معین اختر۔ ۔ ۔ہم تم کو نہیں بھولے

Moin Akhtar

شہرت کی چوٹی پہ پہنچ جانا تو آسان ہے لیکن وہاں ٹِکے رہنا بہت مشکل
شو بِز کی دنیا میں یہ بات محاورے کی طرح مشہور ہے ۔کیونکہ شہرت و مقبولیت ایک ہر جائی محبوبہ کی طرح کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔لیکن معین اختر کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس ہرجائی محبوبہ کو رام کر چُکے تھے۔ اور سن ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں کامیابی کا جو تاج معین اختر کے سر پہ سجا دیا گیا تھا اسے معین اختر نے آخری لمحے تک گِرنے نہیں دیا۔
وہ لفظ لفظ کمال تھا
پیکرِحسن و جمال تھا
معین اختر کے لفظی معنیٰ 'مددگار ستارہ' کے ہیں۔ اور ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے نام کی لاج رکھی۔ دنیا معین اختر کو ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے جانتی ہے، جبکہ وہ ایک سخی شخص تھے۔ہر ضرورت مند شخص کے لیے وہ ایک گمنام مددگار تھے۔ان میں دوسروں کی مشکلات اور مسائل سمجھنے کی حیرت انگیز صلاحیت تھی۔ وہ لوگوں کی دلجوئی کرتے، ان کے غموں کو اپنا غم سمجھتے، اور ان کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے۔
ان کی کرشماتی اور زندگی سے بھرپور شخصیت کا الفاظ میں احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ کھل کر مزاح کرنے والے معین اختر پرجوش، خوش مزاج، میل جول رکھنے والے، اور زندگی کی نفیس چیزوں کا مزہ لینے والے شخص تھے۔ جبکہ اپنے آپ میں خوش رہنے والے معین اختر منکسر، خاموش، تنہائی پسند، اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش رہنے والے شخص تھے۔
24 دسمبر کو دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہونے والے معین اختر نے 16 برس کی عمر میں اسٹیج سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا اور حاضرین کے دل جیتے۔
پاکستان کی کامیڈی کے کینوس پر چند ایسے رنگ بکھرے ہیں جن کے بغیر پاکستانی شوبز کامیڈی ادھوری ہے۔ مصنف لفظ تو لکھ ہی دیتا ہے مگر لکھے ہوئے لفظ کے تقاضے پورے کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔معین اخترایک ایسا نام ، جنہوں نے اسٹینڈ اپ کامیڈی سے کیرئیر کا آغاز کیا۔
ابھی کراچی میں ٹیلی ویژن شروع نہیں ہوا تھا اس لئے ریڈیو کے بعد اسٹیج ہی فن کے اظہار کا ایک ذریعہ تھا۔
ٹیلی ویژن کی آمد کے ساتھ ہی معین اختر کا فن اسٹیج کی تنگنائے سے نکل کر لوگوں کے ڈرائنگ روم تک پھیل گیا اور سنہ انیس سو ستر تک معین اختر پاکستانی ناظرین کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن گئے۔
انیس سو ستر کے انتخابات کے دوران ٹیلی ویژن پر پیش کئے جانے والے خاکوں میں معین نے اپنے کئی نئے رنگ دکھائے اور یوں ستّر کی دہائی اُن کے بامِ عروج پر پہنچنے کا زمانہ ٹھہرا۔
نقالی کی صلاحیت کو اداکاری کا سب سے پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اداکاری کی معراج نہیں ہے۔ یہ سبق معین اختر نے اپنے کیرئر کی ابتداء ہی میں سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ نقالی کے فن میں ید طولٰی حاصل کرنے کے باوجود اس نے خود کو اس مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔انہوں نے ٹی وی پر شائقین کو مزاح کے ایک نئے انداز سے بھی روشناس کرایا جو کہ ان ہی کا خاصا تھا۔
معین اختر کی داستانِ حیات ایک طرح سے پاکستان ٹیلی ویژن کی اپنی جیون کتھا بھی ہے۔ دونوں ایک ساتھ منظرِ عام پر آئے۔ دونوں نے اکٹھے مقبولیت اور شہرت کا سفر کیا اور دونوں کا نام دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں تک ایک ساتھ پہنچا اور پھر میڈیا کے بدلتے ہوئے عالمی منظر نے جو نئے چیلنج پیش کئے، اُن سے بھی دونوں ایک ساتھ نبرد آزما ہوئے۔
مختلف ڈراموں میں منچلے نوجوان سے لیکر ایک سنکی بڈ ّھے تک کے جو کردار انھوں نے ادا کئے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ معین اختر کا فن ایک نقّال کی محدود چاردیواری توڑ کر فن کے وسیع و عریض میدان میں آنکلا ہے اور اس میدان میں مِس روزی کا کردار ایک ایسا چیلنج ثابت ہوا جسے قبول کر کے معین اختر نے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں سے بھی داد وصول کر لی۔ جس کردار کو ڈسٹن ہاف مین جیسا نابغہء روزگار اداکار بڑی سکرین پر ادا کر چکا ہو، اور دنیا بھر سے اسکی داد بھی بٹور چکا ہو، اُسے پھر سے ٹیلی ویژن پر ادا کرنا ’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘
معین اختر نے اگرچہ کئی بار بھارت جا کر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے ہوتے تو شاید بمبئی کی تماشہ گاہ بھی معین اختر کے سِحر سے نہ بچ سکتی لیکن بھارتی فنکاروں پر دھاک بٹھانے کے لئے معین اختر کو پھر بھی ایک راستہ مل گیا، دوبئی کا راستہ۔
معین اختر نے مشرقِ وسطٰی میں کئی بار شو منعقد کئے اور برِصغیر کے سب سے بڑے ادا کار دلیپ کمار تک کو اپنا فین بنا لیا۔ دلیپ کمار نے فاطمی فاؤنڈیشن کے لئے جب بھی بین الاقوامی شو منعقد کئے، کمپئر کے طور پر معین اختر کو مدعو کیا اور معین کسی معاوضے کی پروا کئے بغیر خون کے عطیات جمع کرنے والی اس انجمن کا خیراتی کام پوری دلجمی سے کرتے رہے۔
اُردو معین کی اپنی زبان تھی لیکن بنگالی، سندھی، میمنی اور گجراتی سے انھوں نے محض فنکارانہ ضرویات کے تحت شناسائی پیدا کی اور ان زبانوں کے لہجے اور تلفظ پر ایسا عبور حاصل کیا کہ اہلِ زبان کو بھی انگشت بدنداں کر دیا۔ بعد میں انھوں نے پشتو اور پنجابی کے لہجوں پر بھی کام کیا اور جب جب موقعہ مِلا اِن لہجوں میں بھی اپنی مہارت کا مظاہرہ بھی کیا۔ان کے یادگار ڈراموں میں روزی، ہاف پلیٹ، شو ٹائم، اسٹوڈیو ڈھائی، ففٹی ففٹی، آنگن ٹیڑھا، انتظار فرمائیے اور عید ٹرین شامل ہیں۔معین اختر کو ان کی ہمہ جہت فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی اہم قومی اور بین الاقوامی سطح ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
پاکستان کے لئے فخر کا باعث بننے والا یہ فنکار تو 2011 کو آج ہی کے روز کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے لیکن ان کی یادیں آج بھی کروڑوں مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
؎ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے

‫Jugtan - وہ لمحہ جب معین اختر نے لکس ایوارڈز میں لوگوں کو... | Facebook‬

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *