیچر بھی تو اب مٹی میں سو رہی ہیں  ۔

ماں میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ سب میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے اب خصوصی نغمے تیار کر رہے ہیں لیکن کیا ماں ہم دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی بجائے اپنے بچوں کو نہیں پڑھا سکتے تاکہ کوئی ایسا گندا آدمی نہ بن سکے ، ماں  آپ نے مجھے سمجھایا تھا کہ کوئی بھی اچھا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ماحول اسکو اچھا یا برا بناتا ہے پر ماں ’’ اچھے ‘‘ آدمیوں کی جگہ یہ ’’ گندے آدمی ‘‘ بہت زیادہ ہو گئے ہیں ناں ، جو پوری دنیا میں میرے جیسے بچوں کو مار رہے ہیں ، چاہے وہ شام ہو یا کشمیر یا فلسطین ۔۔

ماں آپ نے تو مجھے کہا تھا کہ صرف تم  اچھے بن جائو تو دنیا میں کم ازکم ایک برا آدمی پیدا نہیں ہو گا لیکن ماں میرےاچھا بننے سے تو کوئی فرق نہیں پڑا سب کے سب گندے آدمی بن گئے ، اور بندوق سے ہم سب کو مار دیا ، ماں آپ تو مجھے گھر میں بھی اپنے ساتھ سلاتی تھیں ناں کہ میں اکیلا ڈر جاتا تھا بس میں اسی لئے ایک پل کے لئے بھی یہاں خاک میں  نہیں سویا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ تم میری منتظر ہو اور کہیں سے میرے پاس آکرابھی  کہو گی کہ ’’ بس بیٹا میں آگئی میرا گورا پتر اداس نہ ہو ۔ ‘‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *