میری زندگی کا ایک یادگار واقعہ

khawaja-mazhar-nawaz-siddiqui
یادش بخیر! سال 2002 کا ذکر ہے. مجھے ذاتی کاروبار شروع کیے ابھی چند برس ہی ہوئے تھے. میں نے اپنے کاروبار کا ایک اور سال مکمل ہونے پر حساب کتاب دیکھا تو مجھے اس میں بہت اچھا نفع ملا تھا. میں بہت خوش ہوا. اس خوشی میں میں نے اپنے چند دوستوں کو ملتان کے سب سے اچھے ریسٹورنٹ میں عشائیہ دیا.
دعوت پر آئے میرے دو دوستوں (خالد اور کاشف) نے انتہائی مسرت بھرے لہجے میں مجھے خوش خبری سنائی کہ انہوں نے گورنمنٹ کی حج سکیم میں حج پر جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا تھا. آج ہونے والی قرعہ اندازی میں ان کا نام خوش نصیب افراد کی فہرست میں شامل ہے. وہ دونوں بہت خوشی سے مجھے بتا رہے تھے. میں بھی اس خبر کو سن کر بہت خوش ہوا. اس لمحے دونوں کو مبارکباد بھی پیش کی...
اس وقت میری عمر تیس سال تھی. دونوں دوست بھی میرے ہم عمر ہی تھے. مجھے اپنے ان دوستوں پر رشک آیا کہ کتنے خوش قسمت ہیں کہ جن کو رب نے اپنے گھر کی حاضری کے لیے منتخب فرمایا ہے. اس دعوت کے اختتام پر میں نے انہی دوستوں سے شکایت کی کہ آپ نے حج کی درخواست جمع کرواتے وقت مجھے کیوں نہیں بتایا. مجھے بھی ساتھ جانے کا کہتے تو میں کب پیچھے ہٹتا...یہ سن کر میرے دوست کاشف نے مشورہ دیا کہ تم پرائیویٹ طور پر حج پر جانے کے لیے اپلائے کرو... ہم وہاں حج اکٹھے کر لیں گے... ابھی تو موقع ہے...تم موقع سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اٹھا سکتے ہو.
اگلے دن میں ایک ٹریول ایجنسی کے دفتر گیا اور ان سے معلومات لینے کے بعد انہیں اپنا پاسپورٹ اور رقم جمع کروادی. ٹریول ایجنسی کے منیجر نے مجھے کہا کہ بس آپ اپنا بیگ تیار رکھیں. کسی بھی وقت آپ کو حج پر بھیج دیں گے. میرے عزیز و اقارب نے مجھے اپنے ہاں دعوتوں پر مدعو کرنا شروع کر دیا. کاوءنٹ ڈاوءن شروع ہو گیا اور دن گنے جانے لگے. حج سے ٹھیک ایک ماہ پہلے مجھے ٹریول ایجنٹ نے فون کیا تھا...اس نے مجھے کہا خواجہ صاحب! آپ کا ویزہ لگ گیا ہے... بہت جلد سیٹ کنفرم ہونے پر آپ کو بھیج دیں گے... میرے والدین، میری بیوی بچے سب بہت خوش تھے...
میری بھی خوشی کی انتہا نہ تھی... میرا تمام سامان مکمل تھا. بس اب اس دن کا بے چینی سے انتظار تھا کہ جب میں جہاز پہ سوار ہو کر حرمین جا پہنچوں گا...میں تصور میں خود کو مکہ معظمہ و مدینہ منورہ میں دیکھنے لگا... چشم تصور میں خانہ کعبہ کا طواف کرتا اور کبھی خود کو صفا مروہ کی سعی کرتے دیکھتا تھا. بس ہر وقت ایک ہی دھن سر پہ سوار تھی کہ جلدی سے مکہ جا پہنچوں.
میں ہر دوسرے دن اپنے ٹریول ایجنٹ کو فون کرتا اور معلوم کرتا کہ بھائی سیٹ کنفرم ہو گئی؟. وہ کہتا کہ بس کل پڑسوں میں ہو جائے گی. آپ فکر نہ کیجئے بلکہ تیار رہئے. بس جلد اللہ کا بلاوا آیا ہی چاہتا ہے.کرتے کرتے ذوالحج کا مہینہ شروع ہو گیا. امی ابو دعائیں کرتے اور میں بھی رو رو کر دعائیں کرتا. اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے شہر کے سرکردہ اور با اثر لوگوں سے پی آئی اے کے افسران کو فون کروائے مگر ایک سیٹ کا بند و بست نہ ہو سکا.
روز و شب اسی سوچ میں ہی دماغ کام کر رہا تھا کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا...بلآخر مجھے اچانک یاد آیا کہ میں کراچی کی جس کمپنی سے کاروبار کرتا ہوں. اس کمپنی کے مالک کے ایک قریبی عزیز پی آئی اے کے بہت بڑے افسر ہیں. بس پھر کیا تھا. جلد ہی ان سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے کہا بھائی صاحب! یہ بھی کوئی مسئلہ ہے. بس آپ اپنا سفری بیگ تیار رکھو. میں نے انہیں صبح کے وقت فون کیا تھا. اس کے ساتھ ہی میں نے اللہ کے حضور دو رکعت صلوۃ حاجت ادا کی، اور اپنے اللہ سے مدد کی درخواست کی. ہونی ہو کر رہتی ہے.
اسی دن دوپہر کو کراچی سے فون آ گیا کہ آپ آج رات ملتان کی فلائٹ  سے کراچی پہنچو. وہاں سے آپ کی کراچی سے جدہ کی فلائٹ ہو گی. میں فورا ٹریول ایجنسی جا پہنچا. میرے ٹریول ایجنٹ نے مجھے پاسپورٹ اور ٹکٹ دیئے. اور ساتھ میں دس ہزار روپے اپنی طرف سے انعام بھی دیا. اس کا کہنا تھا کہ آپ خوش نصیب ہیں. میں نے وزیروں تک سے سفارش کروائی مگر سیٹ کنفرم نہ ہو سکی. اور وہ بتانے لگا کہ میں مایوس ہو گیا تھا اور سمجھتا تھا کہ آپ کی قسمت میں حج لکھا ہی نہیں ہوا. مگر یہ عجوبہ ہوا کہ آپ کو سیٹ مل گئی ہے.
خدا کا کرم اور والدین کی دعائیں کام آئیں اور میں حج سے پانچ دن پہلے مکہ پہنچ ہی گیا تھا. یہ میری زندگی کا یاد گار واقعہ ہے. جو مجھے کسی صورت نہیں بھولتا... اس کے بعد اللہ کے گھر اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہونے کی سعادت کئی بار حاصل ہوچکی ہے. مگر وہ پہلی دفعہ کا جو سفر تھا وہ کس قدر ناممکن ہو گیا تھا. آج بھی وہ وقت اور لمحے میں کبھی نہیں بھلا سکتا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *